پہلی نوکری
ڈاکٹر شارق علی
ویلیوورسٹی
ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد یہ میری پہلی نوکری تھی۔ فیڈرل کیپٹل ایریا میں اسکول میڈیکل آفیسر کی نوکری۔ مستقبل کی غیر یقینی، امید، جوش اور بے شمار خوابوں سے بھرا ہوا زمانہ۔
یہ نوکری پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کے مشہور فائیو پوائنٹ پروگرام کی دین تھی۔ اس کا مقصد پڑھے لکھے نوجوانوں، خصوصاً نئے فارغ التحصیل ڈاکٹروں، کو سرکاری ملازمت دینا تھا۔
اس پروگرام سے پہلے ہی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان کامیابی سے پاس کر چکا تھا، اور پورے سندھ میں میری دوسری پوزیشن آئی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ کامیابی کسی سفارش یا سیاسی پشت پناہی کے بغیر صرف محنت اور میرٹ کی بنیاد پر حاصل ہوئی تھی۔ اگرچہ اُس زمانے میں ڈومیسائل پر تفریق کا مسئلہ موجود تھا، لیکن اس کے باوجود کئی شعبوں میں میرٹ کو حقیقی اہمیت دی جاتی تھی۔
میری پہلی سرکاری تقرری کراچی کے ایف سی ایریا، یعنی فیڈرل کیپٹل ایریا، میں واقع ایک سرکاری اسکول میں ہوئی، جہاں پرائمری اور سیکنڈری اسکول ایک ہی احاطے میں قائم تھے۔ اگرچہ دونوں کی عمارتیں الگ الگ تھیں، لیکن دونوں ایک مشترکہ سرحدی دیوار رکھتے تھے۔
اسی پہلے اسکول میں، بطور میڈیکل آفیسر، میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی پہلی سرکاری ذمہ داری سنبھالی۔
ایف سی ایریا دراصل سرکاری ملازمین کی رہائشی کالونی تھی، جہاں زیادہ تر کلرکوں، ہیڈ کلرکوں اور دوسرے نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کے لیے فلیٹس تعمیر کیے گئے تھے۔ اسکول میں انہی خاندانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ یہ ایک سادہ، محنت کش اور نسبتاً پسماندہ آبادی تھی، جہاں وسائل محدود تھے، لیکن لوگوں میں وہ سب کچھ تھا جو عام محبت کرنے والے انسانوں میں ہوتا ہے۔
شروع کے چند دن نئے ماحول کو سمجھنے میں لگے۔ میں روزانہ اساتذہ کے کمرے میں جا کر ان کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ وہ رسمی خوش اخلاقی سے مجھ سے ملتے، مگر ایک نووارد سرکاری ڈاکٹر ہونے کے باعث مجھے قدرے احتیاط اور تجسس کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ ایک فطری ردِعمل تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری لوگوں میں گھلنے ملنے کی عادت اور دوستانہ انداز نے فاصلے کم کرنے شروع کر دیے۔ روزمرہ کی گفتگو، ہلکی پھلکی باتوں اور باہمی احترام نے اجنبیت کو اعتماد میں بدل دیا۔
اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب اپنی ذات میں ایک مکمل کردار تھے۔ گھنی سفید داڑھی، باوقار شخصیت، مضبوط آواز اور غیر معمولی رعب۔ ان کی آواز کھیل کے میدان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک باآسانی پہنچ جاتی تھی۔ طبیعتاً مذہبی مزاج رکھتے تھے، نظم و ضبط کے سخت پابند، مگر اس سختی کے پیچھے ایک شفیق اور محبت کرنے والا دل تھا، جسے تلاش کرنا مشکل نہ تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے قریب تھے اور برسوں کے تجربے نے ان کی شخصیت میں ایک خاص وقار پیدا کر دیا تھا۔
ان کے نائب، جو عملی طور پر اسکول کا انتظام چلاتے تھے اور بظاہر ان کے دستِ راست تھے، ایک نہایت تجربہ کار اور حقیقت پسند استاد تھے۔ چہرے پر چیچک کے گہرے نشانات، دائمی مسکراہٹ اور ہمہ وقت بذلہ سنجی سے بھرپور شخصیت۔ بے تکلفی بڑھی تو چونکہ میں غیر شادی شدہ نوجوان تھا، اور سامنے پرائمری اسکول کی کئی ٹیچرز بھی اسی دور سے گزر رہی تھیں، اس لیے یہ ہیڈ ٹیچر صاحب اکثر مجھے معنی خیز جملوں سے اسی حوالے سے چھیڑا کرتے تھے۔
“ڈاکٹر صاحب، فلانی استانی اسمبلی میں آپ کی طرف متوجہ تو بہت نظر آتی ہیں، مگر آپ ہیں شریف آدمی۔”
پھر سر ہلا ہلا کر معنی خیز انداز میں مسکراتے۔ ان دنوں یہ لفظ “شریف” مجھے ایک طرح کی گالی محسوس ہوتا تھا۔
ظرافت اپنی جگہ، ان کی اصل پہچان معاملہ فہمی، تدبر اور عملی ذہانت تھی۔ وہ کم گو تھے، لیکن جب بھی کوئی رائے دیتے تو اس میں برسوں کے تجربے کی جھلک صاف محسوس ہوتی تھی۔ عملی طور پر وہی اس ادارے کے سربراہ تھے۔
اساتذہ میں میری سب سے گہری دوستی ظہیر صاحب سے تھی۔ سر ظہیر فزیکل ٹریننگ، یعنی PT، کے استاد تھے۔ عمر میں اگرچہ مجھ سے کچھ بڑے تھے، لیکن مزاج کے اعتبار سے زیادہ قریب محسوس ہوتے تھے۔
ہماری دوستی کی خفیہ بنیاد اسکول کے ایک کباڑ ہال میں رکھی ہوئی ٹیبل ٹینس کی ایک میز تھی۔ فارغ اوقات میں ہم اکثر ایک ساتھ ٹیبل ٹینس کھیلا کرتے تھے۔ کالج کی ٹیم کا کپتان رہنے کی وجہ سے میں عموماً جیت جاتا، مگر ظہیر صاحب سیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔ یوں ہماری دوستی غیر محسوس انداز میں مضبوط ہوتی چلی گئی۔
میں نے اپنی پہلی سرکاری ملازمت پر جانے کے لیے گیارہ سو روپے میں ایک نئی بیکو سائیکل خریدی تھی۔ میں روزانہ اسی سائیکل پر گھر سے اسکول آتا جاتا تھا، جس میں کوئی ایک میل کا فاصلہ ہو گا۔
ظہیر صاحب سے دوستی بڑھی تو ایک دن کہنے لگے:
“ڈاکٹر صاحب، آپ کا سائیکل پر آنا جانا ہمیں اچھا نہیں لگتا۔ کل سے آپ سائیکل پر نہیں آئیں گے۔ میں آپ کو گھر سے پک کر لیا کروں گا اور واپس بھی چھوڑ دیا کروں گا۔”
اس کے بعد وہ اپنی پچاس سی سی ہونڈا موٹر سائیکل پر روز مجھے لینے آتے اور شام کو گھر چھوڑنے لگے۔
ٹیبل ٹینس کے ان مقابلوں میں ظہیر صاحب کا چھوٹا بیٹا، جو اسی اسکول میں پڑھتا تھا، اکثر دیکھنے آ جاتا۔ جب بھی والد کو ہارتا دیکھتا تو معصوم مایوسی کے ساتھ کہتا:
“ابا… آپ پھر ہار گئے!”
اس کی موجودگی میں میں نے اکثر ظہیر صاحب کو باآسانی جیتنے دیا۔
چند ہی ہفتوں میں اسکول کا ماحول میرے لیے اجنبی نہ رہا اور اساتذہ نے مجھے اپنے حلقے کا حصہ سمجھنا شروع کر دیا۔ اسی عرصے میں میرے ذہن میں کارآمد بننے کا ایک منصوبہ تیار ہو چکا تھا۔
ایک روز موقع غنیمت دیکھ کر میں نے ہیڈ ماسٹر اور ہیڈ ٹیچر صاحب سے اپنے ارادوں کا ذکر کیا کہ میں اسکول ہیلتھ کلینک بنا کر ہر کلاس کے ہر بچے کا باقاعدہ طبی معائنہ کرنا چاہتا ہوں۔ میری کوشش ہو گی کہ ایسی بیماریوں یا جسمانی مسائل کی بروقت نشاندہی کی جائے جو قابلِ علاج ہیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ جن بچوں کو تشخیص کے بعد مزید طبی توجہ کی ضرورت ہو، انہیں سروسز اسپتال ریفر کیا جائے، جہاں میرے کئی سینئر ساتھی میڈیکل آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
ہیڈ ماسٹر اور ہیڈ ٹیچر صاحب نے یہ منصوبہ سنا تو ان کے چہروں پر بلا تردد ایک واضح مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ شاید وہ پہلے ہی جان چکے تھے کہ میں وہاں صرف حاضری لگانے نہیں، بلکہ کچھ مثبت تبدیلی لانے آیا ہوں۔
اس گفتگو کے ایک دو دن بعد انہوں نے مجھے ایک کمرے میں بلایا، جہاں دونوں حضرات موجود تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے بڑی شفقت سے کہا:
“ڈاکٹر صاحب، میں تو ایک دو سال میں ریٹائر ہونے والا ہوں۔ لیکن اسکول کے بوائز فنڈ میں اس وقت تقریباً پچپن ہزار روپے موجود ہیں۔ میری خواہش ہے کہ اس رقم سے آپ کے لیے ایک باقاعدہ اسکول کلینک قائم کیا جائے، تاکہ یہ نیک کام میرے ریٹائر ہونے کے بعد بھی جاری رہے۔”
ظہیر صاحب کو یہ معلوم ہوا تو وہ خوشی سے تمتما اٹھے۔ میں نے اپنے محلے کے دوستوں کو بتایا تو وہ بھی اس کلینک کے قیام میں میرے ساتھ مصروف کار ہو گئے۔
اسکول کا ایک کمرہ، جس میں کاٹھ کباڑ جمع تھا، خالی کیا گیا۔ اس کی صفائی ہوئی اور اس پر سفید پینٹ کیا گیا۔
میں اور ظہیر صاحب ان کی پچاس سی سی موٹر سائیکل پر لیاقت آباد کی پرانی فرنیچر مارکیٹ کے چکر لگانے لگے۔ ٹیبل، کرسی، پیشنٹ اسٹول، قد ناپنے کا اسکیل، وزن کرنے کی مشین، دوائیاں رکھنے کی الماری اور فائلیں محفوظ رکھنے کے کیبنٹ کا انتظام کیا گیا۔
کریم آباد سے سائیکلواسٹائل کروا کر ہیلتھ ریکارڈ فارم چھپوائے گئے۔ میرے محلے کے دوستوں نے گیراج میں پڑی بیکار لکڑی سے ایک خوبصورت بورڈ تیار کیا، جس پر “School Health Service – FC Area” لکھا گیا۔ اسکول کے پیون اور دوسرے عملے نے بھی اسے نصب کرنے اور کمرے کو تیار کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
جب سب انتظامات مکمل ہو گئے تو ایک سادہ سی اندرونی تقریب میں ہیڈ ماسٹر صاحب نے فیتہ کاٹ کر اس کلینک کی بسم اللہ کی۔
اس موقع پر تقریب کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحب کے اپنے ہاتھ کا بنایا ہوا قورمہ آج بھی یاد ہے، جو ایک بڑی سی دیگچی میں تیار کیا گیا تھا۔ اسکول کا تمام اسٹاف، جس میں اساتذہ کے ساتھ گیٹ کا چوکیدار اور گھنٹی بجانے والا بھی شامل تھا، ایک ساتھ ایک ہی زمینی دسترخوان پر بیٹھا اور یہ دعوت کھائی۔ اس قورمے کے ذائقے کو میں آج تک بھلا نہیں سکا۔
یہ دراصل ایک نوجوان کے خواب پر تجربہ کار اور نیک دل استادوں کے اعتماد کا جشن تھا۔
کریم آباد سے چھپوائے گئے صحت کے معائنے کے فارم کی مدد سے کلاس بہ کلاس تمام بچوں کا منظم طبی معائنہ شروع ہو گیا۔
اس کام نے جلد ہی اپنی افادیت ثابت کرنا شروع کی۔ بہت سے بچوں میں نظر کی کمزوری، یعنی Errors of Refraction، پہلی مرتبہ تشخیص ہوئی۔ کئی بچوں میں کان کے دائمی انفیکشن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماعت کی کمزوری، خصوصاً Secretory Otitis Media، کی بروقت نشاندہی ہوئی۔ اس کے علاوہ دیگر ایسے مسائل سامنے آئے جو معمولی علاج سے مکمل طور پر درست ہو سکتے تھے، مگر وسائل اور آگاہی کی کمی کی وجہ سے برسوں سے نظر انداز ہو رہے تھے۔
جن بچوں کو مزید علاج کی ضرورت ہوتی، انہیں ہم سروسز اسپتال ریفر کرتے، جہاں میرے کئی سینئر ساتھی میڈیکل آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان سینئر دوستوں کے تعاون سے کئی بچوں کا علاج ممکن ہوا۔ آہستہ آہستہ اسکول، کلینک اور اسپتال کے درمیان ایک مؤثر رابطہ قائم ہو گیا۔
ایک دفعہ تعریف سن کر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر انوار احمد زئی صاحب بھی کلینک دیکھنے تشریف لائے۔
تقریباً ایک سے سوا سال تک یہ سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہا۔ اس عرصے میں سینکڑوں بچوں کا طبی معائنہ ہوا، اور بہت سی قابلِ علاج بیماریوں کی بروقت تشخیص ہوئی۔
بچوں کے طبی معائنے کے دوران مجھے ان کے ساتھ بیٹھنے، بات کرنے اور ان کی دنیا کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس تجربے نے میرے اندر ایک گہرا احساس پیدا کیا۔ میں نے دیکھا کہ ان میں سے بے شمار بچے غیر معمولی ذہانت، تجسس اور سیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے، مگر وسائل کی کمی ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ مناسب غذا میسر نہیں تھی، علاج کی سہولت محدود تھی، اور بہتر تعلیم کے مواقع بھی بہت کم تھے۔
میں بار بار سوچتا تھا کہ اگر یہی بچے بہتر حالات میں پیدا ہوتے تو شاید ان میں سے کتنے ہی سائنس دان، انجینئر، استاد یا ڈاکٹر بنتے۔ انسان کی صلاحیت اکثر اس کی محنت سے پہلے اس کے حالات کی قیدی بن جاتی ہے، اور یہ احساس میرے لیے بہت دردناک تھا۔
اس کے باوجود، اس چھوٹے سے اسکول کلینک میں مجھے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی۔ شاید اس لیے کہ یہ کلینک کسی سرکاری منصوبے کا تیار شدہ حصہ نہیں تھا۔ اس کی ہر چیز محبت سے بنی تھی۔ ایک خواب، جسے ہیڈ ماسٹر صاحب کے اعتماد، نائب ہیڈ ماسٹر کی عملی معاونت، ظہیر صاحب کی دوستی، اسکول کے عملے کی محنت اور میرے اپنے جذبے نے مل کر حقیقت میں تبدیل کیا تھا۔
اس کلینک کو چلانا، بچوں کا معائنہ کرنا اور ان کی زندگی میں ایک چھوٹی سی مثبت تبدیلی لانا میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہ تھا۔
اسی دوران میں نے اپنی پیشہ ورانہ تعلیم کا سفر بھی جاری رکھا۔ اسکول کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ میں ایف سی پی ایس پارٹ ون کی تیاری کرتا رہا، اور بالآخر یہ امتحان کامیابی سے پاس کر لیا۔ اس کامیابی کے بعد میرے لیے تدریسی اسپتال میں تخصص کی تربیت کا راستہ کھل گیا۔
پھر ایک دن وہ وقت بھی آ گیا جب مجھے اپنی پہلی ملازمت کو الوداع کہنا پڑا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس اسکول، ان بچوں اور ان مخلص ساتھیوں سے ایک گہرا تعلق قائم ہو چکا تھا۔ لیکن بہتر پیشہ ورانہ مستقبل کی خاطر مجھے عملی تربیت کے لیے سول اسپتال کراچی جانا پڑا، جہاں میری پوسٹنگ میرٹ کی بنیاد پر پروفیسر خالد محمود درانی کے شعبۂ پلاسٹک سرجری میں ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے ہو گئی۔
بادل نخواستہ مجھے اس ہیلتھ کلینک کو خیر باد کہنا پڑا۔
آج کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی جب میں اپنی پہلی ملازمت کو یاد کرتا ہوں تو ذہن میں کسی عہدے، تنخواہ یا سرکاری مراعات کی تصویر نہیں ابھرتی۔ یاد آتے ہیں تو وہ سفید داڑھی والے ہیڈ ماسٹر صاحب، ان کے خاموش مگر معاملہ فہم نائب، ظہیر صاحب کی پچاس سی سی ہونڈا موٹر سائیکل، ٹیبل ٹینس کی وہ شامیں، اور وہ معصوم بچے جن کی آنکھوں میں خواب تو بہت تھے مگر وسائل بہت کم۔
زندگی نے بعد میں مجھے بڑے اسپتال، جدید آپریشن تھیٹر، اعلیٰ ڈگریاں اور بے شمار تجربات عطا کیے، لیکن انسانوں پر اعتماد، ادارہ سازی، ٹیم ورک اور خاموش خدمت کا پہلا سبق میں نے اسی معمولی سے اسکول میں سیکھا تھا۔
شاید اسی لیے آج بھی میری پہلی ملازمت میرے کیریئر کی پہلی نوکری نہیں، بلکہ میری زندگی کی پہلی حقیقی درسگاہ محسوس ہوتی ہے۔
