Skip to content
Home » Blog » کہانی نمبر 3, جب جسم میں “بجلی” دوڑی

کہانی نمبر 3, جب جسم میں “بجلی” دوڑی

  • by

ذہانت کا ارتقاء
کہانی نمبر 3, جب جسم میں “بجلی” دوڑی

شارق علی
ویلیوورسٹی

پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کثیر خلوی جانداروں کے خلیے ایک دوسرے کے ساتھ کیمیائی پیغامات کے ذریعے رابطہ کرتے تھے۔ یہ نظام کام تو کرتا تھا، لیکن ایک مسئلہ تھا. یہ بہت سست رفتار نظام تھا۔

جیسے جیسے جاندار بڑے ہوتے گئے، یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہونے لگا۔ اگر جسم کے ایک سرے پر خطرہ ظاہر ہو جائے تو دوسرے سرے تک اس کی خبر پہنچنے میں کافی وقت لگ سکتا تھا۔

ارتقاء کو ایک بہتر حل درکار تھا۔

چنانچہ قدرت نے ایک حیرت انگیز حل تلاش کیا۔ اعصابی خلیے (Neurons)

یہ ایسے خصوصی خلیے تھے جو کیمیائی پیغامات کے ساتھ ساتھ برقی سگنلز بھی منتقل کر سکتے تھے۔ پہلی بار زندگی کی تاریخ میں معلومات صرف رینگتی ہوئی نہیں بلکہ دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔

اس کی ایک سادہ مثال ہائیڈرا ہے

(Hydra)
ہائیڈرا ایک چھوٹا سا آبی جانور ہے جو تالابوں اور جھیلوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے پاس دماغ نہیں ہوتا، لیکن اس کے جسم میں اعصابی خلیوں کا ایک جال موجود ہوتا ہے۔ اگر اس کے جسم کو کہیں چھوا جائے تو یہ تقریباً فوراً ردِعمل ظاہر کرتا ہے اور اپنا جسم سکیڑ لیتا ہے۔

یہ ایک بہت بڑی پیش رفت تھی۔

اب پہلی مرتبہ جاندار اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں پر تیزی سے ردِعمل دے سکتے تھے۔ خوراک کا تعاقب کرنا، شکاری سے بچنا اور اپنے جسم کی حرکات کو مربوط کرنا پہلے سے کہیں آسان ہو گیا۔

یوں اعصابی نظام نے جسم کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک حقیقی “معلوماتی شاہراہ” بنا دی۔ لاکھوں خلیے اب الگ الگ کام کرنے کے بجائے ایک متحد نظام کی طرح کام کرنے لگے۔

لیکن ارتقاء کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔

اعصابی خلیے تو بن گئے تھے، مگر جلد ہی ایک نیا سوال سامنے آیا۔ اگر جسم میں ہزاروں اعصابی خلیے موجود ہوں تو ان کی معلومات کو منظم کون کرے؟ فیصلے کون کرے؟ اور مختلف پیغامات کو ایک جگہ جمع کر کے ان کا مطلب کون سمجھے؟

اسی سوال نے ارتقاء کو اگلے عظیم انقلاب کی طرف دھکیلا

مرکزی اعصابی مراکز اور ابتدائی دماغ کا ظہور۔

یہ کہانی انگلی قسط میں

ذہانت کے ارتقاء کے اس دلچسپ سفر میں ہمارے ساتھ رہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *