جیکب آباد کا گورا پیر
شارق علی
ویلیوورسٹی
جون کی تپتی دوپہر تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے زمین سے آگ کے شعلے اٹھ رہے ہوں۔ ہوا گرم تھی، درخت خاموش تھے، اور فضا پر ایک عجیب سی ویرانی طاری تھی۔
ایک عمر رسیدہ خاتون آہستہ آہستہ قبرستان میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں سبز رنگ کا ایک دھاگا تھا۔ وہ ایک پرانی قبر کے پاس جا کر رکی، سر جھکایا اور دھاگا قبر کے گرد لگی جالی سے باندھ دیا۔
اس نے آنکھیں بند کیں، لب ہلکے ہلکے ہلے، جیسے کوئی دعا مانگ رہی ہو۔ پھر وہ مڑی اور دھیرے دھیرے واپس چل دی۔
اس منظر میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ برصغیر کے بے شمار مزارات پر لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ اپنی امیدیں، اپنے خوف اور اپنی تمنائیں کسی رنگ کے دھاگے کے ساتھ باندھ جاتے ہیں۔
مگر یہ قبر کسی صوفی بزرگ، عالمِ دین، درویش یا ولی اللہ کی نہیں تھی۔
اس قبر میں ایک انگریز دفن ہے۔
ایک ایسا شخص جو ہزاروں میل دور ایک سرد براعظم میں پیدا ہوا تھا، جس کی زبان، مذہب، تہذیب اور رنگت سب مختلف تھے۔
پھر بھی، اس کی وفات کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی لوگ جیکب آباد ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں سے آ کر اس کی قبر پر حاضری دیتے ہیں، منتیں مانگتے ہیں اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔
کیوں؟
انسان آخر کس بنیادی شناخت سے یاد رکھا جاتا ہے؟
اپنے مذہب سے؟
اپنی نسل سے؟
اپنی قومیت سے؟
اپنی زبان سے؟
یا پھر اپنے کردار اور اپنے عمل سے؟
یہ کہانی تقریباً دو سو سال پہلے شروع ہوتی ہے۔
اس زمانے میں بھی یہ علاقہ سخت گرم، بنجر اور دشوار گزار تھا۔ پانی کم تھا، آبادیاں منتشر تھیں اور زندگی آسان نہیں تھی۔
پھر یہاں ایک نوجوان افسر آیا۔
اس کا نام جان جیکب (1812–1858) تھا۔
وہ ایک برطانوی فوجی افسر اور منتظم تھا، جسے آج بھی سندھ کی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اس نے شمالی سندھ کے اس دشوار اور نسبتاً ویران علاقے میں ایک نئی بستی قائم کی، جو بعد میں جیکب آباد کے نام سے مشہور ہوئی۔
جان جیکب نے نہ صرف سڑکیں، نہریں اور سرکاری عمارتیں تعمیر کروائیں بلکہ امن و امان قائم کرنے، مقامی قبائل کے تنازعات کم کرنے اور زرعی ترقی کے فروغ کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ شدید گرمی کے باوجود عوام کے درمیان رہنے کے لیے معروف تھا، حالانکہ جیکب آباد دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔
اس کی دیانت داری، انتظامی صلاحیت اور عوامی خدمت نے مقامی لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے غیر معمولی احترام پیدا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی وفات کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی اس کا نام صرف ایک تاریخی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ ایک یادگار کردار کے طور پر زندہ ہے۔
جیکب اس سرزمین کا باشندہ نہیں تھا۔ یقیناً اس کے دل میں اپنے وطن کے سبز میدانوں کی یادیں زندہ ہوں گی، مگر قسمت اسے سندھ کے اس جھلسے ہوئے خطے میں لے آئی تھی۔
اس نے یہاں نہریں بنوائیں، سڑکیں تعمیر کروائیں، امن قائم کرنے کی کوشش کی، لوگوں کی مشکلات کم کیں اور ایک نئی بستی آباد کی۔
وقت گزرتا گیا اور وہ بستی ایک شہر میں تبدیل ہو گئی۔
پھر ایک دن وہ شخص اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
اسے اسی مٹی میں دفن کر دیا گیا جسے سنوارنے کے لیے وہ یہاں آیا تھا۔
شاید اسے خود بھی اندازہ نہ تھا کہ ایک دن اس کا نام شہر کے نام کا حصہ بن جائے گا۔ شاید اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ آنے والی نسلیں اس کی قبر پر چراغ جلائیں گی، منتیں مانگیں گی اور اسے احترام کی نگاہ سے دیکھیں گی۔
انسان کی اصل شناخت اس کا کردار اور اس کے اعمال ہوتے ہیں۔ جان جیکب کا انصاف، اس کی دیانت داری، اس کا خلوص اور عوام کے لیے کی گئی خدمات مقامی لوگوں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گئیں۔
ممکن ہے اس قبر پر سبز دھاگا باندھنے والی عورت کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہاں دفن شخص کا مذہب کیا تھا یا وہ کس ملک میں پیدا ہوا تھا۔
مگر اسے شاید اتنا ضرور معلوم ہو کہ اس کے بزرگ اس شخص کا ذکر احترام سے کیا کرتے تھے۔
شاید اسی لیے وہ آج بھی اس قبر کے پاس آتی ہے۔
زندگی میں ہم اکثر مذہب، زبان، نام، عہدے، دولت اور شہرت جیسی شناختوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں، لیکن اصل انسانی شناخت ان سب سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔
وہ ہے دوسرے انسانوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ۔
کیا ہم نے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کیں؟
کیا ہم نے انصاف کیا؟
کیا ہم نے کسی کا دکھ بانٹا؟
کیا ہم نے کسی ناامید دل کو امید دی؟
شاید وقت گزر جانے کے بعد یہی سوال طے کرتے ہیں کہ لوگ ہمیں کس نام سے یاد رکھیں گے۔
