Skip to content
Home » Blog » گاڑی اُڑی، مگر کتنی دور؟

گاڑی اُڑی، مگر کتنی دور؟

  • by

گاڑی اُڑی، مگر کتنی دور؟

شارق علی
ویلیوورسٹی

ذرا تصور کیجیے۔ آپ ٹریفک میں پھنسے ہیں۔ سامنے گاڑیوں کی قطار ہے، پیچھے ہارن بج رہے ہیں۔ آپ ایک بٹن دبائیں اور آپ کی گاڑی سب کے اوپر سے اُڑتی ہوئی آگے نکل جائے۔ انسان اس خواب کو برسوں سے فلموں میں دیکھتا آیا ہے۔ اب ایلون مسک کی ایک گاڑی نے اس خواب کو پھر موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے۔ لیکن خواب اور حقیقت کے درمیان فاصلہ کتنا باقی ہے؟

۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶ کو ٹیکساس میں ٹیسلا کی نئی روڈسٹر کا حیران کن مظاہرہ ہوا۔ گاڑی ایک خم دار ریمپ پر چڑھی، الٹی ہوئی، پھر ہوا میں گھومتے ہوئے دوسری گاڑیوں کے اوپر سے گزر کر زمین پر اتر آئی۔ اس عملی نمونے کی تیاری میں ٹیسلا اور مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے تعاون کیا ہے۔ رائٹرز نے بھی اس مظاہرے کی خبر دی ہے۔

لیکن کیا اسے واقعی اُڑنے والی گاڑی کہنا چاہیے؟

یہاں ایک دلچسپ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ گاڑی کا کچھ لمحوں کے لیے ہوا میں بلند ہونا اور کسی طیارے کی طرح مسلسل پرواز کرتے ہوئے منزل تک پہنچنا دو الگ صلاحیتیں ہیں۔ اس مظاہرے میں دوسری صلاحیت ثابت نہیں ہوئی۔ پیپلز میگزین کی رپورٹ کے مطابق، گاڑی دباؤ والی ہوا کے تھرسٹروں کی مدد سے بلند ہوئی۔ مظاہرہ ڈرائیور کے بغیر کیا گیا تھا۔

انڈین ایکسپریس نے بھی واضح کیا کہ دکھائی گئی گاڑی ابھی ایک عملی نمونہ ہے۔ اس کی مظاہرے والی صلاحیتوں کو عام صارفین کے لیے تیار کردہ گاڑی میں دستیاب سمجھ لینا قبل از وقت ہوگا۔ کمپنی نے پیداوار شروع کرنے کے لیے ۲۰۲۸ کا ہدف بتایا ہے۔

اس واقعے کی اصل کشش شاید یہی ہے: ایک مانوس مشین نے غیرمانوس حرکت کی، اور ہماری روزمرہ دنیا چند لمحوں کے لیے سائنس فکشن جیسی محسوس ہونے لگی۔

تجسس اپنی جگہ، مگر اچھی خبر پڑھنے کی عادت یہ ہے کہ ہم پوچھیں: کیا دکھایا گیا، کیا دعویٰ کیا گیا، اور کیا ابھی ثابت ہونا باقی ہے؟

فی الحال گاڑی نے ایک حیران کن چھلانگ لگائی ہے۔ ہمارے روزمرہ سفر کو پرواز میں بدلنے کا خواب ابھی اپنی اگلی آزمائش کا منتظر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *