Skip to content
Home » Blog » بارہویں اور آخری قسط, واپسی کا سفر

بارہویں اور آخری قسط, واپسی کا سفر

لیک کومو اور برنینا ایکسپریس
بارہویں اور آخری قسط, واپسی کا سفر

شارق علی
ویلیوورسٹی

تیرانو اب پیچھے رہ گیا تھا۔

ہماری گائیڈ نے کچھ دیر پہلے ایک بار پھر سب مسافروں کو کوچ میں سوار ہونے کے لیے جمع کیا تھا۔ اب ہم اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے تھے اور کوچ کا رخ واپس میلان کی طرف تھا۔

صبح ہم ریل میں سوار سوئس پہاڑوں کی بلندیوں کی طرف گامزن تھے، اور اب کوچ میں بیٹھے انہی پہاڑوں سے اترتے ہوئے اٹلی کے میدانوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔

کوچ کی کھڑکی سے باہر کا منظر مسلسل بدل رہا تھا۔

کہیں چھوٹے قصبے، کہیں کھیت، کہیں پتھروں سے بنے اور سرخ چھتوں سے ڈھکے مکانات۔ کہیں پہاڑی ڈھلانوں پر دور تک پھیلی انگور کی بیلیں۔

یہ منظر خاص طور پر توجہ کھینچتا تھا۔

پہاڑوں کی ڈھلانوں کو چھوٹی چھوٹی سیڑھی نما زمینوں میں تقسیم کر کے انگور اگائے گئے تھے۔ بیلیں لکڑی اور بانس جیسے سہاروں پر ترتیب سے چڑھی ہوئی تھیں۔ کہیں ایسے vineyards کے نیچے یا قریب کسانوں کے چھوٹے گھر بھی دکھائی دیتے تھے۔

یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں زمین، گھر اور روزگار تین الگ اکائیاں نہیں بلکہ ایک ہی طرزِ زندگی کا مربوط حصہ ہیں۔

گائیڈ نے اسی دوران ایک دلچسپ بات بتائی۔

اس علاقے کی بعض ڈھلانیں اتنی بلند اور دشوار گزار ہیں کہ وہاں انگور اگانا ہی ایک غیر معمولی محنت کا کام ہے۔ فصل تیار ہو جائے تو بعض مقامات پر انگور کی بھاری پیٹیاں نیچے لانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے دشوار گزار vineyards میں کبھی کبھار helicopters کی مدد بھی لی جاتی ہے، جو انگوروں سے بھری پیٹیاں پہاڑی سے نیچے منتقل کرتے ہیں۔

ظاہر ہے، اس تمام محنت اور انتظام کی قیمت بھی ہوتی ہے۔

اسی علاقے کی ایک مشہور شراب Inferno کہلاتی ہے۔ یہ Valtellina کی ان پہاڑی vineyards میں اگنے والے سیاہ انگوروں سے تیار کی جاتی ہے۔

اس کا نام بھی دلچسپ ہے۔

دھوپ میں گرم ہونے والی ان دشوار گزار پتھریلی ڈھلانوں کی شدید گرمی نے اسے Inferno، یعنی جہنم، کا نام دے دیا ہے۔

گویا قیمت صرف اندر موجود مشروب کی نہیں، بلکہ زمین، موسم، نسلوں کا تجربہ اور انسانی محنت، سب ہی کچھ اس میں شامل ہے۔

کوچ آگے بڑھتی رہی۔

ہم وہ اٹلی دیکھ رہے تھے جو سیاحتی پوسٹ کارڈوں میں کم دکھائی دیتا ہے۔

چھوٹے قصبے، مقامی دکانیں، کھیت، سڑک کنارے کیفے، پرانی عمارتیں اور روزمرہ زندگی میں مصروف لوگ۔

اٹلی کی ایک دلچسپ خصوصیت جو میں نے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ یہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے۔ صدیوں پرانی عمارت کے نیچے جدید کیفے مل جاتا ہے۔ روایتی کھانے کے ساتھ جدید اطالوی فیشن موجود رہتا ہے۔ انگور اور زیتون کی کاشت نسلوں پرانی ہے، مگر انہی زرعی مصنوعات نے آج دنیا بھر میں اٹلی کی شناخت قائم کر رکھی ہے۔

فیشن، ڈیزائن، گاڑیاں، پنیر، کافی، پاستا، زیتون کا تیل اور wine۔ یہ محض مصنوعات نہیں، بلکہ اطالوی طرزِ زندگی کی مختلف شکلیں سمجھ لیجیے۔

اٹلی کا حسن بھی یہی ہے کہ یہاں خوب صورتی صرف آرٹ گیلریوں اور عجائب گھروں میں محفوظ نہیں، روزمرہ زندگی میں اس کا استعمال نظر آتا ہے۔

کوچ اب میلان کے قریب پہنچ چکی تھی۔

پہاڑ آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے گئے۔ سڑکیں چوڑی ہوئیں، ٹریفک بڑھا اور دیہی مناظر کی جگہ بڑے شہر کی عمارتوں نے لے لی۔

آخرکار ہم Milano Centrale پہنچ گئے۔

یہیں سے ٹرین لی اور تھکے ہارے اپنے ہوٹل واپس آ گئے۔

سفر تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔

رات ہوٹل میں گزاری۔ اگلی صبح ناشتہ کیا، سامان سمیٹا اور گیارہ بجے بک کروائی گئی ٹیکسی میں ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہو گئے۔

جہاز نے رن وے سے ٹیک آف کیا۔

مجھے کومو کی جھیل یاد آئی اور کومو شہر کا رہنے والا Alessandro Volta، جس کے نام سے آج پوری دنیا برقی potential کی اکائی volt کو جانتی ہے۔

بیلاجیو یاد آیا۔

جھیل کے کنارے آباد وہ خوب صورت بستی، اس کی تنگ گلیاں، ڈھلوان راستے اور رنگ برنگے پھولوں سے لدے درخت رقص کناں تھے۔

برنینا ایکسپریس۔

سرخ لکیر جو کبھی برف پوش پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی، کبھی گہری وادی کے کنارے چلتی اور کبھی ایک مکمل دائرہ بناتے ہوئے مشہور Brusio Circular Viaduct پر خود اپنے ہی گرد گھومنے لگتی۔

برف، جھیلیں، گلیشیئر، سبز وادیاں اور چھوٹے چھوٹے اسٹیشن۔

اور پھر تیرانو۔

سوئٹزرلینڈ کی نفاست اور خوش حالی سے مختلف ایک نسبتاً سادہ اطالوی سرحدی قصبہ۔

چھوٹی دکانیں، عام لوگ، سادہ عمارتیں اور دو ملکوں کو ملانے والی ریل کی پٹری۔

یہ جہاز ہمیں واپس گھر لے جائے گا۔

کیا سفر ہمیں تبدیل کرتا ہے؟ کیا ہم گھر لوٹتے ہوئے وہی رہتے ہیں جو روانگی کے وقت تھے؟

ممکن ہے ہمارے ذہن میں دنیا کا نقشہ مزید بڑا ہو چکا ہو۔

اور یوں لیک کومو اور برنینا ایکسپریس کا سفر ختم ہوا۔

اختتام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *