Skip to content
Home » Blog » ذہانت کا ارتقاء, دماغ سے پہلے

ذہانت کا ارتقاء, دماغ سے پہلے

  • by

ذہانت کا ارتقاء
دماغ سے پہلے

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہم عام طور پر جب ذہانت کا لفظ سنتے ہیں تو فوراً انسانی دماغ، سوچنے کی صلاحیت، ریاضی، زبان یا پیچیدہ فیصلوں کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ لیکن اگر ہم زندگی کی تاریخ کو غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ذہانت کی جڑیں دماغ سے بھی کہیں زیادہ قدیم ہیں۔

زندگی کے آغاز میں جب نہ کوئی دماغ تھا، نہ اعصابی نظام، نہ آنکھیں اور نہ ہی کان۔ اس کے باوجود ابتدائی بایولوجیکل آرگنزمز یا بیکٹیریا کوی تین کھرب سال تک اپنے ماحول کو “سمجھ” رہے تھے۔ وہ فیصلہ کر رہے تھے کہ کس سمت جانا ہے اور کس چیز سے بچنا ہے اور یہی انٹیلیجنس کی سب سے ابتدائی شکل تھی۔

سادہ الفاظ میں اگر سمجھا جائے تو بایولوجیکل انٹیلیجنس دراصل ایک جاندار اور اس کے ماحول کے درمیان مسلسل تعامل (interaction) کا نام ہے۔ ایسا تعامل جو اس کی بقا (survival) کو ممکن بنائے۔

ایک جاندار کے اردگرد بے شمار سگنلز اور stimuli موجود ہوتے ہیں۔ کچھ اس کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، جیسے nutrients یا توانائی کے ذرائع، جبکہ کچھ نقصان دہ ہوتے ہیں، جیسے toxins یا خطرناک کیمیکلز۔ ذہانت کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ جاندار فائدہ مند چیزوں کی طرف بڑھے اور نقصان دہ چیزوں سے دور رہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ابتدائی ذہانت کا مرکز دماغ نہیں تھا بلکہ خلیے (cell) کی membrane تھی۔
ابتدائی بیکٹیریا اپنی cell membrane پر موجود molecular receptors کے ذریعے ماحول کا “جائزہ” لیتے تھے۔ الیکٹرولائٹس اور کیمیکل gradients میں تبدیلی کو محسوس کرکے وہ اندازہ لگاتے تھے کہ خوراک کہاں موجود ہے اور خطرہ کہاں ہے۔ اگر کسی سمت nutrients زیادہ ہوتے تو بیکٹیریا اپنی حرکت اسی طرف موڑ لیتے۔ اگر ماحول میں کوئی toxic substance ہوتا تو وہ اس سے دور ہٹ جاتے۔ سائنس میں اس عمل کو chemotaxis کہا جاتا ہے۔

سوچیے، یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ اربوں سال پہلے ایک microscopic جاندار بغیر دماغ کے “فیصلے” کر رہا تھا۔ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے معلومات حاصل کر رہا تھا، انہیں process کر رہا تھا اور پھر ردِعمل دے رہا تھا۔ یہی تو intelligence کی بنیادی روح ہے۔

وقت کے ساتھ یہی سادہ biological intelligence ارتقا پذیر ہوئی۔ خلیوں کے درمیان communication networks بنے، پھر nervous systems وجود میں آئے، اور آخرکار دماغ پیدا ہوا۔ انسانی دماغ دراصل اسی طویل ارتقائی سفر کا جدید ترین مرحلہ ہے۔

اس زاویے سے دیکھا جائے تو intelligence صرف IQ یا کتابی علم کا نام نہیں بلکہ زندگی کی وہ صلاحیت ہے جو ماحول کو سمجھ کر بقا کے امکانات کو بہتر بناتی ہے۔

شاید اسی لیے کائنات میں intelligence کی کہانی انسان سے نہیں، بلکہ ایک نہایت سادہ microscopic cell سے شروع ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *