فزکس کا نوبیل انعام
2026برف میں دبی دوربین
شارق علی
ویلیوورسٹی
برف سے ڈھکا قطبِ جنوبی۔ دور دور تک پھیلی برف۔ اس سفید ویرانے کے تقریباً دو کلومیٹر نیچے، تاریکی میں ایک مدھم روشنی پیدا ہوتی ہے۔ انسانی آنکھ وہاں موجود نہیں، لیکن برف میں دفن حساس آلات اس کا نشان محفوظ کر لیتے ہیں۔ ممکن ہے یہ کسی ایسے مسافر کی آمد کا سراغ ہو جو کائنات کے دور دراز گوشے سے زمین تک پہنچا ہے۔ کوئی ایسا سربمہر لفافہ، جس میں ناقابلِ تصور فاصلے سے آیا کوئی پیغام لکھا ہو۔
اس مسافر، یا اس پیغام، کا نام ہے نیوٹرینو۔
اسے سمجھنے کے لیے اپنے ہاتھ کو دیکھیے۔ روشنی کے سامنے رکھیں تو سایہ بنتا ہے، کیونکہ ہاتھ روشنی کو روک لیتا ہے۔ لیکن نیوٹرینوز کی بہت بڑی تعداد ہمارے ہاتھوں، جسموں، حتیٰ کہ زمین کے آرپار گزر جاتی ہے۔ ہمیں کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ یہ ذرات مادے سے اتنا کم تعامل کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی کا سراغ لگانا ایک غیرمعمولی سائنسی چیلنج ہے۔
نیوٹرینو ایک بنیادی ذرہ ہے۔ اس پر برقی چارج نہیں اور اس کی کمیت نہایت معمولی ہے۔ کچھ نیوٹرینوز سورج میں پیدا ہوتے ہیں، کچھ زمین کی فضا میں۔ مگر ہمارے موضوع کے نیوٹرینوز بہت زیادہ توانائی رکھتے ہیں۔ وہ کائنات کے ایسے شدید ماحول کا سراغ دے سکتے ہیں جہاں قدرت ذرات کو حیرت انگیز توانائی تک پہنچاتی ہے۔
انہیں دور دراز واقعات کے پیغام رساں سمجھیے۔ جیسے کوئی رپورٹر جائے وقوعہ سے خبر لے کر آئے۔ یا جیسے کسی دور کی بستی سے ایک بند لفافہ روانہ ہو، جو راستے میں عموماً کہیں نہ کھلے۔ نیوٹرینو بھی اپنے سفر میں بیشتر مادے سے بغیر تعامل کیے گزر جاتا ہے۔ اس کی توانائی اور آمد کی سمت میں اس کے منبع کے سراغ موجود ہوتے ہیں۔ اگر ہم اسے پکڑ سکیں تو گویا لفافہ کھول کر اس خبر کا کچھ حصہ پڑھ سکتے ہیں۔
یہیں ایک مشکل، ایک موقع بھی بن جاتی ہے۔ برقی چارج رکھنے والے کائناتی ذرات کو مقناطیسی میدان راستے سے موڑ دیتے ہیں۔ ان کی آمد کی سمت ضروری نہیں کہ اصل منبع کی طرف ہو۔ نیوٹرینو پر یہ اثر نہیں ہوتا۔ وہ ہمیں خبر کے ساتھ اس کے آنے کی سمت بھی بتا سکتا ہے۔
مگر ایسے مسافر کو پکڑیں کیسے، جو پوری زمین سے گزر جائے؟
فرانسس ہالزن نے جواب قطبِ جنوبی کی برف میں تلاش کیا۔ ان کا تصور تھا کہ گہری، شفاف برف کے اندر روشنی محسوس کرنے والے آلات نصب کیے جائیں۔ کبھی کوئی نیوٹرینو برف کے کسی ایٹمی مرکزے سے تعامل کرے گا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چارج دار ذرات روشنی کا نشان چھوڑیں گے، اور آلات اسے ریکارڈ کر لیں گے۔
اسے چیرینکوف روشنی کہتے ہیں۔ یہ تب پیدا ہوتی ہے جب کوئی چارج دار ذرہ برف میں روشنی کی رفتار سے تیز چلتا ہے۔ وہ خلا میں روشنی کی رفتار سے تیز نہیں ہوتا؛ روشنی کی رفتار برف میں کم ہو جاتی ہے۔
اس خیال نے آئس کیوب کی صورت اختیار کی۔ تقریباً ایک مکعب کلومیٹر برف میں پانچ ہزار سے زیادہ حساس آلات نصب کیے گئے۔ گرم پانی سے گہرے سوراخ بنائے گئے، آلات نیچے اتارے گئے، پھر پانی دوبارہ جم گیا۔ برف خود ایک عظیم سائنسی آلے کا حصہ بن گئی۔
اس خواب کو حقیقت بنانے میں سائنس دانوں، انجینئروں اور کارکنوں کی بین الاقوامی ٹیم نے برسوں محنت کی۔ سردی اور دشوار رسد کے درمیان ایسی دوربین بن رہی تھی جسے آسمان کی طرف اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔
2013 میں ٹیم نے 28 ایسے واقعات کے شواہد پیش کیے جنہیں صرف زمین کی فضا میں پیدا ہونے والے ذرات سے سمجھانا ممکن نہیں تھا۔ پھر 2017 کے ایک نیوٹرینو اور دوسری دوربینوں کے مشترکہ مشاہدات نے ایک دور کی فعال کہکشاں کو اس کا ممکنہ منبع قرار دینے کے شواہد فراہم کیے۔
2026 کا فزکس کا نوبیل انعام ہالزن کو اسی رصدگاہ اور بلند توانائی کے کائناتی نیوٹرینوز کی دریافت میں فیصلہ کن خدمات پر ملا۔
کائنات کے یہ بند لفافے ہمارے درمیان سے گزرتے رہتے ہیں۔ اب ہم ان میں سے چند کو کھولنے لگے ہیں۔ برف کی خاموش تہہ میں محفوظ ایک مدھم روشنی، کسی دور کے ہنگامے کی خبر بن سکتی ہے۔
