کامیاب ڈاکٹر
شارق علی
ویلیوورسٹی
ایک ڈاکٹر کی کامیابی کا معیار کیا ہے؟ اس کی ڈگریاں، اس کا عہدہ، اس کا مصروف کلینک، اس کی آمدنی، یا معاشرے میں اس کا بلند مقام؟
یہ سب اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، مگر اصل کامیابی ان میں سے کسی ایک چیز میں بھی پوشیدہ نہیں۔
طب ان چند پیشوں میں سے ہے جن کی بنیاد صرف علم پر نہیں، بلکہ اعتماد پر بھی قائم ہے۔ مریض جب ڈاکٹر کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ اپنا جسم اور اپنا مرض ہی نہیں، بلکہ اپنا خوف، اپنی بے بسی اور اپنی امید بھی اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اسی لمحے ڈاکٹر صرف ایک پیشہ ور نہیں رہتا، بلکہ انسانی اعتماد کا امین بن جاتا ہے۔ اس لیے ایک ڈاکٹر کی اصل دنیا اس کے اور اس کے مریض کے درمیان آباد ہوتی ہے۔ اگر یہ رشتہ اعتماد، دیانت اور ہمدردی سے مضبوط ہے تو ڈاکٹر کامیاب ہے، خواہ اس کا نام کبھی شہ سرخیوں میں آئے یا نہ آئے۔
بدقسمتی سے اکثر ڈاکٹر بھی اس اصل کامیابی سے ناواقف رہتے ہیں۔ وہ اسی موازنہ کی ثقافت کا شکار ہو جاتے ہیں جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ زیادہ آمدنی، بڑا کلینک، مہنگی گاڑی، بلند سماجی مرتبہ اور دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ رفتہ رفتہ کامیابی کی نئی تعریف بن جاتی ہے۔
پھر مریض ایک انسان کے بجائے محض ایک “کیس” یا “کسٹمر” بننے لگتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں طب، خدمت سے تجارت کی طرف پھسلنے لگتی ہے۔
جب مالی مفادات پیشہ ورانہ فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں، جب غیر ضروری ٹیسٹ، غیر ضروری ادویات یا غیر ضروری مداخلتیں معمول بن جائیں، یا جب کسی بھی قسم کی ترغیبات اور مفادات کے ٹکراؤ طبی فیصلوں پر سایہ ڈالنے لگیں، تو سب سے پہلے مریض کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
خصوصاً بہت سے ترقی پذیر ممالک میں طبی نظام مختلف معاشی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ ادویہ ساز کمپنیوں کے غیر اخلاقی اثرات بھی اس امتحان کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں دیانت دار رہنا صرف ایک پیشہ ورانہ خوبی نہیں، بلکہ اخلاقی جرأت بھی ہے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ڈاکٹر دولت نہ کمائے یا باوقار زندگی نہ گزارے۔ محنت کا جائز صلہ ہر انسان کا حق ہے۔ لیکن دولت ایک اچھے ڈاکٹر ہونے کا نتیجہ ہو سکتی ہے، مقصد نہیں۔ جب مقصد بدل جاتا ہے تو فیصلے بھی بدل جاتے ہیں۔
مصر کے ڈاکٹر محمد مشالی اسی سوچ کی ایک روشن مثال تھے۔
انہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک نہایت معمولی فیس پر غریب مریضوں کا علاج کیا اور بہت سے لوگوں کو اپنی جیب سے دوائیں بھی فراہم کیں۔ ان کی عظمت اس بات میں نہیں تھی کہ ہر ڈاکٹر ان جیسا بن جائے، بلکہ اس بات میں تھی کہ انہوں نے دنیا کو یہ یاد دلایا کہ طب کی روح آج بھی زندہ ہے۔
آخرکار، ایک ڈاکٹر کی اصل کامیابی اس کے بینک اکاؤنٹ، عہدے یا سماجی مرتبے سے نہیں ناپی جا سکتی۔
اس کی کامیابی کا حقیقی معیار ان لوگوں کے دل ہیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں شفا، احترام، اطمینان اور امید پائی۔
ایک ڈاکٹر کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ نہیں کہ لوگ اسے ایک عظیم معالج کہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ خاموشی سے یہ کہیں:
“جب ہم تکلیف میں تھے تو یہ شخص ہمارے ساتھ کھڑا تھا۔”
