Skip to content
Home » Blog » سیکھنے سکھانے کا کھیل, نطشے سے متاثر لٹریری نان فکشن

سیکھنے سکھانے کا کھیل, نطشے سے متاثر لٹریری نان فکشن

  • by

سیکھنے سکھانے کا کھیل
نطشے سے متاثر لٹریری نان فکشن

تیسری کہانی

شارق علی
ویلیوورسٹی

طب کے شعبے میں میری پریکٹس کو کئی برس گزر چکے تھے۔ پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ طب کے علاوہ دوسرے موضوعات پڑھنے اور ان پر لکھنے کی خواہش بھی ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ ادب، فلسفہ، تاریخ، فلکیات۔ شوق بہت تھے اور وقت بہت کم۔

پھر میں نے ایک نسبتاً کم مصروف نوکری قبول کی۔ وہاں ایک نوجوان ڈاکٹر سے تعارف ہوا جو ویب سائٹ بنانا بھی جانتا تھا۔ میرے پڑھنے لکھنے کے شوق سے واقف ہوا تو اس نے میرے لیے ایک ویب سائٹ بنانے کی پیش کش کی۔

اس پیش کش نے ایک نیا امکان کھول دیا۔ جو کچھ پڑھوں اور سمجھوں، اسے دوسروں کے ساتھ بھی بانٹ سکوں۔ سیکھنے اور سکھانے کی ایک ایسی جگہ، جہاں دنیا میں کہیں سے بھی کوئی آ سکے۔

یوں ۲۰۱۱ میں ویلیوورسٹی کا آغاز ہوا۔

ویب سائٹ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ پھر یوٹیوب ویڈیوز اور فیس بک تک پہنچا۔ کوئی نئی بات معلوم ہوتی، سوچنے کا نیا زاویہ ملتا یا کسی مشکل خیال کو سمجھنے کی خوشی نصیب ہوتی تو اسے دوسروں کے ساتھ بانٹنے کو جی چاہتا۔ کچھ ویسے ہی جیسے بچہ اپنے کھیل میں کوئی نئی چیز بنا کر ساتھیوں کو بلاتا ہے: آؤ، یہ دیکھو!

اس تجربے کو نطشے کی کتاب ’’یوں بولا زرتشت‘‘ میں بیان کردہ روح کی تین تبدیلیوں کی روشنی میں دیکھتا ہوں۔ اونٹ بوجھ اٹھانے کی قوت رکھتا ہے۔ شیر مسلط کردہ حکم کے سامنے انکار کر کے اپنے لیے آزادی حاصل کرتا ہے۔ لیکن نطشے کے ہاں شیر بھی ابھی نئی قدریں تخلیق نہیں کر سکتا۔ وہ اس تخلیق کے لیے جگہ بناتا ہے۔ آزادی ملنے کے بعد سوال باقی رہتا ہے: اب اس کھلی جگہ میں کیا بنائیں؟

یہاں بچہ سامنے آتا ہے۔

نطشے کا بچہ معصومیت، نئی ابتدا اور کھیل کا استعارہ ہے۔ اس میں بھول جانے کی صلاحیت بھی ہے، پرانے بوجھ اور بندشوں سے اتنا آزاد ہو جانا کہ کچھ نیا شروع کیا جا سکے۔ اونٹ کی استقامت اور شیر کی جرأت کے بعد بچہ تخلیق کی خوشی لاتا ہے۔ وہ زندگی کو اپنی طرف سے ہاں کہتا ہے۔

ہم بڑے ہوتے ہوتے بہت کچھ سیکھتے ہیں، مگر کبھی اسی سفر میں کچھ نیا آزمانے کی بے فکری کھو دیتے ہیں۔ آغاز سے پہلے انجام جاننا چاہتے ہیں۔ یہ کوشش کہاں پہنچے گی؟ لوگ کیا کہیں گے؟ بچہ کھیل شروع کر دیتا ہے۔ بناتا ہے، بگاڑتا ہے، پھر بناتا ہے۔ اس کی خوشی اسی عمل میں ہوتی ہے۔

ویلیوورسٹی کا آغاز بھی میرے لیے ایسا ہی ایک چھوٹا سا تجربہ تھا۔ سیکھتے ہوئے لکھنا اور لکھتے ہوئے سیکھنا۔ کبھی کوئی خیال واضح ہو جاتا، کبھی لکھتے ہوئے معلوم ہوتا کہ اسے ابھی خود بھی پوری طرح نہیں سمجھا۔ پھر دوبارہ پڑھنا پڑتا۔ سکھانے کی کوشش، سیکھنے کی ایک اور وجہ بن جاتی۔

اس کوشش کی قدر کا فیصلہ پڑھنے والا کرے گا کہ اسے اس میں اپنے لیے کیا ملا۔ کوئی مفید بات، کوئی نیا سوال یا دنیا کو دیکھنے کا ذرا مختلف زاویہ۔

شاید زندگی کے کسی موڑ پر پھر سے بچہ بننے کا مطلب یہی ہو۔ جو کچھ سیکھا ہے، اس کے ساتھ ایک نیا کھیل شروع کرنا، جس میں دوسروں کے لیے بھی جگہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *