Skip to content
Home » Blog » مذہب یا تہذیب، پہلے کون؟

مذہب یا تہذیب، پہلے کون؟

  • by

مذہب یا تہذیب، پہلے کون؟

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہم میں سے اکثر نے تاریخِ انسانی کا ایک مشہور تصور سنا ہے۔
پہلے انسان جنگلوں میں چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں رہتے تھے۔ پھر زراعت آئی، گاؤں بنے، شہر وجود میں آئے، لکھائی ایجاد ہوئی، ریاستیں قائم ہوئیں… اور اسی کے درمیان کہیں منظم مذاہب یا Organized Religions پیدا ہوئے۔

یہ تصور کئی دہائیوں تک ماہرینِ بشریات اور تاریخ دانوں میں مقبول رہا۔ لیکن جدید آثارِ قدیمہ نے اس کہانی کو جزوی طور پر بدل دیا ہے۔

ترکی میں موجود ایک حیرت انگیز مقام، Göbekli Tepe نے انسانی تاریخ کے بارے میں ہماری کئی پرانی سوچوں کو چیلنج کر دیا ہے۔

یہ مقام تقریباً 11 سے 12 ہزار سال پرانا سمجھا جاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ اُس دور کا ہے جب انسان ابھی مکمل زرعی معاشرے میں داخل نہیں ہوا تھا۔ یعنی زیادہ تر لوگ اب بھی Hunter-Gatherers تھے۔ وہ شکار کرتے تھے، جنگلی پودے جمع کرتے تھے، اور مستقل شہروں میں نہیں رہتے تھے۔ لیکن اس مقام پر جو چیز ملی، اُس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا۔

بڑے بڑے پتھریلے ستون… ان پر جانوروں کی نقش و نگاری… ایک منظم تعمیراتی ترتیب… اور ایسے آثار جو اجتماعی عبادت، رسومات یا روحانی اجتماعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

گویا انسان صرف خوراک اور بقا کے لیے اکٹھا نہیں ہوتا تھا… بلکہ شاید زندگی میں “معنی” کی تلاش میں بھی اکٹھا ہوتا تھا۔

کچھ ماہرین اب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مذہب نے تہذیب کو جنم دیا؟
یا تہذیب نے مذہب کو؟

ممکن ہے انسان پہلے روحانی یا مذہبی اجتماعات کے لیے اکٹھا ہوا ہو، اور انہی مستقل میل جول نے بعد میں زراعت، بستیاں اور شہروں کی بنیاد رکھی ہو۔

یہ خیال دلچسپ بھی ہے اور انسان کے بارے میں ہماری سوچ کو گہرا بھی کرتا ہے۔

ہم عام طور پر مذہب کو صرف عقائد یا عبادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، لیکن انسانی ارتقاء کے سفر میں مذہب شاید ایک سماجی “گلو” (گوند) بھی تھا۔ ایک ایسی قوت جس نے اجنبی انسانوں کو مشترکہ کہانی، مشترکہ خوف، مشترکہ امید اور مشترکہ مقصد کے تحت جوڑ دیا۔

اسی لیے Organized Religion کوئی نئی چیز نہیں۔
یہ انسانی ذہن کی اُن قدیم ترین کوششوں میں سے ایک ہو سکتی ہے جن کے ذریعے انسان نے کائنات، موت، خوف، قدرت اور اپنے وجود کو سمجھنے کی کوشش کی۔

شاید انسان نے پہلا شہر بنانے سے پہلے…
پہلا مقدس مقام بنایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *