آنٹی میٹلڈا کا کیک
شارق علی
ویلیوورسٹی
مشہور ریاضی دان اور فلسفۂ سائنس کے محقق John Lennox اپنی کتاب Can Science Explain Everything? میں ایک نہایت دلچسپ مثال پیش کرتے ہیں۔
فرض کیجیے آنٹی میٹلڈا نے ایک مزیدار کیک بنایا۔ اب اگر دنیا بھر کے بہترین سائنس دان، کیمیا دان، طبیعیات دان اور حیاتیات کے ماہرین کو اکٹھا کر لیا جائے تو وہ اس کیک کا انتہائی باریک بینی سے تجزیہ کر سکتے ہیں۔ وہ بتا سکتے ہیں کہ اس میں کون سے کیمیائی اجزا شامل ہیں، حرارت نے آٹے اور انڈوں پر کیا اثر ڈالا، شکر اور مکھن کے سالمات کیسے تعامل کرتے ہیں، اور بیکنگ کے دوران کون سے طبیعی اور کیمیائی اصول کام کرتے ہیں۔
لیکن ایک سوال ایسا ہے جس کا جواب وہ اپنی تمام سائنسی مہارت کے باوجود نہیں دے سکتے:
آنٹی میٹلڈا نے یہ کیک بنایا ہی کیوں؟
کیا یہ کسی سالگرہ کے لیے تھا؟ کیا کسی مہمان کی آمد پر بنایا گیا؟ کیا کسی عزیز کی خوشی میں تیار کیا گیا؟ یا صرف محبت کے اظہار کے لیے؟
یہ سوال سائنس کے دائرۂ کار سے باہر ہے، کیونکہ سائنس کسی شے کے طریقۂ کار (How) کی تحقیق کرتی ہے، اس کے مقصد (Why) کی نہیں۔
بالکل یہی بات کائنات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
سائنس ہمیں بتا سکتی ہے کہ ستارے کیسے بنتے ہیں، کہکشائیں کیسے ارتقا پذیر ہوتی ہیں، کششِ ثقل کیسے کام کرتی ہے، ایٹم کس طرح وجود میں آتے ہیں، اور زندگی کے لیے ضروری کیمیائی عمل کیسے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
لیکن جب سوال یہ ہو کہ یہ کائنات بنائی ہی کیوں گئی؟ اس کے وجود کا مقصد کیا ہے؟ تو یہ سوال سائنس کے دائرۂ اختیار سے آگے نکل جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ سائنس ناکام ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ سوال اس کے دائرۂ تحقیق میں شامل ہی نہیں۔
اسی مثال کے ذریعے جان لینکس ایک اہم نکتہ واضح کرتے ہیں کہ سائنس ایک نہایت طاقتور ذریعۂ علم ہے، لیکن یہ علم کا واحد ذریعہ نہیں۔ مقصد، معنی، ارادہ اور غایت جیسے سوالات فلسفے، منطق اور مذہب جیسے میدانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں مختلف زاویوں سے ان پر غور کیا جاتا ہے۔
لہٰذا جب کبھی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سائنس کائنات کے بارے میں ہر سوال کا جواب دے سکتی ہے، تو آنٹی میٹلڈا کا کیک ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی چیز کے طریقۂ کار کو سمجھ لینا، اس کے مقصد کو جان لینے کے مترادف نہیں ہوتا۔
کائنات کو سمجھنے کے لیے شاید ہمیں صرف سائنس ہی نہیں، بلکہ انسانی فکر کے دوسرے ذرائع کی بھی ضرورت ہے
