کیا مشین ذائقہ محسوس کر سکتی ہے؟
شارق علی
ویلیوورسٹی
فرض کیجیے کہ میں اور آپ کسی دعوت میں ساتھ بیٹھے ہوے ہیں، اور میں آپ سے پوچھوں: کھانا کیسا لگا؟” آپ کے لیے فوراً جواب دینا آسان ہو گا۔ ممکن ہے اپ کہیں بہت مزیدار، یا کہیں کے نمک کچھ کم ہے، یا یہ کہ اس میں گھر جیسی بات نہیں۔ اپ کا یہ جواب صرف زبان اور ذائقے سے نہیں آرہا بلکہ اس میں آپ کی اپنی پسند و ناپسند، آپ کی پرورشی غذا، آپ کی اچھی بری یادیں اور آپ کا ثقافتی پس منظر سب کچھ شامل ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی کام کوئی مشین بھی کر سکتی ہے؟
آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) نے حیران کن ترقی کی ہے۔ سائنسدان ایسے سسٹمز بنا رہے ہیں جن میں خاص قسم کے کیمیائی سینسرز ہوتے ہیں، جو مختلف ذائقوں مثلاً میٹھا، کھٹا، کڑوا اور نمکین، کی شناخت کر سکتے ہیں۔ یہ مشینیں کھانے کے اجزاء کا تجزیہ کر کے اندازہ لگا سکتی ہیں کہ ذائقہ کیسا ہو سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم فرق پھر بھی باقی رہتا ہے۔ انسان کے لیے ذائقہ صرف ایک کیمیائی تجربہ نہیں، بلکہ ایک مکمل احساساتی عمل ہے۔ اس تجربے میں خوشبو، ماحول، یادیں، اور جذبات بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایک ہی کھانا کسی کو اپنے بچپن کی یاد دلا سکتا ہے، اور کسی دوسرے کے لیے وہ بالکل عام سا ہو سکتا ہے۔
آرٹیفشل انٹیلیجنس اس انسانی تجربے کی
گہرائی کو مکمل طور پر محسوس نہیں کر سکتی، مگر یہ بڑی مقدار میں موجود ڈیٹا کو سمجھ کر ذائقے کے رجحانات ضرور پہچان سکتی ہے۔
اسی لیے فوڈ انڈسٹری میں AI کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ نئے ذائقے بنانے اور لوگوں کی پسند کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے۔
یوں لگتا ہے کہ مشینیں ذائقے کو “سمجھنے” کے قریب تو آ رہی ہیں، مگر اسے “محسوس” کرنا اب بھی انسان ہی کا ہنر ہے۔
