Skip to content
Home » Blog » آنتوں اور دماغ کا خفیہ رابطہ

آنتوں اور دماغ کا خفیہ رابطہ

  • by

آنتوں اور دماغ کا خفیہ رابطہ

شارق علی
ویلیوورسٹی

ممکن ہے کبھی آپ نے محسوس کیا ہو کہ ہلکا سا ناشتہ کرنے کے کچھ دیر بعد ہی عجیب سی بے چینی، تھکن یا چڑچڑاہٹ محسوس ہونے لگے؟

بظاہر یہ ایک معمولی بات لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے آپ کے جسم کا ایک نہایت دلچسپ نظام کام کر رہا ہوتا ہے۔ آنتوں اور دماغ کا خفیہ تعلق۔

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری آنتوں میں کھربوں بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں، جنہیں مائیکرو بایوم کہا جاتا ہے۔ یہ تمام بیکٹیریا نقصان دہ نہیں ہوتے؛ بلکہ ان میں سے بہت سے ہمارے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف خوراک کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ ایسے کیمیائی مادے بھی پیدا کرتے ہیں جو ہمارے دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

مثلاً، ہمارے جسم میں موجود سیروٹونن، جو خوشی اور سکون سے جڑا کیمیکل ہے، اس کا بڑا حصہ آنتوں میں بنتا ہے۔

اسی طرح آنت اور دماغ کے درمیان ایک اہم راستہ، ویگس نرو، دونوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رکھتا ہے۔

جب ہم اپنی غذا میں پروبایوٹکس شامل کرتے ہیں، جیسے دہی، لسی اور خمیر شدہ غذائیں، تو یہ فائدہ مند بیکٹیریا مزید مضبوط ہوتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ ذہنی سکون، توجہ اور موڈ پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔

اس کے برعکس، غیر متوازن غذا یا زیادہ پراسیسڈ فوڈ اس توازن کو بگاڑ سکتا ہے، جس کا اثر ہمارے ذہن پر بھی پڑتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے خیالات صرف دماغ میں نہیں بنتے بلکہ ان کی جڑیں ہماری آنتوں میں بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *