Skip to content
Home » Blog » پانچویں قسط, , ریشم، وولٹا اور کومو سٹی

پانچویں قسط, , ریشم، وولٹا اور کومو سٹی

  • by

کومو لیک اور برنینا ایکسپریس
پانچویں قسط, , ریشم، وولٹا اور کومو سٹی

شارق علی
ویلیوورسٹی

لگژری کوچ عین وقت پر کومو کے مرکزی کوچ اسٹیشن پر آ کر رکی، جو مقامی پولیس اسٹیشن کے بالکل سامنے واقع تھا۔

تمام سیاح ایک ایک کرکے کوچ سے باہر نکلے۔

کوچ کے ٹھنڈے، ایرکنڈیشنڈ ماحول سے باہر قدم رکھتے ہی جون کی تیز دھوپ نے ہمارا استقبال کیا۔ باہر درجۂ حرارت تقریباً تیس ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ یورپ کے معیار کے لحاظ سے یہ غیر معمولی گرمی تھی، جو پوری شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔

ٹور گائیڈ نے قریب ہی واقع ایک کھلے چوک کو ملاقات کی جگہ مقرر کیا اور ہدایت کی کہ اس کا مقام اپنے موبائل فون میں محفوظ کر لیا جائے تاکہ واپسی میں آسانی رہے۔

اس کے بعد ہم گائیڈ کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے کومو سٹی کے قدیم شہر کی طرف روانہ ہوئے۔

چند ہی منٹوں کی چہل قدمی کے بعد جدید سڑکیں اور نئی عمارتیں پیچھے رہ گئیں اور ہم اندرونِ شہر کے تاریخی حصے میں داخل ہو گئے۔

تنگ، پتھریلے فرش والی گلیاں گویا ماضی کی داستان سنا رہی تھیں۔

سنگی فرش، صدیوں پرانی مگر بہترین انداز میں محفوظ عمارتیں، تاریخی یادگاروں سے مزین چوک، سڑک کنارے آباد نفیس کیفے، مقامی دکانیں اور رہائشی مکانات اس طرح ایک دوسرے میں مدغم تھے کہ محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں تاریخ اور روزمرہ زندگی ایک ساتھ سانس لے رہے ہوں۔

چلتے چلتے ہماری نظر چند خوبصورت دکانوں پر پڑی، جن کی کھڑکیوں میں نفیس ریشمی اسکارف، ٹائیاں اور دیدہ زیب ملبوسات سجے ہوئے تھے۔

گائیڈ نے بتایا کہ کومو کی ریشمی صنعت صرف اٹلی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنی نفاست اور اعلیٰ معیار کے لیے مشہور ہے۔

یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سلک روڈ کی ہزاروں برس پرانی داستان ان شوکیسوں میں آج بھی زندہ ہو۔

کسی زمانے میں چین اور وسطی ایشیا سے خام ریشم قافلوں کے ذریعے اسی تاریخی تجارتی راستے سے یورپ پہنچتا تھا۔

بعد ازاں چین سے سیکھی گئی مہارت کی بدولت شمالی اٹلی میں شہتوت کے درختوں پر ریشم کے کیڑے پالے جانے لگے اور مقامی طور پر بھی خام ریشم پیدا ہونے لگا۔

پھر کومو کے ہنرمند کاریگروں نے اسی خام ریشم کو اپنی مہارت، تخلیقی ذوق اور باریک بینی سے ایسے نفیس کپڑوں، اسکارفوں اور ٹائیوں میں ڈھالا کہ یہ شہر رفتہ رفتہ یورپ کی ریشمی صنعت کا معتبر ترین مرکز بن گیا۔

آج بھی دنیا کے کئی معروف فیشن ہاؤسز اپنی اعلیٰ معیار کی ریشمی مصنوعات کے لیے کومو کے کاریگروں کی مہارت سے استفادہ کرتے ہیں۔

یوں ان قدیم گلیوں میں چلتے ہوئے احساس ہوا کہ یہاں صرف پتھر کی عمارتیں ہی صدیوں سے محفوظ نہیں رہیں بلکہ ایک زندہ ہنر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے، جس نے مشرق سے آنے والے ریشم کو یورپی نفاست، حسن اور فیشن کی علامت بنا دیا۔

اسی دوران ہم ایک جدید طرز کے خوبصورت ریستوران کے سامنے جا پہنچے۔

کھلی فضا میں رنگین چھتریوں کے نیچے نہایت سلیقے سے میزیں اور کرسیاں رکھی تھیں۔

ہم نے ایک مناسب جگہ منتخب کی اور بیٹھ گئے۔

ویٹر کو گرین ٹی اور ہلکی پھلکی لوازمات کا آرڈر دیا۔

چند ہی لمحوں بعد وہ ہمارے پسندیدہ مشروبات کے ساتھ نہایت خوبصورت بسکٹس کی ایک پلیٹ بھی لے آیا۔

بسکٹس پر ہلکی سبز پستہ کریم سے نہایت نفیس نقش و نگار بنائے گئے تھے۔ ان کی خوبصورتی ایسی تھی کہ چند لمحوں کے لیے انہیں کھانے کے بجائے صرف دیکھتے رہنے کو جی چاہتا تھا۔

یورپ میں کھانے کی پیشکش بھی ایک فن سمجھی جاتی ہے۔

رنگ، تناسب، برتنوں کا انتخاب اور ذائقہ، ہر چیز میں نفاست نمایاں تھی۔

ہم ابھی اسی لطف میں محو تھے کہ اچانک فضا میں کومو کیتھیڈرل کی گھنٹیوں کی پرشکوہ آواز گونجنے لگی، جو صدیوں سے اس شہر کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔

چائے ختم ہوئی تو بل ادا کرکے ہم دوبارہ کومو کی گلیوں میں نکل آئے اور جھیل کی سمت چل پڑے۔

چند ہی منٹ بعد ہم ایک کشادہ چوک میں جا پہنچے، جہاں ایک بلند چبوترے پر نصب کانسی کا مجسمہ فوراً ہماری توجہ اپنی جانب کھینچنے لگا۔

یہ کومو کے عظیم سپوت، الیساندرو وولٹا، کا مجسمہ تھا۔

مجسمے کے سامنے چند لمحے رک کر میں نے سوچا کہ انسانی تہذیب کے بعض محسن ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی خدمات ہماری روزمرہ زندگی میں اس قدر رچ بس جاتی ہیں کہ ہم اکثر ان کے نام تک بھول جاتے ہیں، حالانکہ ان کی دریافتوں کے بغیر ہماری جدید دنیا کا تصور بھی ممکن نہیں۔

یہی گلی کوچے اس عظیم سائنس دان کی جائے پیدائش ہیں، جس کی دریافت نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

الیساندرو وولٹا 1745ء میں کومو میں پیدا ہوا۔

بچپن ہی سے اسے فطرت اور سائنس سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔

برسوں کی تحقیق کے بعد اس نے 1800ء میں دنیا کی پہلی مسلسل برقی بیٹری، وولٹائک پائل (Voltaic Pile)، تیار کی۔

پہلی مرتبہ انسان کے پاس ایسا ذریعہ آیا جس سے مسلسل برقی رو حاصل کی جا سکتی تھی۔

بعد کی دو صدیوں میں برقیات اور الیکٹرانکس کی بے شمار ترقیات اسی بنیادی پیش رفت پر استوار ہوئیں۔

آج موبائل فون، کمپیوٹر، طبی آلات، برقی گاڑیاں اور جدید ٹیکنالوجی کی لاتعداد صورتیں اسی طویل سائنسی سفر کی توسیع ہیں۔

اسی غیر معمولی کارنامے کے اعتراف میں برقی دباؤ کی اکائی وولٹ (Volt) اسی کے نام پر رکھی گئی۔

مجسمے سے آگے بڑھتے ہوئے خیال آیا کہ شاید انہی گلیوں میں کبھی نوجوان الیساندرو بھی چلتا ہوگا۔

شاید یہیں اس کے ذہن میں وہ سوال جنم لیتے ہوں گے جنہوں نے آنے والی دنیا کو روشنی اور توانائی کا ایک نیا راستہ دکھایا۔

شاید عظیم تبدیلیاں ہمیشہ پرسکون شہروں اور خاموش ذہنوں ہی میں جنم لیتی ہیں۔

۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *