Skip to content
Home » Blog » محبت کا بوجھ, نطشے کے فلسفے سے متاثر لٹریری نان فکشن

محبت کا بوجھ, نطشے کے فلسفے سے متاثر لٹریری نان فکشن

  • by

محبت کا بوجھ
نطشے کے فلسفے سے متاثر لٹریری نان فکشن

پہلی کہانی

شارق علی
ویلیوورسٹی

وہ ہمارے رشتے دار تھے۔ میرے والد کے کزن، جنہیں ہم چچا کہتے تھے۔ ہمارے بچپن نے ہمیشہ انہیں زور سے قہقہہ لگاتے، ہنستے مسکراتے اور بلند آواز میں باتیں کرتے دیکھا۔

کراچی کے ان گنت متوسط طبقے کے لوگوں کی طرح ان کی زندگی بہت مشکل تھی۔ صبح کسی سرکاری دفتر میں کام کرتے۔ چار بجے چھٹی کے بعد دوسری ملازمت کے لیے پندرہ میل دور حکیم سعید کے دواخانے جاتے، جہاں وہ حساب کتاب کا کام کرتے تھے۔

یہ دواخانہ ہمارے گھر سے زیادہ دور نہ تھا۔ کام جلد ختم ہو جاتا تو کبھی ہمارے گھر آ جاتے۔ ابا اور امی کے ساتھ چائے پیتے، بات بات پر زور کا قہقہہ لگاتے۔ ہم بچوں سے باتیں کرتے۔ پھر اپنی ہونڈا سیونٹی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اپنے گھر چلے جاتے، جو پندرہ بیس میل کے فاصلے پر کراچی کے مضافات میں تھا۔

ان کی تین بیٹیاں تھیں۔ ان کی تعلیم اور شادی کی فکر سر پر سوار رہتی۔ دو ملازمتیں، شہر کے طویل فاصلے، بے ہنگم ٹریفک اور گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ۔ اس قدر مشکل زندگی کے باوجود میں نے انہیں ہمیشہ ہنستے مسکراتے، قہقہے لگاتے ہی دیکھا۔

نطشے کی کتاب ’’زرتشت نے یوں کہا‘‘ میں اونٹ کا استعارہ پڑھتا ہوں تو مجھے چچا یاد آتے ہیں۔

انیسویں صدی کا جرمن فلسفی فریڈرک نطشے انسان کو اپنی مانی ہوئی قدروں کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ ہم جسے اچھا، برا یا اپنا فرض سمجھتے ہیں، کیا ہم ان اقدار کو سوچ سمجھ کر قبول کرتے ہیں؟ یا صرف اس لیے مانتے ہیں کہ ہمیں ہمیشہ یہی سکھایا گیا ہے؟

نطشے کے فلسفے میں اپنی موجودہ ذات سے آگے بڑھنے، اپنی سوچ کو آزمانے اور زندگی کی ذمہ داری خود قبول کرنے کی بڑی اہمیت ہے۔

’’زرتشت نے یوں کہا‘‘ میں وہ انسانی روح کی تبدیلی کو تین علامتوں سے بیان کرتا ہے: اونٹ، شیر اور بچہ۔ یہاں روح سے مراد انسان کی اندرونی، فکری اور اخلاقی زندگی ہے۔

اونٹ اس روح کی علامت ہے جس میں احترام، برداشت اور بھاری بوجھ اٹھانے کی قوت موجود ہو۔ وہ مشکل ذمہ داریوں سے بھاگتی نہیں، بلکہ انہیں اٹھا کر اپنی طاقت آزماتی ہے۔ اس مرحلے میں انسان سیکھتا ہے، نظم و ضبط اختیار کرتا ہے اور ایسے تقاضے قبول کرتا ہے جنہیں وہ اپنے سے بڑا سمجھتا ہے۔

مگر نطشے کے ہاں انسان کا سفر یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اگلے مرحلے میں شیر آزادی حاصل کرنے کے لیے حکم دینے والی قوت کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ اس آواز کو چیلنج کرتا ہے جو مسلسل کہتی ہے: ’’تمہیں یہ کرنا چاہیے۔‘‘ شیر اپنے انتخاب کے لیے جگہ بناتا ہے۔ پھر بچہ نئی ابتدا، تخلیق اور زندگی کو اپنی طرف سے قبول کرنے کی علامت بنتا ہے۔

یوں یہ سفر بوجھ اٹھانے سے اپنی آزادی حاصل کرنے، اور پھر نئی قدریں تخلیق کرنے تک جاتا ہے۔

چچا کی زندگی کو اس استعارے کے ساتھ دیکھتا ہوں تو ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا ان کی ساری محنت صرف سماجی احکام کی تعمیل تھی؟

ان کے حالات میں معاشی مجبوری بھی تھی اور معاشرے کی توقعات بھی۔ مگر اس میں اپنے گھر والوں سے گہری محبت بھی شامل تھی۔ بیٹیوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے اٹھایا ہوا بوجھ ان کی اپنی چاہت کا حصہ بھی تھا۔

یہاں نطشے کے استعارے کو دیکھتے ہوئے میں اپنی طرف سے ایک انسانی پہلو شامل کرتا ہوں۔ بوجھ اٹھانے والا شخص محض کسی حکم کا پابند نہیں ہوتا۔ کبھی، یا شاید اکثر، وہ اپنی محبتوں کے زیرِ اثر شعوری طور پر ذمہ داری کا بوجھ قبول کرتا ہے۔ سماجی تقاضے اور ذاتی محبت، دونوں ایک ہی زندگی میں ساتھ ساتھ موجود ہو سکتے ہیں۔

محبت بوجھ اور محنت کو بامعنی بنا دیتی ہے، لیکن اسے سماجی اقدار پر سوال اٹھانے کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ ہم جن سے محبت کرتے ہیں، ان کے لیے محنت بھی کر سکتے ہیں اور ان توقعات کو جانچ بھی سکتے ہیں جو ان کی اور ہماری زندگی کو غیر ضروری طور پر مشکل بناتی ہیں۔

چچا اب اس دنیا میں نہیں، لیکن ان کی تینوں بیٹیاں کینیڈا اور امریکہ میں برسرِ روزگار ہیں اور خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کی زندگیوں کو دیکھتا ہوں تو چچا کی طویل مسافتوں اور محنت میں چھپی محبت کا ثمر دکھائی دیتا ہے۔

اگلی کہانی میں ہم نطشے کے شیر کے استعارے پر بات کریں گے۔ اس انسان کی بات، جو بلا سوچے سمجھے سماجی تقاضوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کرتا ہے اور اپنے انتخاب کی آزادی کے لیے شیر کی طرح ڈٹ جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *