توجہ کا بحران
شارق علی
ویلیوورسٹی
رات کا ایک بجا ہے۔ ایک نوجوان صرف “چند منٹ” کے ارادے سے اپنا فون کھولتا ہے۔ ایک ویڈیو سے دوسری ویڈیو پر سکرولنگ، پھر تیسری اور چوتھی ویڈیو۔ جب وہ اسکرین بند کرتا ہے تو ایک گھنٹہ گزر چکا ہوتا ہے۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کیا دیکھا اور کیوں دیکھا۔ صرف اتنا احساس باقی رہ جاتا ہے کہ اس کی توجہ، وقت اور ذہنی توانائی کہیں نہ کہیں ضائع ہو گئی ہے۔
یہ آج کے دور کا ایک اہم مسئلہ ہے: توجہ کا بحران۔ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں یہ موضوع پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
میری رائے میں TikTok، Instagram اور YouTube نہ تو مکمل طور پر برے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر اچھے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اگر ہماری زندگی کا مقصد واضح ہے، ہم جانتے ہیں کہ ہم کیا سیکھنا چاہتے ہیں، کس میدان میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، اور ہماری بنیادی اقدار کیا ہیں، تو یہی پلیٹ فارمز ہمارے لیے بیش بہا علم کے دروازے بن سکتے ہیں۔ ہم Neil deGrasse Tyson، Brian Cox اور David Attenborough جیسے ماہرین کی مدد سے دنیا کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
لیکن اگر ہمارے ذہن میں ہمارا مقصد اور ہماری بنیادی اقدار واضح نہ ہوں تو الگورتھم ہماری توجہ خرید لیتا ہے۔ وہ ہمیں اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
ایک خطرناک حقیقت یہ ہے:
اگر ہم اپنی توجہ پر قابو نہیں رکھ سکیں گے تو مستقبل میں کوئی اور ہماری توجہ کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لے گا۔
اس لیے سوشل میڈیا چھوڑنے کی نہیں، بلکہ اسے سمجھ داری سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
غیر ضروری سکرولنگ کم کیجیے۔
اپنے رشتوں کو وقت دیجیے۔
روزانہ کچھ وقت مکمل طور پر ڈیجیٹل دنیا سے دور گزاریے۔
اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کو اپنے بڑے مقصد کی طرف مرکوز رکھیے۔
آپ کی توجہ ہی… آپ کا مستقبل ہے۔
