جامع الفنا ، تیسری قسط
مراکش کے رنگ
شارق علی
ویلیوورسٹی
ہوٹل میں تھوڑا سا آرام کیا اور پھر ٹیکسی لے کر مراکش کے فصیلی اور تاریخی حصے، مدینہ، کی سیر کو روانہ ہوئے۔ دوپہر کا وقت تھا لیکن سورج کے مزاج میں نرمی تھی۔ شہر پوری طرح بیدار تھا۔ سڑکیں صاف ستھری اور جدید تھیں، مگر مکمل یورپی طرز پر نہیں بلکہ ان میں ایک گھریلو سی اپنائیت موجود تھی۔ راستے میں کچھ تاریخی عمارتیں اور سرسبز و شاداب باغ بھی دکھائی دیے۔ کہیں کہیں سڑک کے کنارے پیدل گزرگاہ کے ساتھ سنگتروں اور لیموؤں سے لدے درخت نظر آئے۔ کچھ دیر کے سفر کے بعد ٹیکسی والے نے ہمیں ایک وسیع و عریض میدان کے کنارے اتار دیا، کیونکہ وہاں سے آگے جانے کی ٹیکسی کو اجازت نہ تھی۔
یہ وسیع میدان جامع الفنا کہلاتا ہے اور اسے مراکش کی روح سمجھ لیجیے۔ درمیان میں کھلا سا میدان، اطراف میں دکانیں، جوس اسٹال، ریستوران، ایک کونے پر کھڑے تانگے، اور ان میں سیر اور سواری کے منتظر لوگ۔ سیاحوں سے مخاطب گائیڈ اور مقامی دکاندار۔ یہ محض ہجوم نہیں بلکہ ایک زندہ، جیتا جاگتا ثقافتی منظر تھا۔
مراکش کی ثقافت کسی ایک دور یا ایک قوم کی پیداوار نہیں۔ یہ صدیوں پر محیط تہذیبی میل جول کا نتیجہ ہے۔ یہاں قدیم بربر (Amazigh) تہذیب کی جڑیں ہیں، جن پر عرب، اندلسی (اسپین سے آئے مسلمان)، افریقی اور بعد میں یورپی اثرات چڑھتے چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ مراکش میں ایک ہی وقت میں قدامت بھی نظر آتی ہے اور جدت بھی۔
چلتے چلتے ایک مقامی گائیڈ نے ہمیں اپنی خدمات کی دعوت دی۔ ہم راضی ہو گئے اور کچھ دیر ان کے ساتھ گھومے۔ جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کی معلومات تاریخی حقائق کے بجائے روایتوں، کہانیوں اور ذاتی تجربات تک محدود ہیں، تو ہم نے فوری ادائیگی کر کے ان سے جان چھڑا لی اور خود ہی اپنے طور پر سیر کا فیصلہ کیا۔
میدان کی کشادگی میں گھوم لینے کے بعد ہم نے اطراف کی تنگ گلیوں میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان گلیوں میں مراکش کے اصل مزاج سے تعارف ہوا۔ یہ گلیاں محض بازار نہیں بلکہ صدیوں پرانا نظامِ زندگی ہیں جو آج بھی محفوظ ہے۔ بہت سی دکانیں نسل در نسل ایک ہی ہنر سے وابستہ ہیں۔ کہیں پس منظر میں مصالحے پیسے جا رہے ہیں اور سامنے مرتبانوں میں مختلف رنگ اور خوشبو کے مصالحے نمائش کے لیے سجے ہیں، کہیں چمڑا رنگا جا رہا ہے، کہیں دھات کو کوئی شکل دی جا رہی ہے۔ یہ وہی ہنر ہیں جو قرونِ وسطیٰ میں بھی غالباً اسی طرح رائج تھے۔
یہ بازار صرف خریداری کی جگہ نہیں بلکہ سماجی مراکز بھی ہیں۔ لوگ یہاں آپس میں ملتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، چائے پیتے ہیں اور روزمرہ امور پر گفتگو کرتے ہیں۔ پودینے کا مقامی قہوہ محض ایک مشروب نہیں بلکہ مہمان نوازی اور احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ قہوہ پیش کرنا گویا قبولیت کی سند ہے۔
مراکش کے مقامی لباس میں بھی تہذیبی امتزاج کی جھلک نمایاں ہے۔ روایتی جلابیہ اور قفطان آج بھی عام ہیں، مگر ان کے ساتھ جدید جینز اور جیکٹ پہنے نوجوان بھی دکھائی دیتے ہیں۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مراکش کا نوجوان ماضی سے کٹا ہوا نہیں بلکہ اپنی تاریخی شناخت کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ یہی کیفیت موسیقی میں بھی محسوس ہوئی۔ ریستورانوں میں کہیں صدیوں پرانی گناوا دھنیں گونج رہی تھیں، تو کسی جدید کیفے میں مغربی موسیقی کی دھمک سنائی دیتی تھی۔ مجھے دونوں پسند آئیں، کیونکہ دونوں میں ایک چیز مشترک محسوس ہوئی۔ زندگی کی حرارت اور ہم آہنگی۔
کوئی ڈیڑھ گھنٹے کے قریب بازار کی سیر کے بعد بھوک عروج پر تھی۔ ہم نے کونے پر واقع ایک ہوٹل کے ریستوران میں کھانے کا فیصلہ کیا۔ پہلی منزل پر موجود اس ریستوران میں بیٹھ کر آرڈر دیا گیا۔
مینیو میں بھی ثقافتی امتزاج کی جھلک صاف نظر آئی۔ تاجین میں موجود بربر سادگی، پسٹیلا میں جھلکتی اندلسی نفاست، اور کسکس میں سمٹی قدیم گھریلو عرب روایت۔ یہ کھانے صرف بھوک نہیں مٹاتے، بلکہ تاریخی داستان گوئی بھی کرتے ہیں۔
آخر میں پودینے کی چائے منگوائی گئی۔ بالکنی سے دور تک نظر آتی بازار کی ہلچل، کھلی فضا میں رنگ برنگے لباس پہنے گھومتے سیاح، اور ہاتھوں میں گرم قہوے کی پیالیاں۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہم مراکش کو دیکھ ہی نہیں رہے بلکہ اسے محسوس کر رہے ہیں۔ رنگوں، آوازوں، ذائقوں اور روایات کی تفہیم کے ساتھ۔۔۔۔جاری ہے
