املل کا صدپارہ ,آٹھویں قسط
مراکش کے رنگ
شارق علی
ویلیوورسٹی
موڑ در موڑ بل کھاتی سڑک، ایک طرف پہاڑ، دوسری طرف کھائی، کہیں دکھتی حسین وادیوں کے عقب میں اوپر کو اٹھتی چوٹیاں۔ جیسے پاکستان کے شمالی علاقوں میں کیا جانے والا کوئی سفر۔ بالکل ویسا ہی منظر۔ خاموش عظمت اور پہاڑی وقار۔ ہم مراکش کے قصبے املل کی جانب روانہ تھے۔ راستے میں کچھ دیر رکنا پڑا۔ پہاڑی اونچائی سے کچھ چٹانیں گر کر سڑک بند کر چکی تھیں۔
مقامی کارکن اور مشینیں ملبہ ہٹانے میں کامیاب ہوئیں، اور راستہ صاف ہوا تو ہم آگے روانہ ہوئے۔
بالآخر ہم املل نامی پہاڑی قصبے میں داخل ہوئے۔ املل ہائی ایٹلس پہاڑی سلسلے میں تقریباً 1800 میٹر کی بلندی پر واقع ایک چھوٹا سا بربر قصبہ ہے۔ اسے بیس کیمپ سمجھ لیجیے۔ یہاں سے شمالی افریقہ کی سب سے بلند چوٹی Jebel Toubkal (4167 میٹر) کی جانب مہمات شروع ہوتی ہیں۔
ہماری وین ایک ہوٹل کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ سامنے بلند چوٹیوں کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔
وہاں ہمارا نیا گائیڈ یوسف ہمارا منتظر تھا۔ یہاں سے ہمیں پیدل ہائیک کر کے مزید بلندی پر واقع اُس آبشار تک جانا تھا جس کی خوبصورت تصویریں ہمارے سیاحتی بروشر کی زینت تھیں۔
یوسف بیس بائیس سال کا دبلا پتلا مگر چمکتی آنکھوں والا نوجوان تھا۔ اپنے تعارف کے دوران اس نے بتایا کہ دسویں پاس کرنے کے بعد اس نے مزید رسمی تعلیم جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بقول اس کے:
“میں نے پہاڑوں کو اپنا اسکول بنا لیا ہے۔”
وہ ایک بربر (Amazigh) خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ ہم سب نے اس کے عقب میں ہائیک کا آغاز کیا تو راستے میں وہ ہمیں بربر فیملی سسٹم کے بارے میں بتاتا رہا۔ بربر خاندان آج بھی اجتماعی انداز میں زندگی گزارتے ہیں۔ زراعت، مویشی بانی اور اب سیاحت ان کی معیشت کا حصہ ہیں۔ بزرگوں کا احترام اب بھی اہم سماجی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔
جب اسے معلوم ہوا کہ ہم پاکستان سے ہیں تو وہ چلتے چلتے رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی اور اس نے سوال کیا:
“آپ حسن صدپارہ کو جانتے ہیں؟”
میں سانسیں بحال کرتے ہوئے مسکرایا اور کہا، “میں نے ان کے کارناموں کے بارے میں سنا ہے، ملا کبھی نہیں۔”
یوسف بولا، “وہ میرے ہیرو ہیں۔ میں اکثر ان کی ویڈیوز دیکھتا ہوں۔ ایک دن میں بھی انہی کی طرح دنیا کے عظیم پہاڑ سر کرنا چاہتا ہوں۔”
حسن صدپارہ پاکستان کے ایک عظیم کوہ پیما تھے۔ گلگت بلتستان کے ایک عام سے گھرانے سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے غربت کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ وہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے کئی کو سر کر چکے تھے، جن میں Mount Everest بھی شامل ہے۔ صدپارہ نے سکھایا کہ پہاڑ صرف جسمانی طاقت سے نہیں بلکہ حوصلے سے سر ہوتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے گاؤں صدپارہ، اسکردو سے تعلق رکھنے والے نامور پاکستانی کوہ پیما نے ماؤنٹ ایورسٹ سمیت دنیا کی کئی آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو سر کیا۔ سادہ پس منظر کے باوجود انہوں نے اپنی محنت اور عزم سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ وہ 2016 میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
ہائیک دوبارہ شروع ہوئی اور میں سوچنے لگا۔
ہائی ایٹلس کے قدموں میں بسے اس بربر گاؤں کے یوسف اور سکردو کے صدپارہ میں ایک مشترکہ خواب کا رشتہ ہے۔ مجھ پر کھلا کہ پہاڑ انسانوں کو جوڑ سکتے ہیں، فاصلوں اور قومیتوں کے فرق کو بھلا کر۔
املل کی تنگ گلیوں سے نکل کر اب ہم پتھریلے راستوں پر آگے بڑھ رہے تھے۔ ہم چھوٹی چھوٹی بربر آبادیوں کے پاس سے گزرے۔ مٹی اور پتھر سے بنے مکانات، لکڑی کے شہتیر، اور ہمیں دلچسپی سے دیکھتے بچوں کی شرمیلی مسکراہٹیں۔
راستہ کبھی چڑھائی میں بدل جاتا، کبھی ندی کے کنارے نرم رو ہو کر بہنے لگتا۔ یوسف آگے آگے، ہم پیچھے پیچھے۔ وہ ہر موڑ پر کسی نہ کسی درخت، کسی کھیت یا کسی پہاڑی گاؤں کے بارے میں کچھ نہ کچھ بتاتا۔
ہم تھک چکے تھے اور کچھ تو ہمت ہار کر مزید آگے بڑھنے سے انکاری تھے۔
یوسف نے ہمیں خاموش رہنے اور غور سے سننے کی ہدایت کی۔ ہم سب نے کان لگائے تو گرتے پانی کی آواز سنائی دینے لگی۔ ہم اپنی منزل کے قریب تھے۔
پہاڑ کی آغوش سے بہتا چھوٹا سا آبشار۔ شفاف پانی چٹانوں سے ٹکرا کر نیچے بہتی ندی بنتا ہوا۔ اردگرد سبزہ زار، خاموشی، اور صرف بہتے پانی کی آواز۔
ہم نے کچھ دیر سانسیں بحال کیں اور آگے چل دیے۔۔۔
جاری ہے
