Skip to content
Home » Blog » تھیٹر آف دی ایبسرڈ: زندگی کا مطلب کیا؟

تھیٹر آف دی ایبسرڈ: زندگی کا مطلب کیا؟

  • by

تھیٹر آف دی ایبسرڈ: زندگی کا مطلب کیا؟

شارق علی
ویلیوورسٹی

ذرا ایک منظر کو ذہن کے پردے پر لا کر سوچیے۔
دو آدمی ایک سنسان راہگزر پر کھڑے ہیں۔ وہ کسی کا انتظار کر رہے ہیں۔
وقت گزرتا ہے، مکالمے ادا ہوتے ہیں۔ بے معنی اور ادھورے مکالمے…
اور آخر میں پتا چلتا ہے کہ جس کا انتظار تھا، وہ کبھی آئے گا ہی نہیں۔

یہ عجیب سا منظر دراصل ایبسرڈ تھیٹر کی دنیا ہے۔

یہ اندازِ تھیٹر دوسری جنگِ عظیم کے بعد سامنے آیا، جب انسان نے بہت کچھ کھو دیا تھا۔ امید بھی، یقین بھی، اور شاید زندگی کا واضح مقصد بھی۔
لوگوں کے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھرنے لگا:
ہم یہاں کیوں ہیں؟

یہیں سے ایک اور فلسفہ سامنے آتا ہے جسے وجودیت کہا جاتا ہے۔

سادہ لفظوں میں، یہ فلسفہ کہتا ہے کہ زندگی ہمیں بنا بنایا مطلب نہیں دیتی۔
ہم خود اپنے فیصلوں، اپنے عمل اور اپنے رویّوں سے اس کا مطلب پیدا کرتے ہیں۔

فرانسیسی مفکر البرٹ کامیو نے اسی کیفیت کو “ایبسرڈ” کہا۔
یعنی انسان معنی تلاش کرتا ہے، مگر کائنات جواب میں خاموش رہتی ہے۔
یہی ٹکراؤ “بے معنویت” کا احساس پیدا کرتا ہے۔

اسی سوچ کو ڈرامے کی شکل میں سیموئیل بیکٹ نے اپنے مشہور ڈرامے “گاڈو کا انتظار” میں پیش کیا، جہاں کردار مسلسل انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ایک ایسے جواب کا، جو کبھی نہیں آتا۔

یہ تھیٹر ہمیں کہانی نہیں سناتا، بلکہ ایک احساس دیتا ہے۔

وہ احساس کہ ہم کبھی کبھی زندگی میں راستہ ڈھونڈتے رہتے ہیں، مگر واضح جواب نہیں ملتا۔
مگر شاید اس میں ایک چھپی ہوئی امید بھی ہے:

اگر زندگی خود ہمیں معنی نہیں دیتی…
تو ہمیں یہ آزادی ضرور دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا مقصد اور مطلب خود پیدا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *