سونم وانگ چک: جس نے ’فیل‘ بچوں میں مستقبل تلاش کیا
شارق علی
ویلیوورسٹی
سونم وانگ چک کی کہانی صرف ایک ماہرِ تعلیم کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی داستان ہے جس نے ایک لفظ کے معنی بدل دیے۔ وہ لداخ کے ایک دور افتادہ گاؤں سے نکلے، اپنی تعلیم جدوجہد کے ساتھ مکمل کی، اور پھر ایسے بچوں سے ملے جو بار بار امتحانات میں فیل ہو رہے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ بچے ذہانت میں کسی سے کم نہیں تھے۔ تب ان کے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوا: اگر بچے قابل ہیں تو ناکام کون ہے، بچہ یا نظام؟
اسی سوال نے 1988ء میں SECMOL کی بنیاد رکھی۔ یہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک تجربہ تھا، جہاں امتحان سے زیادہ صلاحیت کو اہمیت دی گئی۔ یہاں ایسے طلبہ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے جنہیں روایتی نظام نے ناکام قرار دے دیا تھا۔ مگر یہی نوجوان بعد میں شمسی توانائی کے منصوبے بناتے ہیں، ماحول دوست عمارتیں تعمیر کرتے ہیں، پانی کی قلت کے حل کے لیے آئس اسٹوپا تیار کرتے ہیں اور اپنے علاقے کے حقیقی مسائل کا عملی حل تلاش کرتے ہیں۔
وانگ چک کا فلسفہ سادہ ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ انسان کو اپنے معاشرے کے لیے مفید بنانا ہے۔ جو تعلیم بچے کو اپنی زمین، اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنے ماحول سے نہ جوڑ سکے، وہ ادھوری تعلیم ہے۔
سونم وانگ چک ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ہر وہ بچہ جسے نظام نے “فیل” لکھ دیا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ناکام ہو۔ اکثر مسئلہ بچے میں نہیں بلکہ اس پیمانے میں ہوتا ہے جس سے ہم اس کی صلاحیت کو ناپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید حقیقی تعلیم وہی ہے جو ہر بچے کو یہ موقع دے کہ وہ اپنی منفرد صلاحیت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے۔
Accordion title 1
This is a placeholder tab content. It is important to have the necessary information in the block, but at this stage, it is just a placeholder to help you visualise how the content is displayed. Feel free to edit this with your actual content.
Accordion title 2
This is a placeholder tab content. It is important to have the necessary information in the block, but at this stage, it is just a placeholder to help you visualise how the content is displayed. Feel free to edit this with your actual content.
