Skip to content
Home » Blog » فطرت پہلی استاد

فطرت پہلی استاد

  • by

فطرت پہلی استاد

تیسری کہانی

شارق علی
ویلیوورسٹی

نوٹ: (یہ چار کہانیوں پر مشتمل ایک ادبی غیر افسانوی (Literary Non-fiction) سلسلہ ہے، جو لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم سونم وانگچک اور ان کے تعلیمی ادارے SECMOL سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ اس کا اندازِ بیان ادبی ہے، جبکہ تعلیمی فلسفہ، ماحول اور بنیادی معلومات حقیقی ہیں۔)

لداخ میں رہنے والے بچوں کا بچپن جلدی بڑا ہو جاتا ہے۔

یہاں اگر وہ آسمان کو نہ پڑھنا سیکھیں تو موسم انہیں حیران و پریشان کر دیتا ہے۔

اگر وہ برف کو نہ سمجھ سکیں تو راستے ان پر بند ہو جاتے ہیں۔

اگر وہ پانی کی قدر کرنا نہ سیکھیں تو بہار بھی انہیں پیاسا رکھ سکتی ہے۔
میں نے یہ سب کچھ کسی کتاب سے نہیں سیکھا تھا۔
یہ سب مجھے پہاڑوں نے سکھایا تھا۔

SECMOL (سونم وانگچک کا تعلیمی ادارہ، لداخ)
آنے کے بعد ایک صبح میں نے دیکھا کہ سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا، مگر ہماری کلاس کی دیواریں ٹھنڈی نہیں تھیں۔

میں نے دیوار پر ہاتھ رکھ کر دیکھا۔
مجھے حیرت ہوئی۔
باہر برف جمی ہوئی تھی، اندر بچوں کے ہاتھ گرم تھے۔

میں دیر تک سوچتا رہا۔

آخر یہ کیسے ممکن ہے؟

اسی دن سونم وانگچک ہمیں عمارت کے باہر لے گئے۔
انہوں نے کوئی لیکچر نہیں دیا۔
صرف سورج کی طرف دیکھا، پھر دیوار کی طرف، پھر ہم سب کی طرف۔

اتنا ہی کہا:
“ہر علاقے کی اپنی کتاب ہوتی ہے۔
لداخ کی کتاب، لداخ کی فطرت ہے۔”

اس دن پہلی مرتبہ میں نے اسکول کی عمارت کو غور سے دیکھا۔

بڑی کھڑکیاں سورج کی طرف کھلتی تھیں۔

مٹی کی موٹی دیواریں دن بھر حرارت اپنے اندر جذب کرتی رہتی تھیں۔

رات کو وہی حرارت آہستہ آہستہ واپس کمرے میں پھیل جاتی تھی۔

میں حیران تھا۔
ہم نے سردی کو شکست نہیں دی تھی۔
ہم نے اس کے ساتھ رہنا سیکھ لیا تھا۔

اس کے بعد میری نظر اور سوچ، دونوں کا انداز بدلنے لگا۔

مجھے محسوس ہوا کہ یہاں صرف استاد ہی نہیں پڑھاتے۔

سورج بھی پڑھاتا ہے۔

ہوا بھی۔

برف بھی۔

پانی بھی۔

یہاں ہر موسم ایک سبق لے کر آتا ہے۔
اور ہر غلطی اگلے موسم کی تیاری بن جاتی ہے۔

ایک شام میں ہاسٹل کی چھت پر بیٹھا سورج کو پہاڑوں کے پیچھے اترتے دیکھ رہا تھا۔
مجھے اچانک اپنا پرانا رپورٹ کارڈ یاد آ گیا۔
وہی جس پر سرخ روشنائی سے لکھا تھا:
FAIL
میں مسکرا دیا۔

اس دن میں امتحانی پرچوں میں فیل ہوا تھا۔

مگر لداخ…
لداخ نے کبھی مجھے فیل نہیں کیا۔

اس نے ہر دن مجھے کچھ نہ کچھ سکھایا۔
اور پہلی مرتبہ مجھے احساس ہوا کہ شاید دنیا کے بہترین استاد ہمیشہ انسان نہیں ہوتے۔

کبھی کبھی…
فطرت بھی ایک عظیم استاد ہوتی ہے۔
۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *