Skip to content
Home » Blog » لائبریری آف کانگریس، سوال اور دانش

لائبریری آف کانگریس، سوال اور دانش

  • by

لائبریری آف کانگریس، سوال اور دانش

شارق علی
ویلیوورسٹی

آج کا پورا دن واشنگٹن ڈی سی کی سیر کے نام تھا۔

پروگرام کے مطابق تقریباً دس بجے صبح ہم میٹرو سے Capitol South اسٹیشن پہنچے۔ زیرِ زمین اسٹیشن سے ایک طویل ایسکلیٹر ہمیں آہستہ آہستہ زمین کی سطح پر لے آیا۔ لندن کے مصروف اسٹیشنوں کے برعکس یہاں کشادگی اور سکون تھا۔ لوگ نسبتاً کم تھے۔ سامنے چوڑی سڑکیں، بلند و بالا سرکاری عمارتیں اور امریکی دارالحکومت کا پُروقار منظر پھیلا ہوا تھا۔

میں اور مونا کتابوں سے بھرے بیگ اٹھائے لائبریری آف کانگریس کی سمت چلنے لگے۔ اس کے Capitol Hill campus کی مختلف عمارتیں ہمارے اردگرد تھیں۔

پھر ہم نے سڑک عبور کی اور بالآخر اس عظیم الشان عمارت کے سامنے پہنچے جسے Thomas Jefferson Building کہا جاتا ہے۔
بلند ستون، سنگِ مرمر کی سیڑھیاں، مجسمے اور کلاسیکی طرزِ تعمیر۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے عمارت خود یہ اعلان کر رہی ہو کہ انسانی تہذیب میں علم محض ضرورت نہیں، اس کا وقار بھی ہے۔

آج ہم یہاں صرف سیاحت کے لیے نہیں آئے تھے۔

ہمارے بیگ میں میری لکھی ہوئی پانچ کتابوں کی دو دو جلدیں تھیں۔ ان میں ’’دادا جی اور میں‘‘ اور ’’کان کن‘‘ بھی شامل تھیں۔ زیادہ تر کتابیں میں نے اٹھا رکھی تھیں اور کچھ مونا نے۔
آج ہم انہیں Library of Congress کو تحفتاً پیش کرنے آئے تھے۔

علم کے اس سمندر میں اپنا قطرۂ جاں شامل کرنے۔

ہم نے ہدایات کے مطابق متعلقہ داخلی راستہ اختیار کیا۔ دروازے پر باوردی سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔ ہم نے انہیں اپنے آنے کا مقصد بتایا۔

ہماری شناخت چیک کی گئی اور قریب موجود مشین پر اپنی تفصیلات درج کرنے کی ہدایت ملی۔ ضروری کارروائی کے بعد داخلے کا پاس مل گیا۔ اس کی کوئی فیس نہیں تھی۔
بیگ اور سامان کی سکیورٹی جانچ کے بعد ہم اندر داخل ہوئے۔ ایک کے بعد دوسرا کوریڈور سامنے آتا چلا گیا۔

مختلف سمتوں میں لائبریری کے الگ الگ شعبوں اور Reading Rooms کی نشان دہی موجود تھی۔
ہر طرف کتابیں تھیں۔
کتابیں۔
بے شمار کتابیں۔
الماریوں، کمروں اور ہالوں میں محفوظ انسانی تجربے کی فکری صدیاں۔

ہم نے ایک استقبالیہ پر بتایا کہ ہم اردو میں لکھی ہوئی اپنی کتابیں جمع کرانا چاہتے ہیں۔ وہاں موجود اہلکار نے ہماری رہنمائی کی:
’’آپ South Asian Collection سے متعلق عملے سے ملیں۔‘‘

وہ ہمیں متعلقہ جگہ تک لے گیا۔ وہاں ہم نے اپنی کتابیں پیش کیں۔

عملے نے ضروری تفصیلات لیں اور نہایت خوش اخلاقی سے کتابیں وصول کر لیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ ان کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ طے کیا جائے گا کہ انہیں Library of Congress کے ذخیرے میں شامل کیا جا سکتا ہے یا کسی دوسرے مناسب کتب خانے کے لیے بھیجا جائے۔
یہ میرے لیے ایک خوشگوار اور یادگار لمحہ تھا۔

ایک غیر معروف لکھنے والے کی پانچ کتابیں دنیا کے عظیم علمی ذخائر میں سے ایک کے دروازے تک تو پہنچ گئی تھیں۔ اب ان کتابوں کا سفر خود ان پر منحصر تھا، میری رضا اور منشا سے بے نیاز۔

ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ہم دونوں اس وسیع لائبریری میں کچھ دیر گھومے۔
معلومات کا اتنا بڑا یکجا ذخیرہ ہم نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

چاروں طرف جوابات ہی جوابات تھے۔
فلسفیوں کا علم، سائنس دانوں کی دریافتیں، مؤرخوں کی تحقیق، شاعروں کی خیال آرائی۔ طب، نفسیات، سیاست، مذہب، معاشرت، محبت، جنگ، امن، زندگی اور موت۔ صدیوں پر محیط انسانی جستجو کا خزانہ۔

میرے ذہن میں اچانک ایک خیال کوندا۔

اگر دنیا کا تمام علم ہماری دسترس میں ہو، لیکن ہمارے پاس پوچھنے کو کوئی سوال نہ ہو، تو اس سارے علم کا کیا فائدہ؟

ہمارے موجودہ عہد کا بنیادی مسئلہ علم کی کمی یا اس کی فراہمی نہیں ہے۔

انسانی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایک عام آدمی کو اتنے وسیع علم تک اتنی آسان رسائی حاصل ہے جس کا چند صدیاں پہلے بڑے سے بڑا بادشاہ بھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ کتابیں، تحقیقی مقالے، ویڈیوز، لیکچرز، پوڈکاسٹس، Search Engines اور اب Artificial Intelligence—معلومات اور جوابات کا ایک بے کنار ذخیرہ تقریباً ہر وقت ہماری انگلیوں تلے موجود ہے۔
لیکن اس فراوانی کے بیچ سب سے اہم سوال شاید یہ ہے:

ہمارا سوال کیا ہے؟
ہماری انفرادی جستجو کیا ہے؟
زندگی کے اس مرحلے پر ہمارے لیے کیا جاننا اہم ہے؟
میری صحت؟ میں کیا کھاؤں؟ کتنی ورزش کروں؟ بڑھتی عمر کو صحت مند انداز میں کیسے گزاروں؟
ازدواجی رشتہ، دوستی، کام، دولت، بڑھاپا، تنہائی، معاشرہ، سیاست، اخلاقیات اور موت۔ ان سب کے بارے میں میرا، صرف میرا سوال کیا ہے؟

یہ سوال کوئی یونیورسٹی یا اس کا نصاب میرے لیے طے نہیں کر سکتا۔
میرا سوال میری زندگی، میری ضروریات، میری دلچسپیوں اور میری اقدار سے پیدا ہوتا ہے۔

لائبریری آف کانگریس میں کتابوں کے اس بے کنار ذخیرے کے درمیان مجھ پر ایک راز کھلا:
علم اور دانش کے درمیان ایک دروازہ ہے۔ انفرادی سوال کا دروازہ۔

علم ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کے بارے میں کیا کچھ معلوم ہے۔

دانش یہ جاننا ہے کہ اس بے کنار علم میں سے میرے لیے، اس وقت، کیا جاننا ضروری ہے۔

Library of Congress کے طویل کوریڈورز اور کتابوں سے بھرے Reading Rooms سے گزرتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے انسانی تہذیب نے ہمارے سامنے ایک عظیم الشان بہتا ہوا دریا رکھ دیا ہو۔
یہ بے کنار دریا علم ہے۔

اگر مجھے اپنا انفرادی سوال معلوم ہے؛ اگر میں جانتا ہوں کہ میرا لمحۂ موجود کیا ہے، میری اندرونی اور بیرونی صورتِ حال کیا ہے، اور اپنی پیاس بجھانے کے لیے مجھے اس عظیم دریا کے کس کنارے سے پانی لینا ہے

تو شاید یہی دانش ہے۔

گویا سوال، دانش مندی کا آغاز ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *