Skip to content
Home » Blog » صحرا کی شام, تیرہویں قسط

صحرا کی شام, تیرہویں قسط

  • by

صحرا کی شام, تیرہویں قسط

مراکش کے رنگ

شارق علی
ویلیوورسٹی

کچھ دیر کمرے میں آرام کرنے کے بعد ہم ہوٹل کی لابی میں آ کر بیٹھ گئے۔

شام کے چار بجنے میں ابھی چند ہی منٹ باقی تھے۔ آج ہمیں اگافے صحرا (Agafay Desert) میں غروبِ آفتاب کا نظارہ کرنا تھا۔ اس ٹور میں صحرائی شام، اونٹ کی سواری، ڈنر، ثقافتی رقص اور مقامی فنکاروں کی بازیگری شامل تھی۔
واٹس ایپ پر ہمارا گائیڈ جمال مسلسل رابطے میں تھا۔ گاڑی جلد ہی ہمیں لینے کے لیے پہنچنے والی تھی۔

چند منٹ بعد ہم ہوٹل سے نکل کر ٹور والی کار میں آ بیٹھے۔ جمال کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر سرمد موجود تھا۔ میرے اور مونا کے علاوہ گاڑی میں ایک بائیس تئیس سالہ چینی نژاد ملائیشیائی طالبہ جولیٹ بھی تھی جو لیڈز میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ وہ نہایت خوش اخلاق اور مہذب لڑکی نکلی۔ مختصر تعارف کے بعد ہم باہم گھل مل گئے اور سفر شروع ہوا۔

مراکش بہت بڑا شہر نہیں ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان اور بھارت کے متوسط درجے کے شہروں جیسا محسوس ہوتا ہے، لیکن صفائی ستھرائی اور شہری نظم و ضبط کے اعتبار سے اس کا معیار خاصا بہتر نظر آیا۔ صاف ستھری سڑکیں اور منظم ماحول شہر کا خوشگوار تاثر پیش کرتے تھے۔

راستے میں ہمیں شام کی چائے کے لیے ایک بربر گاؤں لے جایا گیا جہاں مختلف ممالک سے آئے ہوئے سیاح پہلے سے موجود تھے۔

یہاں شام کی چائے کے ساتھ سیاحوں کو آرگن (Argan) کے درخت اور ان سے تیار ہونے والی مصنوعات سے بھی متعارف کروایا جاتا ہے۔ آرگن کے تیل سے مختلف اقسام کی کریمیں، بیوٹی پراڈکٹس اور دیگر اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ مقامی خواتین اس صنعت میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں اور یہ علاقے کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہم سمیت بہت سے سیاحوں نے وہاں سے کچھ خریداری بھی کی۔

یہ چھوٹا سا بربر گاؤں اپنی تنگ گلیوں، مختصر دکانوں اور مقامی طرزِ زندگی کی دلکش جھلک پیش کرتا تھا۔

چائے کا انتظام بھی دلچسپ تھا۔ مقامی روٹی کے چھوٹے ٹکڑے ایک طشتری میں اور مختلف اقسام کے شہد اور مونگ پھلی سے تیار کردہ چٹنیاں چھوٹی پیالیوں میں ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ روٹی کے ٹکڑے کو کسی چٹنی یا شہد میں ڈبو کر مراکشی پودینے والی چائے کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ یہی سادہ مگر خوش ذائقہ ضیافت ہمارے لیے بھی ترتیب دی گئی تھی۔
چائے سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم دوبارہ گاڑی میں سوار ہوئے اور اگافے صحرا کی جانب روانہ ہو گئے۔

شام ڈھلنے لگی تھی۔ سورج مغرب کی جانب جھک رہا تھا، لیکن روشنی ابھی باقی تھی۔ شہری منظر آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا اور اس کی جگہ صحرائی منظرنامہ لے رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد ہم پکی سڑک چھوڑ کر کچے، گرد آلود راستوں پر سفر کر رہے تھے۔

دور دور تک پھیلی سرخی مائل زمین اور سنہری دھوپ ایک دلکش منظر پیش کر رہی تھی۔ پس منظر میں ہائی اٹلس (High Atlas) کے پہاڑی سلسلے کی سرخ پہاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ یہی وہ عظیم سلسلۂ کوہ ہے جو مراکش کے جنوبی افق پر دور تک پھیلا ہوا ہے اور جس کی برف پوش بلند چوٹیاں بعض اوقات مراکش شہر سے بھی دکھائی دیتی ہیں۔

غروبِ آفتاب کی روشنی میں ان پہاڑیوں کے رنگ مزید گہرے اور دلکش ہو گئے تھے۔ بعض مقامات پر زمین اس قدر سرخ دکھائی دیتی تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم زمین پر نہیں بلکہ مریخ کی سطح پر سفر کر رہے ہوں۔
گاڑی خاموشی سے آگے بڑھ رہی تھی اور صحرا کے مناظر مسلسل بدل رہے تھے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہم اگافے کے دل میں اور گہرائی تک اترتے جا رہے تھے۔

آخرکار ہم ایک وسیع میدان میں جا پہنچے جہاں متعدد سیاحتی گاڑیاں پہلے ہی سے پارک تھیں۔

ہمارا استقبال روایتی مراکشی انداز میں کیا گیا اور ہمیں مقامی طرز کا ایک گاؤن اور نیلا صحراوی اسکارف پہنایا گیا تاکہ ہم خود کو اس ماحول کا حصہ محسوس کر سکیں۔

اگلا مرحلہ اونٹوں کی سواری کا تھا۔ اگرچہ یہ سفر زیادہ طویل نہیں تھا، لیکن صحرا میں اونٹ کی پشت پر بیٹھنے کا تجربہ اپنی جگہ ایک منفرد لطف رکھتا ہے۔ اس دوران چند یادگار تصاویر بھی کھینچی گئیں۔
کچھ دیر بعد ہم اس مقام پر پہنچے جہاں شام کا مرکزی پروگرام منعقد ہونا تھا۔

مٹی اور پتھروں سے بنے سادہ مگر خوبصورت یک منزلہ عمارتی ڈھانچے، یعنی صحرائی ریسٹورنٹ، کو روایتی انداز میں سجایا گیا تھا۔

درمیان میں لکڑی کی گول میزیں اور نشستیں رکھی گئی تھیں۔ ہر میز پر چراغ اور پھول سجے تھے، جبکہ چاروں طرف پھیلا صحرا دور تک دکھائی دیتا تھا۔ یہ منظر اپنی سادگی میں نہایت دلکش تھا۔

ہم اپنی نشستوں پر بیٹھے تو مختلف مشروبات سے تواضع کی گئی۔ مشروبات ہاتھ میں لیے ہم سامنے پھیلے صحرا اور آسمان کے بدلتے رنگوں کا نظارہ کرنے لگے۔ سورج آہستہ آہستہ اپنے افق کی طرف جھک رہا تھا۔ سنہری روشنی پہلے نارنجی اور پھر سرخی مائل رنگوں میں تبدیل ہونے لگی۔ صحرا کی خاموشی اور آسمان کے بدلتے رنگ گویا ہم سے ہم کلام تھے۔
سورج غروب ہوا تو پس منظر میں مقامی موسیقار نرم سروں میں دھنیں بکھیرنے لگے۔

موسیقی، صحرا اور غروبِ آفتاب کے اس حسین امتزاج نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔

اندھیرا بڑھنے لگا تو کیمپ میں جگہ جگہ رکھے گئے الاؤ روشن کر دیے گئے۔ آسمان پر نمودار ہوتے ستارے اور زمین پر جلتے الاؤ ایک دوسرے کے حسن میں اضافہ کر رہے تھے۔

چراغوں اور الاؤ کی مدھم و بھڑکتی روشنی نے ماحول میں ایک پراسرار اور رومانوی کیفیت پیدا کر دی تھی۔
اسی دلکش فضا میں رات کے کھانے کا اہتمام کیا گیا۔

روایتی اور بے حد مزیدار مراکشی کھانے مٹی کے برتنوں میں پیش کیے گئے جن میں انہیں بھاپ پر پکایا گیا تھا۔ انواع و اقسام کے لوازمات سے مراکشی ثقافت اور مہمان نوازی کی خوبصورت جھلک نمایاں ہو رہی تھی۔

کھانے کے بعد ثقافتی پروگرام کا آغاز ہوا۔ مقامی موسیقاروں اور فنکاروں نے اپنی موسیقی اور روایتی رقص پیش کیے۔

کچھ دیر بعد ہماری نشست گاہ سے کچھ فاصلے پر قائم ایک چھوٹے سے اسٹیج پر ایک بازیگر نمودار ہوا۔ اس نے جلتی ہوئی مشعلوں اور شعلوں کے ساتھ نہایت مہارت سے حیرت انگیز کرتب دکھائے جنہیں حاضرین نے بھرپور تالیاں بجا کر سراہا۔

اجتماعی ثقافتی رقص کے دوران کئی سیاح بھی جوش میں آ کر مقامی فنکاروں کے ساتھ شامل ہو گئے۔

موسیقی، مسرت اور ولولے سے بھرپور یہ محفل چند گھنٹے جاری رہی۔
بالآخر اگافے صحرا کی یہ یادگار شام اپنے اختتام کو پہنچی، لیکن اس کے رنگ، آوازیں اور مناظر دیر تک ہماری یادوں میں زندہ رہیں گے۔
۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *