شطرنج اور انسانی مستقبل
شارق علی
ویلیوورسٹی
شطرنج کی بساط بچھی تھی اور سب خاموش تھے۔
چونسٹ ofھ خانے۔ سفید اور سیاہ مہرے۔ بادشاہ، وزیر، گھوڑے اور پیادے۔ کھیل کے اصول بھی وہی تھے جو صدیوں سے انسان جانتا آیا ہے۔
مقابلہ دو عام کھلاڑیوں کے درمیان نہیں تھا۔
ایک طرف اسٹاک فِش تھا، دنیا کے طاقتور ترین شطرنجی کمپیوٹر پروگراموں میں سے ایک۔
دوسری طرف الفا زیرو تھا، ایک ایسی آرٹیفیشل انٹیلیجنس جس نے شطرنج کو انسانی کھیلوں کی نقل کر کے نہیں، بلکہ اس کے بنیادی اصول جان کر اور اپنے ہی خلاف بار بار بے شمار کھیل کھیل کر سیکھا تھا۔
بظاہر یہ مقابلہ شطرنج کا تھا۔
لیکن اس چھوٹی سی بساط پر انسانی مستقبل کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔
دو مختلف ذہانتیں۔
روایتی شطرنجی انجن، اسٹاک فِش، انسانوں کے بنائے ہوئے الگورتھمز، ایویلیوایشن کے طریقوں اور انتہائی تیز سرچ کے ذریعے ممکنہ چالوں کا تجزیہ کرتا تھا۔
یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ اسٹاک فِش کے اندر دنیا کے تمام گرینڈ ماسٹروں کی چالیں محض جمع کر دی گئی تھیں۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ اس کی بنیادی ساخت، الگورتھمز اور شطرنجی پوزیشن کو جانچنے کے طریقوں میں انسانی انجینئرنگ اور انسانی شطرنجی فہم کا اہم کردار تھا۔
الفا زیرو نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔
اسے کھیل کے بنیادی رولز معلوم تھے۔ پھر اس نے سیلف پلے کے ذریعے اپنے ہی خلاف بے شمار کھیل کھیل کر اپنی حکمتِ عملی خود بنائی۔ اس نے انسانی گرینڈ ماسٹروں کے کھیلوں سے روایتی انداز میں تربیت حاصل نہیں کی تھی۔
یوں ایک طرف ایک انتہائی طاقتور، انسان کا بنایا ہوا شطرنجی انجن تھا۔
دوسری طرف ایک سیلف لرننگ سسٹم تھا، جو شطرنج کو سمجھنے کا اپنا طریقہ بڑی حد تک خود دریافت کر رہا تھا۔
نتائج حیران کن تھے۔
الفا زیرو صرف جیتا نہیں۔
اس کے کھیلنے کے انداز نے شطرنج کے ماہرین کو حیران کر دیا۔
اس نے بعض وہی اسٹریٹیجک تصورات خود دریافت کیے جن تک انسان صدیوں کے شطرنجی تجربے کے بعد پہنچا تھا: کنگ سیفٹی، پیادوں کی ساخت، پوزیشن کی اہمیت اور قربانی کے بعض تصورات۔
لیکن اس کے ساتھ اس نے بعض ایسی غیر روایتی اسٹریٹیجیز بھی اختیار کیں جو کمپیوٹر شطرنج کے مانوس انداز سے مختلف محسوس ہوتی تھیں۔
بعد میں شائع ہونے والی ایک وسیع ایویلیوایشن میں الفا زیرو نے اسٹاک فِش کے خلاف ایک ہزار کھیلوں میں 155 جیتے، صرف 6 ہارے، جبکہ باقی کھیل ڈرا ہوئے۔
لیکن یہاں اصل بات 155 اور 6 نہیں ہے۔
اصل سوال منطق کا ہے۔
الفا زیرو کے لیے یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ مسئلے کو اسی زاویے سے دیکھے جس زاویے سے انسان اسے صدیوں سے دیکھتا آیا ہے۔
اس کا مقصد واضح تھا:
کھیل جیتنا ہے۔
راستہ اسے خود تلاش کرنا تھا۔
انسانی علم کی ایک خاموش حد یہ ہے کہ ہم عموماً نئی چیز بھی پرانی چیزوں کی بنیاد پر سوچتے ہیں۔
ایک استاد اپنے شاگرد کو وہ علم دیتا ہے جو اس نے اپنے استاد سے حاصل کیا۔
ایک سائنس دان پچھلی ریسرچ سے آگے بڑھتا ہے۔
ایک ڈاکٹر اپنے کلینیکل تجربے کے ساتھ اس علم کو استعمال کرتا ہے جو ہزاروں دوسرے ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے جمع کیا ہوتا ہے۔
یہ ہماری عظیم طاقت ہے۔
ہر نسل کو صفر سے آغاز نہیں کرنا پڑتا۔
لیکن شاید یہی طاقت کبھی کبھی ایک غیر محسوس حد بھی بن جاتی ہے۔
ہم عموماً انہی راستوں کے آس پاس نئے راستے تلاش کرتے ہیں جن پر پہلے انسان چل چکا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بعض نئے سسٹمز ایک مختلف امکان پیدا کرتے ہیں۔
ان سے کہا جا سکتا ہے:
یہ مسئلہ ہے۔ یہ حدود ہیں۔ یہ مطلوبہ نتیجہ ہے۔ اب راستہ تلاش کرو۔
اور عین ممکن ہے کہ وہ ایسا راستہ تلاش کریں جو ہماری موجودہ انٹیوشن سے باہر ہو۔
ذرا دیر کو شطرنج سے باہر کی دنیا کے بارے میں سوچیے۔
شطرنج غیر اہم ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر یہی اصول کسی زیادہ اہم انسانی مسئلے پر لاگو ہو تو کیا ہوگا؟
اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے کہا جائے:
یہ بیماری ہے۔ اس کا علاج تلاش کرو۔
یہ توانائی کا مسئلہ ہے۔ زیادہ مؤثر حل تلاش کرو۔
یہ کلائمیٹ سسٹم ہے۔ ایسا راستہ تلاش کرو جو ہمارے موجودہ ماڈلز سے بہتر ہو۔
یہ کوئی پیچیدہ سائنسی یا ریاضیاتی مسئلہ ہے۔ اس کا حل تلاش کرو۔
تب شاید مشین صرف کام کرنے کی رفتار میں اضافہ نہ کرے۔
ممکن ہے وہ ہماری سوچ سے مختلف سمت اختیار کرے۔
یہاں ایک مشکل سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کسی ایسے نتیجے تک پہنچے جو درست تو ہو، مگر اس تک پہنچنے کی مکمل منطق انسان کے لیے آسانی سے قابلِ فہم نہ ہو، تو ہم کیا کریں گے؟
کیا ہم اسے قبول کریں گے؟
کیا ہم صرف اس لیے کسی فیصلے پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ اس کے نتائج بار بار درست نکل رہے ہیں؟
اگر وہ فیصلہ کسی شطرنج کے مہرے کا نہیں، بلکہ کسی انسان کی زندگی، کسی دوا، معیشت یا کسی معاشرے کے بارے میں ہو تو؟
یہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا مسئلہ صرف انٹیلیجنس کا نہیں رہتا۔
یہ انسانی ذمہ داری کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
شاید مستقبل میں انسان کا سب سے اہم کام ہر مسئلے کا جواب خود تلاش کرنا نہ ہو۔
شاید ہمارا اصل کام یہ طے کرنا ہو کہ سوال کیا ہونا چاہیے، حدود کیا ہونی چاہئیں، مقصد کیا ہونا چاہیے اور مشین کے دیے ہوئے جواب پر کب اعتماد کرنا چاہیے۔
شطرنج کی اس چھوٹی سی بساط پر ممکن ہے ایک بہت بڑا کھیل شروع ہو چکا ہو۔
جانے اس کھیل میں آخری چال انسان چلے گا یا مشین؟
اصل سوال شاید یہ ہے:
جب مشین کوئی ایسی چال دیکھ لے گی جو ہمیں دکھائی نہیں دیتی، تو کیا ہم اسے سمجھنے، پرکھنے اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟
