Skip to content
Home » Blog » محبت ہی نیکی, نطشے سے متاثر لٹریری نان فکشن

محبت ہی نیکی, نطشے سے متاثر لٹریری نان فکشن

  • by

محبت ہی نیکی
نطشے سے متاثر لٹریری نان فکشن

دوسری کہانی

شارق علی
ویلیوورسٹی

کھچڑی رنگ کی دراز داڑھی، ماتھے پر شکنیں، سفید کرتا اور اونچے پائنچوں کا پاجامہ۔ یہ تھے پانچویں جماعت میں ہمارے دینیات کے استاد۔ ایک دن نماز اور دیگر عبادات نہ کرنے والوں کے جہنم کی آگ میں جلنے کا ہولناک منظر بیان کرنے کے بعد انہوں نے ہمیں کلاس ورک دیا اور خود خاموشی سے بیٹھ کر کاپیاں چیک کرنے لگے۔

میرے دوست سہیل نے سرگوشی میں پوچھا: ’’کیا خدا ہم بچوں کو آگ میں جلائے گا؟‘‘ میں نے سرگوشی میں جواب دیا: ’’میری امی کہتی ہیں کہ خدا بندوں سے محبت کرتا ہے۔ ماں باپ جیسی محبت۔ وہ بھلا کیسے جلا سکتا ہے؟‘‘

یہ سرگوشیاں استاد نے سن لیں۔

کہنے لگے: ’’خوف نہیں ہوگا تو نیکی نہیں ہوگی۔‘‘

میں، پانچویں جماعت کا گیارہ سالہ بچہ، ڈٹ گیا اور اپنی امی سے سیکھا ہوا سبق دہرایا: ’’سر، محبت ہی اصل نیکی ہے۔‘‘

اس دن میری خوب پٹائی ہوئی۔

مار کھانے کے دوران اپنے دل کا اطمینان اور مکمل بے خوفی مجھے آج بھی یاد ہے۔

’’سر، محبت ہی اصل نیکی ہے۔‘‘

بے خوفی کے اس لمحے میں خدا سے میرا تعلق محبت کے ذریعے استوار ہوا۔

برسوں بعد نطشے کی کتاب ’’زرتشت نے یوں کہا‘‘ میں شیر کا استعارہ پڑھا تو دینیات کی وہ کلاس یاد آئی۔

پہلی کہانی میں ہم نے نطشے کے فلسفے میں موجود اونٹ کے استعارے کی بات کی تھی۔ اس قوت کی، جو ذمہ داریاں اٹھاتی ہے، محنت کرتی ہے اور بوجھ کے ساتھ چلنا سیکھتی ہے۔ لیکن انسان کی اندرونی زندگی میں ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب وہ اپنے اٹھائے ہوئے بوجھ کو جانچتا ہے۔ کیا یہ ذمہ داری میں نے اپنی سمجھ اور رضا سے قبول کی ہے؟ کیا مجھے اس پر سوال کرنے کا حق حاصل ہے؟

نطشے کے ہاں شیر اسی آزادی کی جستجو کا استعارہ ہے۔ اس کے سامنے ایک اژدہا ہے جو کہتا ہے: ’’تمہیں یہ کرنا چاہیے۔‘‘ اس کے مقابل شیر اپنی مرضی اور انتخاب کا حق منواتا ہے۔ وہ ہر حکم کو صرف اس لیے قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ وہ پرانا ہے یا اسے کسی بااختیار آواز نے سنایا ہے۔

شیر ابھی نئی قدریں تخلیق نہیں کر رہا۔ وہ اس کام کے لیے آزادی حاصل کر رہا ہے۔ سوچنے، جانچنے اور اپنے جواب تک پہنچنے کی جگہ بنا رہا ہے۔

نطشے کے فلسفے کا دائرہ میرے بچپن کی اس یاد سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ لیکن ایک بچے کا یہ اصرار کہ وہ سنی ہوئی بات کو اپنی سمجھ کی کسوٹی پر بھی پرکھے گا، مجھے اس استعارے کے قریب محسوس ہوتا ہے۔

نطشے کے شیر کی جرأت صرف دوسروں کے حکم کو رد کرنا نہیں، بلکہ ان قدروں پر بھی سوال اٹھانا ہے جنہیں وہ خود کبھی مقدس سمجھتا تھا۔ اس لیے آزادی کی یہ جدوجہد اپنے اندر بھی لڑی جاتی ہے۔ جس بات کو ماننے کی عادت پڑ چکی ہو، اسے جانچنا اور ضرورت پڑنے پر اس سے دست بردار ہونا بھی ہمت مانگتا ہے۔

اپنی بات کہنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب ہمارا سامنا طاقت اور اختیار سے ہو اور اختلاف کی قیمت ادا کرنا پڑے۔

شیر کا استعارہ اس لمحے کی یاد دلاتا ہے جب انسان اس قیمت کے باوجود اپنے اندر اٹھنے والے سوال کو زبان دیتا ہے۔

آزادی حاصل کر لینا سفر کا آخری مرحلہ نہیں۔ اس آزادی کے ساتھ ہم کیسی زندگی تشکیل دیتے ہیں؟ کن قدروں کو سوچ سمجھ کر قبول کرتے ہیں، اور کیا نیا تخلیق کرتے ہیں؟

اگلی کہانی میں ہم نطشے کے بچے کے استعارے کی طرف آئیں گے۔ اس نئی ابتدا کی طرف، جہاں انسان اپنے حاصل کیے ہوئے اختیار سے زندگی کو ایک تخلیقی جواز دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *