Skip to content
Home » Blog » دو پیروں پر چلنا اور ہاتھ آزاد

دو پیروں پر چلنا اور ہاتھ آزاد

  • by

دو پیروں پر چلنا اور ہاتھ آزاد

شارق علی
ویلیوورسٹی

انسانی ارتقا کی تاریخ میں چند تبدیلیاں ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف جسم بلکہ انسانی تقدیر کو بھی بدل دیا۔

ان میں سب سے اہم تبدیلی وہ تھی جب ہمارے آباؤ اجداد نے چار پیروں پر چلنے کے بجائے آہستہ آہستہ دو پیروں پر چلنا شروع کیا۔ سائنس کی زبان میں اس عمل کو بائی پیڈلزم (Bipedalism) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جس نے آگے چل کر انسان کے دماغ، ہاتھوں کے استعمال، اوزار سازی اور تہذیب کی بنیاد رکھی۔

سائنس دانوں کے نزدیک اس تبدیلی کی ایک اہم علامت کھوپڑی میں موجود ایک سوراخ ہے جسے فورامن میگنم (Foramen Magnum) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ریڑھ کی ہڈی دماغ سے جڑتی ہے۔ چار پیروں پر چلنے والے جانوروں میں یہ سوراخ کھوپڑی کے پچھلے حصے میں ہوتا ہے کیونکہ ان کا سر آگے کی طرف جھکا رہتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے ابتدائی انسان سیدھا کھڑا ہونا شروع ہوا، یہ سوراخ آہستہ آہستہ نیچے اور زیادہ مرکزی پوزیشن میں منتقل ہو گیا تاکہ سر جسم کے اوپر متوازن رہ سکے۔ آج بھی قدیم فوسلز میں فورامن میگنم کی پوزیشن دیکھ کر سائنس دان اندازہ لگاتے ہیں کہ کوئی مخلوق دو پیروں پر چلتی تھی یا نہیں۔

یہ ارتقائی تبدیلی تقریباً 60 سے 40 لاکھ سال پہلے افریقہ میں شروع ہوئی۔ ابتدائی ہومیننز جیسے Sahelanthropus tchadensis اور بعد میں Australopithecus afarensis
جسے “Lucy” کے نام سے شہرت ملی، میں فورامن میگنم کی یہی تبدیلی واضح نظر آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکمل طور پر جدید انسان تو نہیں تھے، مگر انہوں نے سیدھا چلنے کی طرف اہم قدم اٹھا لیا تھا۔

صرف کھوپڑی ہی نہیں، انسانی پاؤں بھی بدل گئے۔

درختوں پر چڑھنے والے بندروں کے پاؤں میں انگوٹھا الگ اور پکڑنے کے قابل ہوتا ہے، لیکن انسانی ارتقا میں بڑا انگوٹھا باقی انگلیوں کے ساتھ سیدھا ہو گیا تاکہ جسم کا وزن متوازن انداز میں اٹھایا جا سکے۔ پاؤں میں محرابیں (arches) بنیں جنہوں نے چلنے اور دوڑنے کو زیادہ مؤثر بنایا۔ ٹانگیں لمبی، کولہے چوڑے اور ریڑھ کی ہڈی S شکل کی ہونے لگی تاکہ جسم سیدھا رہ سکے اور وزن متوازن انداز میں تقسیم ہو سکے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس عظیم تبدیلی کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ افریقہ کے گھنے جنگلات کم ہو رہے تھے اور گھاس کے میدان بڑھ رہے تھے۔ سیدھا چلنے سے انسان دور تک دیکھ سکتا تھا، کم توانائی خرچ ہوتی تھی، جسم سورج کی گرمی سے نسبتاً محفوظ رہتا تھا، اور سب سے اہم بات یہ کہ ہاتھ آزاد ہو گئے۔ انہی آزاد ہاتھوں نے بعد میں اوزار بنائے، شکار کیا، بچوں کو اٹھایا اور بالآخر تہذیب کی بنیاد رکھی۔

یوں بائی پیڈلزم صرف چلنے کا نیا انداز نہیں تھا بلکہ انسانی ارتقا کا وہ فیصلہ کن موڑ تھا جس نے ایک عام حیوان کو سوچنے، تخلیق کرنے اور تہذیب بنانے والے انسان میں بدلنے کی راہ ہموار کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *