Skip to content
Home » Blog » قدرت: ماہر انجینئر یا جگاڑ کے فن میں یکتا کاریگر؟

قدرت: ماہر انجینئر یا جگاڑ کے فن میں یکتا کاریگر؟

قدرت: ماہر انجینئر یا جگاڑ کے فن میں یکتا کاریگر؟

ڈاکٹر شارق علی
ویلیوورسٹی

فرض کیجیے آپ جنگل میں چہل قدمی کر رہے ہیں کہ اچانک آپ کی نظر ایک ایسی گھڑی پر پڑتی ہے جو نہایت درستگی کے ساتھ وقت بتا رہی ہے۔ آپ فوراً یہ نتیجہ نکالیں گے کہ اسے کسی ماہر انجینئر نے بڑی مہارت سے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔ آپ کے ذہن میں یہ خیال ہرگز نہیں آئے گا کہ یہ گھڑی اتفاقاً کسی درخت پر اُگ آئی ہوگی۔ صدیوں تک یہی استدلال کائنات اور جانداروں کی حیرت انگیز پیچیدگی کو سمجھانے کے لیے پیش کیا جاتا رہا۔ کہا جاتا تھا کہ اتنا منظم، متوازن اور پیچیدہ نظام لازماً کسی کامل ڈیزائنر کی تخلیق ہوگا۔

لیکن ارتقائی حیاتیات ہمیں ایک بالکل مختلف منظرنامہ دکھاتی ہے۔ اس کے مطابق قدرت ہر بار صفر سے آغاز نہیں کرتی۔ وہ پہلے سے موجود ساختوں ہی کو بنیاد بناتی ہے، ان میں معمولی معمولی تبدیلیاں کرتی ہے، انہیں نئے حالات کے مطابق ڈھالتی ہے، اور یوں لاکھوں برس کے سفر میں نئے جاندار وجود میں آتے رہتے ہیں۔ ہر نسل اپنے آباؤ اجداد کا حیاتیاتی ورثہ اپنے ساتھ لاتی ہے اور اسی میں معمولی ترمیم و اضافے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ اس لحاظ سے قدرت کسی ایسے انجینئر سے کم اور ایک ایسے غیر معمولی کاریگر سے زیادہ مشابہ دکھائی دیتی ہے جو ہر نئے مسئلے کا حل نئے پرزے بنا کر نہیں بلکہ موجودہ پرزوں کو نئی صورت دے کر تلاش کرتا ہے۔

سمندری کچھوا اس کی ایک خوب صورت مثال ہے۔ اس کے چوڑے اور طاقتور فِن سمندر میں تیرنے کے لیے بہترین ہیں، مگر یہی فِن اس وقت بے حد غیر موزوں محسوس ہوتے ہیں جب مادہ کچھوا ساحل پر آ کر اپنے انڈوں کے لیے ریت میں گڑھا کھودتی ہے۔ یہ عمل سست بھی ہے، دشوار بھی اور خاصا مشقت طلب بھی۔ اگر ہر جاندار کو ہر مقصد کے لیے ابتدا ہی سے نئے سرے سے ڈیزائن کیا جاتا تو شاید سمندر میں تیرنے اور خشکی پر انڈے دینے کے لیے الگ الگ، زیادہ مؤثر ساختیں وجود میں آتیں۔ مگر ارتقا ایسا نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ اسی مواد سے کام لیتا ہے جو پہلے سے اس کے پاس موجود ہوتا ہے۔

انسانی جسم بھی یہی کہانی سناتا ہے۔ جنینی نشوونما کے دوران خصیے ابتدا میں گردوں کے قریب بنتے ہیں، پھر ایک طویل راستہ طے کرتے ہوئے اسکروٹم میں اتر آتے ہیں، کیونکہ سپرم کی صحت مند پیداوار کے لیے جسم کے مرکزی درجۂ حرارت سے چند درجے کم درجۂ حرارت ضروری ہے۔ یہ حل اپنا مقصد تو پورا کر دیتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیٹ کی دیوار میں ایک نسبتاً کمزور مقام باقی رہ جاتا ہے، جو بعد کی زندگی میں انگوئنل ہرنیا کا سبب بن سکتا ہے۔ گویا ارتقا نے ایک مسئلہ حل کیا، مگر اس کی قیمت ایک نئے خطرے کی صورت میں ادا کی۔ یہ کسی کامل منصوبہ بندی کا نہیں بلکہ ورثے میں ملی ہوئی ساخت پر کیے گئے ایک ذہین سمجھوتے کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

ایسی مثالیں حیاتیات میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں۔ وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ارتقا کا مقصد کمالِ مطلق حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایسے حل پیدا کرنا ہے جو بقا اور افزائشِ نسل کے لیے کافی حد تک مؤثر ہوں۔ ارتقا ہمیشہ ماضی کی تعمیر پر مستقبل کی منزل اٹھاتا ہے؛ وہ گزشتہ نسلوں کے ورثے سے آزاد ہو کر نئے سرے سے تعمیر نہیں کرتا۔ اسی لیے قدرت ہر جز کو ازسرِنو تخلیق کرنے والے انجینئر سے زیادہ ایک ایسے نابغۂ روزگار کاریگر سے مشابہ دکھائی دیتی ہے جو محدود وسائل کے باوجود حیرت انگیز نتائج پیدا کر دیتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جاندار ایک ہی وقت میں غیر معمولی حد تک مؤثر بھی ہیں اور واضح طور پر غیر کامل بھی۔

اور شاید قدرت کا سب سے بڑا معجزہ یہی ہے کہ وہ کمال کو نقطۂ آغاز نہیں بناتی بلکہ خامیوں کو اپنا سرمایہ بناتی ہے۔ وہ انہی نامکمل بنیادوں پر حسن پیدا کرتی ہے، پیچیدگی تخلیق کرتی ہے اور زندگی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ہر نئے چیلنج کے ساتھ خود کو دوبارہ ڈھال سکے۔ یہی ارتقا کا اصل شاہکار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *