مینارا باغ,بارہویں قسط
مراکش کے رنگ
شارق علی
ویلیوورسٹی
شاپنگ پلازہ سے واپسی پر ہمیں ایک کشادہ چوک نظر آیا جس میں داخل ہونے کے لیے ایک سرخ مٹیالے دروازے، یا باب، سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا۔ چوک میں داخل ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے موجودہ دور سے نکل کر اچانک نو سو سال پیچھے چلے گئے ہوں۔
اسی چوک کے دائیں جانب ایک بڑا سا لوہے کا پھاٹک کھلا ہوا تھا۔ یہ دروازہ ایک بہت وسیع و عریض باغ میں کھلتا تھا۔ ہم اس میں داخل ہوئے اور کچھ دور چلے تو ہمیں محسوس ہو گیا کہ ہم کسی عام باغ میں نہیں بلکہ تاریخ کے ایک زندہ باب میں چہل قدمی کر رہے ہیں۔
بارہویں صدی میں الموحد حکمرانوں نے جب مراکش کو اپنا دارالحکومت بنایا تو شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور خشک آب و ہوا کے پیشِ نظر ایک عظیم زرعی اور آبی منصوبہ شروع کیا۔ اسی منصوبے کا ایک حصہ یہ باغ بھی تھا۔ اس کا قدیم نام بساتین المنارة تھا، یعنی ’’مینار کے باغات‘‘، جو وقت گزرنے کے ساتھ مختصراً مینارا باغ کے نام سے مشہور ہو گیا۔
کہا جاتا ہے کہ تقریباً نو سو سال قبل انجینئروں نے اٹلس پہاڑوں سے پانی زیرِ زمین نہروں کے ذریعے یہاں تک پہنچانے کا انتظام کیا۔ ان نہروں کو ’’خطارہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض نظام آج بھی کام کر رہے ہیں۔ اس دور میں، جب یورپ کے بہت سے شہروں میں نکاسیٔ آب اور آب رسانی کے بنیادی نظام بھی مکمل طور پر موجود نہیں تھے، مراکش کے معمار اور انجینئر میلوں دور سے پانی لا کر اس خشک میدان کو سرسبز باغ میں تبدیل کر رہے تھے۔
یہ باغ صرف سیر و تفریح کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ یہاں زیتون کے ہزاروں درخت لگائے گئے تھے جن کا تیل شاہی دربار، فوج اور شہری آبادی کی ضروریات پوری کرتا تھا۔ یوں یہ باغ حسن اور معیشت، دونوں کا مرکز تھا۔
ہم باغ میں کچھ دیر چہل قدمی کے بعد ایک بینچ پر بیٹھ گئے جس کے اردگرد سرسبز و شاداب درخت لہلہا رہے تھے۔
کھجوروں کی بلند قامت قطاروں کے درمیان رکھی اس بینچ پر بیٹھے مجھے خیال آیا کہ انہی راستوں پر کبھی الموحد سلاطین کے قافلے گزرے ہوں گے۔ شاید کسی دوپہر ایک سلطان نے یہیں بیٹھ کر ریاستی معاملات پر غور کیا ہو، یا اس دور کے کسی شاعر نے انہی درختوں کے سائے تلے اپنی نظم کا کوئی مصرع تراشا ہو۔ نو سو برس کے دوران سلطنتیں بدل گئیں، حکمران گزر گئے، جنگیں ہوئیں، تجارت کے راستے تبدیل ہوئے، لیکن یہ باغ خاموشی سے اپنی جگہ قائم رہا۔
اردگرد کے درختوں پر سنگتروں کی موجودگی خاص طور پر دلکش تھی۔ ان کی ہلکی سی خوشبو ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔ دور کہیں ایک فاختہ بول رہی تھی اور چند چھوٹے پرندے شاخوں کے درمیان پھدک رہے تھے۔
مراکش افریقہ اور یورپ کے درمیان واقع ایک اہم حیاتیاتی راہداری ہے۔ ہر سال لاکھوں مہاجر پرندے اس خطے سے گزرتے ہیں۔ ان باغات اور سبز مقامات کی موجودگی ان مسافروں کے لیے عارضی پناہ گاہ کا کام کرتی ہے۔
مجھے ہمیشہ ایسے مقامات پسند آئے ہیں جہاں فطرت اور تاریخ ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیں۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ایک طرف درختوں کی خاموش سرگوشیاں تھیں اور دوسری طرف صدیوں پر محیط انسانی محنت اور تخلیقی صلاحیت کی داستان۔ یہ باغ دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ تہذیبیں صرف محلات اور قلعوں سے نہیں بنتیں، بلکہ پانی کی نہروں، باغات، درختوں اور ان عام لوگوں کی محنت سے بھی تشکیل پاتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے سایہ دار یادگاریں چھوڑ جاتے ہیں۔
مینارا باغ سے نکل کر ہم دوبارہ ہوٹل کی سمت پیدل چلنے لگے۔ دھوپ میں اب تک شدت نہ تھی۔ مراکش کی کشادہ سڑکوں پر زندگی معمول کے رنگوں میں رواں تھی۔ ابھی چند ہی قدم چلے ہوں گے کہ سڑک کے کنارے پھلوں اور سبزیوں کی ایک دلکش دکان نظر آئی۔
دکان کے باہر فٹ پاتھ پر لکڑی کے کریٹوں اور ٹوکریوں میں رنگ ہی رنگ بکھرے ہوئے تھے۔
سرخ ٹماٹر، نارنجی سنگترے، سبز سیب، گہرے جامنی انگور، گلابی آڑو، زرد خوبانیاں، سرخ انار اور مختلف اقسام کے خربوزے ایک دوسرے کے ساتھ یوں سجے تھے جیسے کسی مصور کا شاہکار۔
قریب ہی تازہ سبزیوں کا میلہ لگا تھا؛ ہرے بھرے شملہ مرچ، زوکینی، بینگن، گاجر، سلاد کے پتے اور خوشبودار جڑی بوٹیاں۔ ہر جانب موسمِ بہار کا سا منظر تھا۔
ہم کچھ دیر وہیں کھڑے اس منظر کو دیکھتے رہے۔
مراکش کی زمین زرخیز و فیاض ہے۔ یہاں کے وسیع میدانوں اور معتدل موسم کی بدولت یہ ملک دنیا کے اہم زرعی ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
مراکشی سنگترے اور کینو یورپ تک برآمد کیے جاتے ہیں۔ زیتون یہاں کی معیشت اور ثقافت، دونوں کا اہم حصہ ہیں۔ انگور، آڑو، انجیر، انار اور کھجوریں بھی کثرت سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مراکش کے بازاروں میں پھل اور سبزیاں صرف خوراک نہیں بلکہ ایک تہذیبی منظر کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔
ہم نے بھی کچھ تازہ انگور، چند خوشبودار سنگترے اور چند نرم و ملائم آڑو خرید لیے۔ دکاندار نے مسکراتے ہوئے انہیں ہمارے لیے ایک تھیلے میں رکھا اور ہم واپس ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئے۔
کمرے میں پہنچ کر فیصلہ کیا گیا کہ آج باقاعدہ دوپہر کے کھانے سے پرہیز کیا جائے اور تازہ پھلوں پر اکتفا کیا جائے۔
شام چار بجے ہمارے صحرائی ٹور کا آغاز ہونا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ صحرا میں رات کے پرتکلف کھانے کا خاص انتظام ہو گا۔
۔۔۔ جاری ہے
