میری اور سرخ گلاب
(ہارڈ پرابلم آف کانشیسنس)
شارق علی
ویلیوورسٹی
میری ایک غیر معمولی سائنس دان تھی۔ وہ دماغ اور شعور کی ماہر تھی۔ پوری دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جسے انسانی دماغ کے بارے میں اتنا علم حاصل ہو جتنا میری کو تھا۔
وہ جانتی تھی کہ آنکھ روشنی کو کیسے محسوس کرتی ہے۔ ریٹینا کے خلیے کس طرح کام کرتے ہیں۔ اعصابی پیغامات دماغ تک کیسے پہنچتے ہیں۔ دماغ کے کون سے حصے رنگوں کی شناخت کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو سرخ رنگ نظر آئے تو اس کے دماغ میں کون سے نیوران متحرک ہوتے ہیں اور کون سے کیمیائی عمل وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
لیکن میری کی زندگی میں ایک عجیب بات تھی۔
وہ پیدائش سے ایک ایسے ماحول میں رہتی تھی جہاں ہر چیز سیاہ اور سفید تھی۔
اس کا کمرہ سیاہ اور سفید تھا۔ اس کی کتابیں سیاہ اور سفید تھیں۔ اس کے کپڑے، اس کا کھانا، اس کے کمپیوٹر کی اسکرین، حتیٰ کہ کھڑکی سے نظر آنے والی دنیا بھی صرف سیاہ اور سفید رنگوں پر مشتمل تھی۔
وہ رنگوں کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی، مگر اس نے کبھی کوئی رنگ دیکھا نہیں تھا۔
خصوصاً سرخ رنگ۔
وہ جانتی تھی کہ سرخ گلاب کی روشنی کی طولِ موج کتنی ہوتی ہے۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ سرخ رنگ دیکھتے وقت دماغ کے کون سے حصے سرگرم ہوتے ہیں۔ لیکن اس نے کبھی اپنی آنکھوں سے سرخ رنگ کا تجربہ نہیں کیا تھا۔
پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میری پہلی بار اپنے سیاہ و سفید کمرے سے باہر نکلی۔
باہر بہار کا موسم تھا۔
ہوا میں خوشبو گھلی ہوئی تھی۔
اس نے سامنے باغ کی طرف دیکھا۔
اور وہاں ایک گلاب کھلا ہوا تھا۔
سرخ گلاب۔
میری چند لمحوں تک خاموش کھڑی رہی۔
اس کی آنکھیں گلاب پر جمی تھیں۔
وہ جانتی تھی کہ یہ سرخ رنگ ہے۔
مگر اب وہ صرف “جان” نہیں رہی تھی۔
اب وہ “دیکھ” بھی رہی تھی۔ ” محسوس” بھی کررہی تھی
کیا میری نے کچھ نیا سیکھا ؟
کیا اس لمحے اس کے اندر کچھ ایسا وقوع پذیر ہوا جو کسی کتاب میں نہیں لکھا جا سکتا تھا؟
اس نے پہلی بار جانا کہ سرخ رنگ کیسا محسوس ہوتا ہے۔
یہ کوئی نئی مساوات نہیں تھی۔
کوئی نیا نیورون دریافت نہیں ہوا تھا۔
کوئی نیا سائنسی قانون سامنے نہیں آیا تھا۔
پھر بھی کچھ نیا ہوا تھا۔
اس نے ایک ایسا ذاتی تجربہ حاصل کیا تھا جو تمام سائنسی معلومات کے باوجود اس کے پاس پہلے موجود نہیں تھا۔
یہی وہ سوال ہے جسے فلسفی ڈیوڈ چالمر “ہارڈ پرابلم آف کانشیسنس” کہتے ہیں۔
سائنس ہمیں بتا سکتی ہے کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے۔
وہ یہ بھی بتا سکتی ہے کہ سرخ رنگ دیکھتے وقت کون سے خلیے سرگرم ہوتے ہیں۔
لیکن ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔
سرخ رنگ سرخ “کیوں محسوس” ہوتا ہے؟
درد صرف اعصابی سگنل نہیں، درد “درد جیسا” کیوں محسوس ہوتا ہے؟
محبت صرف کیمیائی تعامل نہیں، محبت کا ذاتی احساس کیوں پیدا ہوتا ہے؟
یہی وہ اندرونی، ذاتی اور ناقابلِ منتقلی تجربات ہیں جنہیں فلسفی “کوالیا” (Qualia) کہتے ہیں۔
شاید دماغ کو سمجھ لینا آسان ہو۔
مگر یہ سمجھنا کہ شعور کے اندر روشنی کیسے فروزاں ہے، خوشبو خوشبو کیوں محسوس ہوتی ہے، اور سرخ رنگ سرخ کیوں لگتا ہے، انسانی علم کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہے۔
اور یہی راز “ہارڈ پرابلم آف کانشیسنس” کہلاتا ہے۔
