Skip to content
Home » Blog » جعفر پناہی ، فلم ساز یا خود ایک کہانی

جعفر پناہی ، فلم ساز یا خود ایک کہانی

  • by

جعفر پناہی ، فلم ساز یا خود ایک کہانی

شارق علی
ویلیوورسٹی

صدر ٹرمپ ایرانی تہذیب کو فنا کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ ایرانی عوام غول در غول پاور ہاؤسز اور شہری پلوں کی حفاظت کے لیے جوق در جوق تہران کی گلیوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
تہران کی ایک گلی میں جیسے ہی ہجوم بے اختیار آگے بڑھتا ہے، کوئی آواز لگاتا ہے اور پھر سارا مجمع بول اٹھتا ہے:

“بیا، بیا!”

ایک دبلا پتلا آدمی، شرمیلی مسکراہٹ لیے، اس مجمع میں شامل ہو کر ہجوم میں گم ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں، بلکہ Jafar Panahi، مشہور عالم فلم ساز کی تہران واپسی کا حقیقی سین ہے۔

ایک فلم ساز، جو آخرکار اپنے دل کے قریب ترین محبت کی کہانی میں ایک زندہ کردار بن کر لوٹ آیا ہے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر، اور دار و رسن کی آزمائش کے خطرے سے ایک قدم آگے بڑھ کر۔

پناہی کی زندگی ہمیشہ سچ کے قریب رہی۔ The White Balloon سے لے کر The Circle اور Offside تک، انہوں نے ایک جبر زدہ معاشرے میں عام انسان، خاص طور پر مظلوم عورت، کی جدوجہد اور اس کے بیانیے کو فلمایا۔

فنکارانہ آزادیِ فکر اور یہی سچ ان کے لیے ایک جرم قرار پایا۔ 2010 میں انہیں قید اور بیس سال تک فلم نہ بنانے کی پابندی کی سزا سنائی گئی۔

یہ پابندی نہ صرف فلم بنانے پر تھی، بلکہ آزادیٔ رائے رکھنے اور بولنے پر بھی، یہاں تک کہ ملک چھوڑنے پر بھی پابندی عاید کی گئی

لیکن ایک سچے فلم ساز کے لیے کہانی سے دوری ممکن نہیں ہوتی۔ خود اپنی فنکارانہ سرشت کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔ نظر بندی کے دوران انہوں نے This Is Not a Film بنائی۔ اپنے ہی کمرے میں، موبائل کیمرے کی مدد سے۔ یہ فلم خفیہ طور پر دنیا تک پہنچی، اور دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ پابندیاں بھی تخلیق کار کو روک نہیں سکتیں۔

پھر انہوں نے ایک سادہ مگر غیر معمولی فلم بنائی، Taxi۔

اس فلم میں خود Jafar Panahi تہران کی سڑکوں پر ٹیکسی چلاتے نظر آتے ہیں۔ مختلف مسافر آتے ہیں، اپنی کہانیاں سناتے ہیں، اور یوں ایک شہر کی مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ فلم دراصل ایران کے سماجی، اخلاقی اور سیاسی حالات کا ایک زندہ اور بھرپور عکس ہے۔ سادگی میں چھپی ہوئی گہری سچائی کے ساتھ۔

اس فلم نے Berlin International Film Festival میں Golden Bear ایوارڈ جیتا، جو اس کی عالمی اہمیت کا ثبوت ہے۔

پھر ایک دن، سب کچھ بدل جاتا ہے۔

وہی پناہی، جو پابندیوں، جیل اور جلاوطنی کے سائے میں جیتے رہے، اچانک تہران کی گلیوں میں لوٹ آنے کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں۔ وہ جن لوگوں کے لیے زندہ رہے، اب ان کے ساتھ مل کر مرنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی طرح جلا وطنی ترک کر کے تہران پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

لوگ انہیں تہران کی ایک گلی میں گھیر لیتے ہیں، جیسے ان کی کہانی کا ہیرو واپس آ گیا ہو۔

ریاست، جو کبھی ان کی آواز سے خائف تھی، ان پر سے مقدمات ہٹا دیتی ہے۔ انہیں آگے بڑھ کر دوبارہ گلے لگا لیتی ہے۔
ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ نے خود کو درست سمت میں کر لیا ہو، اور سچ کی حمایت میں بے اختیار بول اٹھی ہو۔

یہ صرف ایک فلم ساز کی نہیں، ایک تہذیب کی بازیافت ہے۔ ایک ایسی تہذیب جسے مٹانا اور نیچا دکھانا کسی طور ممکن نہیں۔

پناہی کی کہانی سکرین پر نہیں، تہران کی سڑکوں پر فلمائی گئی ہے اور نمایش کے لیے تیار ہے۔

جب ایک سچا فنکار اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہو جائے، تو کہانی کا انجام صرف اور صرف کامیابی ہوتا ہے۔ بھرپور کامیابی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *