Skip to content
Home » Blog » موازنے کی ثقافت اور بانس کا درخت

موازنے کی ثقافت اور بانس کا درخت

  • by

موازنے کی ثقافت اور بانس کا درخت

شارق علی
ویلیوورسٹی

رات کے گیارہ بجے ہیں اور ایک یونیورسٹی کا طالب علم اپنے کمرے میں بیٹھا موبائل استعمال کر رہا ہے۔ لنکڈ اِن پر اسے اپنے دوست کی نئی جاب کی اناؤنسمنٹ نظر آتی ہے۔ انسٹاگرام پر کسی کلاس فیلو کی یورپ ٹرپ کی تصاویر سامنے آتی ہیں۔ یوٹیوب پر ایک بائیس سالہ نوجوان کی “How I Made My First Million” کی ویڈیو دیکھنے کو ملتی ہے۔
چند منٹ بعد وہ خاموشی سے فون بند کر دیتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ زندگی میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

یہ کیفیت اور احساس آج لاکھوں نوجوانوں کے اندر پیدا ہو رہا ہے۔

ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ انسان فطری طور پر اپنا موازنہ دوسروں سے کرتا ہے۔ اسے Leon Festinger نے 1954 میں Social Comparison Theory کی صورت میں بیان کیا تھا۔ لوگ اپنی کامیابی، خوبصورتی اور صلاحیتوں کو دوسروں کے پیمانوں سے جانچنے لگتے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں ہم صرف اپنے محلے، کلاس یا خاندان کے چند لوگوں سے موازنہ کرتے تھے۔ آج سوشل میڈیا ہمارا مقابلہ پوری دنیا کے بہترین edited moments سے کروا رہا ہے۔

Instagram، TikTok اور YouTube پر لوگ اپنی ناکامیاں کم اور کامیابیاں زیادہ دکھاتے ہیں۔ آج ہم کسی شخص کی پانچ سالہ جدوجہد نہیں دیکھتے، صرف اس کی گریجویشن فوٹو، نئی کار یا ویکیشن ریل دیکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہمیں آج Cristiano Ronaldo کی کامیابی تو نظر آتی ہے، مگر ہزاروں گمنام ناکام کھلاڑی نظر نہیں آتے۔

اسی طرح Mark Zuckerberg کی اربوں ڈالر کی کمپنی تو نظر آتی ہے، مگر ہزاروں ناکام اسٹارٹ اپس کی کہانیاں نہیں۔

مسلسل کمپیریزن نوجوانوں میں اینگزائٹی، لو سیلف اسٹیم اور ڈپریشن کو بڑھا سکتا ہے۔

سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ دوسرا کہاں پہنچ گیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا آپ آج اپنے کل سے بہتر ہیں؟

اپنی رفتار پر بھروسہ کیجیے۔ ہر انسان کی گھڑی الگ رفتار پر چلتی ہے۔
بعض درخت چند مہینوں میں تیزی سے اگ جاتے ہیں، جبکہ بانس کا درخت کئی سال زمین کے اندر اپنی جڑیں خاموشی سے مضبوط کرتا رہتا ہے، اور پھر اپنا وقت آنے پر اچانک تیزی سے بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ہو سکتا ہے آپ کی جڑیں ابھی مضبوط ہو رہی ہوں۔ آپ کا وقت بھی آئے گا۔ قدم بہ قدم اپنی رفتار میں چلتے رہیے، دوسروں کی طرف دیکھے بغیر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *