قد ناپنے سے آزاد زندگی
شارق علی
ویلیوورسٹی
پانچویں جماعت تک ہم دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ گہری دوستی تھی۔ پھر اسکول بدل گئے اور تقریباً تین برس تک ملاقات نہ ہوسکی۔
تین سال بعد ملے تو بہت خوشی ہوئی۔ علیک سلیک کے فوراً بعد میرے دوست نے ایک عجیب سی حرکت کی۔ وہ میرے بالکل برابر آکر کھڑا ہوگیا۔ اپنے ہاتھ کی سیدھ سے وہ اپنا قد میرے قد سے ناپنا چاہتا تھا۔
یہ بچپن کا ایک معصوم سا واقعہ تھا، لیکن آج سوچتا ہوں تو اس میں ایک علامتی معنویت نظر آتی ہے۔
ہم بڑے ہوجاتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے برابر کھڑے ہوکر قد ناپنا نہیں چھوڑتے۔
پرانے دوست ملیں تو عہدے، آمدنی اور بچوں کی کامیابیاں ناپی جاتی ہیں۔ کسی کی نئی گاڑی یا نیا گھر دیکھیں تو لاشعوری طور پر اپنی زندگی، اپنی گاڑی اور اپنا گھر اس کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں۔
اسی انسانی رویّے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے والی معروف کتاب ’’ناپسند کیے جانے کی ہمت‘‘ ہے، جس میں ایچیرو کشیمی اور فومیتاکے کوگا، الفریڈ ایڈلر کے افکار کو مکالمے کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔
اس کا ایک بنیادی سوال یوں سمجھا جاسکتا ہے۔
کیا ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں، یا دوسروں کے پیمانوں پر اپنا قد ناپ رہے ہیں؟
ایڈلر کی فکر ہمیں زندگی کو مسلسل مقابلہ سمجھنے سے خبردار کرتی ہے۔ اگر ہر شخص میرا حریف ہے تو اس کی کامیابی میرے لیے پیمانہ بن جائے گی۔ اس کا بڑا گھر میرے گھر کو چھوٹا، اس کی ترقی میرے عہدے کو معمولی اور اس کی خوشی میری خوشی کو مشکوک کرنے لگے گی۔
حالانکہ دوسرے کا قد بڑھنے سے ہمارا قد ایک سینٹی میٹر بھی کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔
کتاب ماضی کے بارے میں بھی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے۔ جو ہمارے ساتھ ہوچکا، کیا وہ لازماً یہ طے کرے گا کہ ہم آئندہ کون ہوں گے؟
ماضی بدلا نہیں جاسکتا، مگر آج اس کے ساتھ کیا کرنا ہے، اس معاملے میں ہمارا اختیار باقی رہتا ہے۔ البتہ جدید نفسیات ہمیں یہ احتیاط بھی سکھاتی ہے کہ نفسیاتی صدمے کے حقیقی اور دیرپا اثرات ہوسکتے ہیں۔ اس لیے شاید زیادہ متوازن بات یہ ہے۔
ماضی ہماری کہانی کا حصہ ضرور ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اسے آخری باب بھی لکھنے دیا جائے۔
ایڈلر کی فکر کا ایک نہایت عملی تصور ’’ذمہ داریوں کی حد بندی‘‘ ہے۔
میں اپنا کام دیانت داری سے کرسکتا ہوں، کسی سے احترام سے بات کرسکتا ہوں اور اپنے تعلقات میں مخلص رہ سکتا ہوں۔ لیکن دوسرا میرے بارے میں کیا رائے قائم کرتا ہے، یہ مکمل طور پر میرے اختیار میں نہیں۔
یہ اس کا دائرۂ اختیار ہے۔
مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب صرف اچھا کام کرنا کافی نہیں رہتا؛ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اسے اچھا بھی کہیں۔ صرف خوش ہونا کافی نہیں رہتا؛ دوسروں کو ہماری خوشی نظر بھی آنی چاہیے۔
یہیں سے منظوری کی وہ بھوک پیدا ہوتی ہے جس کی کوئی آخری منزل نہیں۔
ناپسند کیے جانے کی ہمت کا مطلب بدتمیزی یا خود غرضی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کا احترام کرتے ہوئے بھی اپنی زندگی ہر شخص کی منظوری حاصل کرنے کے لیے نہ گزاری جائے۔
ایڈلر کی فکر ہمیں دوسروں کی رائے سے آزاد کرتی ہے، دوسروں سے لاتعلق نہیں۔ اچھی زندگی میں یہ احساس بھی اہم ہے کہ ہماری موجودگی کسی دوسرے کے لیے مفید ہے۔
دوسروں سے آگے نکلنا اور دوسروں کے کام آنا دو مختلف خواہشیں ہیں۔
پہلی زندگی کو مقابلہ بناتی ہے۔
دوسری اسے معنی دیتی ہے۔
آج بھی کبھی وہ بچپن کا منظر یاد آتا ہے تو اپنے دوست کا میرے برابر آکر کھڑا ہونا برا نہیں لگتا۔ ہم بچے تھے۔ ہمیں واقعی جاننا تھا کہ کون کتنا لمبا ہوگیا ہے۔
مسئلہ شاید یہ ہے کہ بہت سے لوگ بڑے ہوکر بھی قد ناپتے رہتے ہیں، حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہر زندگی کا فیتہ مختلف ہوتا ہے۔
کسی کا گھر، گاڑی، عہدہ، شہرت، آمدنی یا بچوں کی کامیابی ہمارے لیے پیمانہ کیوں بنے؟ ہر انسان کے حالات، مواقع، ترجیحات اور زندگی کا سفر مختلف ہوتا ہے۔
’’ناپسند کیے جانے کی ہمت‘‘ شاید ہمیں ایسا فیتہ اور پیمانہ ایک طرف رکھ دینے کی دعوت دیتی ہے۔
دوسرے کے برابر کھڑے ہوکر یہ دیکھنے کے بجائے کہ کون کتنا اونچا ہے، شاید بہتر سوال یہ ہو گا
میں کل کہاں تھا، آج کہاں ہوں، اور میری موجودگی سے کسی دوسرے انسان کی زندگی میں کیا بہتری آئی؟
ذہنی بلوغت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں سے اپنا قد ناپنا چھوڑ دیں۔
اور اپنی زندگی کو دوسروں کے پیمانوں سے ناپنے سے بھی انکار کردیں۔
فکری حوالہ: یہ تحریر ایچیرو کشیمی اور فومیتاکے کوگا کی کتاب ’’ناپسند کیے جانے کی ہمت‘‘ میں پیش کیے گئے الفریڈ ایڈلر کے افکار سے متاثر ہے۔ کتاب کے تصورات یہاں ذاتی مشاہدے، تشریح اور تنقیدی نقطۂ نظر کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں
