جادو کے جوتے
سبط حسن کی یاد میں
شارق علی
ویلیوورسٹی
کراچی کا صدر اس زمانے میں آج سے ذرا مختلف تھا۔
ملٹی پلیکس سینما اور بڑے شاپنگ پلازوں کے بجائے چھوٹی دکانیں، روزمرہ اشیاء کے اسٹال، فٹ پاتھوں کی رونق، اور ان سب کے درمیان کتابوں کی کچھ ممتاز دکانیں بھی آباد تھیں۔
میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہوگی۔ میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ صدر خریداری کے لیے گیا ہوا تھا۔
عام خریداری سے فارغ ہو کر ہم ان دنوں صدر میں واقع فرینڈشپ ہاؤس کے بُک اسٹال پر پہنچے۔
کاؤنٹر کے پیچھے صاف ستھرے مگر سادہ لباس میں ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ بڑے بھائی نے انہیں دیکھا تو بہت احترام سے آگے بڑھے، گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور مجھ سے کہا:
’’سلام کرو۔ یہ سبط حسن صاحب ہیں۔‘‘
یہ نام میرے لیے اجنبی تھا۔ میں سلام کرنے کے بعد خاموش رہا۔
مجھے کیا خبر تھی کہ میرے سامنے بیٹھا یہ سادہ سا شخص اردو کے ان اہم دانش وروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ، تہذیب اور سماج کے پیچیدہ سوالات کو عام قاری کی زبان میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
سبط حسن ترقی پسند فکری روایت کے اہم نمائندے، صحافی اور مصنف تھے۔ علی گڑھ کے علمی ماحول سے گزرے، ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ مطالعے، تحقیق اور تحریر میں گزارا۔
لیکن اس روز مجھے ان باتوں میں سے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔
میرے بڑے بھائی ماسکو سے ٹریننگ لے چکے تھے اور فرینڈشپ ہاؤس کے ممبر تھے۔ کچھ دیر وہ دونوں گفتگو میں مصروف رہے۔
اس کے بعد سبط حسن صاحب میری طرف متوجہ ہوئے۔ علیک سلیک کے بعد اپنی کرسی سے اٹھے اور مجھے کتابوں کی شیلف تک لے گئے۔
ممکن ہے وہ جان گئے ہوں کہ اس بچے کو تاریخ اور فلسفے کے درس کے بجائے کہانی دینا زیادہ مناسب ہوگا۔
پھر انہوں نے شیلف سے بچوں کی ایک کتاب نکالی۔ عنوان تھا:
’’جادو کے جوتے‘‘
کسی روسی ادیب کی کہانی کا اردو ترجمہ۔ ایک بچہ جادوئی جوتے پہن کر مختلف ملکوں کی سیر کرتا اور وہاں کے لوگوں، جگہوں اور زندگی کے بارے میں نئی نئی باتیں جانتا ہے۔
سبط حسن صاحب نے وہ کتاب مجھے تحفتاً دے دی۔
میں نے وہ کتاب دو تین بار دلچسپی سے پڑھی اور اسے برسوں سنبھال کر رکھا۔
مڑ کر دیکھوں تو اس چھوٹے سے واقعے میں ایک عجیب معنویت دکھائی دیتی ہے۔
سبط حسن نے اپنے قارئین کو بھی یہی تحفہ دیا تھا۔
جادو کے جوتے۔
ایسی کتابیں جنہیں پہن کر ذہن صدیوں کا سفر کر سکتا ہے۔
ماضی کے مزار ہمیں قدیم تہذیبوں، عقائد اور انسانی معاشروں کی تہوں میں لے جاتی ہے۔
موسیٰ سے مارکس تک سماجی فکر کے طویل تاریخی سفر کو سمجھنے کی کوشش ہے، جبکہ پاکستان میں تہذیب کا ارتقا اس خطے کی شناخت کو چند دہائیوں کی سیاسی تاریخ کے بجائے ہزاروں برس کے تہذیبی تسلسل میں دیکھتی ہے۔
نویدِ فکر، ادب اور روشن خیالی، مارکس اور مشرق اور دوسری تحریروں کے موضوعات مختلف ہیں، مگر پس منظر میں ایک خواہش مشترک دکھائی دیتی ہے۔
انسان اور معاشرے کو تاریخ کے آئینے میں سمجھنے کی خواہش۔
سبط حسن کی فکری تعبیرات سے اتفاق ضروری نہیں۔
کسی بھی سنجیدہ مفکر کو عقیدت سے زیادہ سوال اٹھانے کی ذہنی کیفیت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
لیکن ان کی ایک بڑی خدمت سے انکار مشکل ہے۔
انہوں نے اردو کے عام قاری کو بتایا کہ تاریخ صرف بادشاہوں، جنگوں اور سلطنتوں کی داستان نہیں۔ اس کے پیچھے معیشت، محنت، عقائد، طاقت کے رشتے، تہذیب کا ارتقا اور سب سے بڑھ کر عام انسان کی زندگی، اس کی آرزوئیں اور امنگیں ہوتی ہیں۔
ان کا تحفہ یہ ہے کہ وہ علم کو خواص کی مجلس سے نکال کر عام قاری تک لے آئے۔
20 اپریل 1986ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کا جسمانی سفر ختم ہوگیا، لیکن ان کی کتابوں کا سفر جاری ہے۔
میری بچپن کی اس مختصر ملاقات کو اب کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔
مجھے سبط حسن صاحب کے چہرے کے خدوخال یاد نہیں۔
یہ بھی یاد نہیں کہ اس روز میرے بڑے بھائی اور ان کے درمیان کیا گفتگو ہوئی تھی۔
لیکن ایک منظر اب بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔
ایک سادہ سا بزرگ اپنی کرسی سے اٹھتا ہے۔
ایک بچے کو کتابوں کی الماری تک لے جاتا ہے۔
ایک کتاب نکالتا ہے۔
اور اس کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔
جادو کے جوتے۔
ممکن ہے سبط حسن کے لیے یہ ایک معمولی سا واقعہ ہو۔ شاید اگلے ہی دن وہ اسے بھول بھی گئے ہوں۔
لیکن اس بچے نے اس کتاب کو برسوں سنبھال کر رکھا تھا اور وہ آج بھی اس کی یاد میں محفوظ ہے۔
بعض ملاقاتیں اپنی طوالت سے نہیں، اپنے اثر سے اہم قرار پاتی ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ میری وہ کتاب جادو کے جوتے اب کہاں ہے۔
کتاب گم ہو چکی ہے، سفر ابھی باقی ہے۔
اور کبھی کبھی کتاب دینے والا رخصت ہو چکا ہوتا ہے، لیکن سوال کرنے کی عادت برقرار رہتی ہے۔
