Skip to content
Home » Blog » واستے گونے ہوئیا!آخر مطلب کیا ہے؟

واستے گونے ہوئیا!آخر مطلب کیا ہے؟

  • by

واستے گونے ہوئیا!
آخر مطلب کیا ہے؟

شارق علی
ویلیوورسٹی

چند روز پہلے نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی ایک مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ویڈیو میں ایک نو عمر، شوخ لڑکی ایک پولیس اہلکار کو مخاطب کرکے اچانک کہتی ہے:

“واستے گونے ہوئیا”

چند ہی گھنٹوں میں یہ الفاظ لاکھوں لوگوں کی زبان پر آ گئے۔ کسی نے اس پر مزاحیہ ویڈیوز بنائیں،
کسی نے گانے، کسی نے میمز، اور ہزاروں لوگ گوگل پر اس کا مطلب تلاش کرنے لگے۔

مگر مزیدار بات یہ ہے کہ اور شاید اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ…
اس فقرے کا کوئی لغوی مطلب ہی نہیں

یہ ان الفاظ میں سے ہے جنہیں انگریزی میں Gibberish یا Nonsense Words کہا جاتا ہے؛ ایسے الفاظ جو لغت میں جگہ نہیں پاتے، مگر لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر لیتے ہیں۔
ذرا ٹھہریے…
کیا یہ واقعی کوئی نئی بات ہے؟

اگر آپ اردو بولتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں تو یقیناً بچپن میں نہ جانے کتنی بار کہا ہوگا:
“اکڑ بکڑ بمبے بو…”
آخر اس کا کیا مطلب ہے؟
یا “چھو منتر!” یہ کس زبان کا لفظ ہے؟

“ابرا کا ڈبرا” کس لغت میں درج ہے؟
اور “ٹنگ ٹنا ٹن”، “ڈھم ڈھم ڈگا ڈگ”، “ہیلا ہولا”، “چوں چوں کا مربہ”…
ان سب کا لغوی مفہوم کیا ہے؟
شاید کچھ بھی نہیں… یا پھر موقع اور کیفیت کے لحاظ سے بہت کچھ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ بچپن میں ہم نے کبھی ان کے معنی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ ہم انہیں سمجھتے نہیں تھے، مگر ان سے لطف ضرور اٹھاتے تھے۔

یہی انسانی ذہن کا کمال ہے۔

ہم صرف الفاظ سے نہیں، آوازوں سے بھی محبت کر بیٹھتے ہیں۔

کبھی دو بچوں کو کھیلتے دیکھیے۔ چند ہی لمحوں بعد وہ ایسی زبان بولنے لگتے ہیں جو دنیا کی کسی لغت میں موجود نہیں ہوتی۔
“ٹنگا منگا… ٹپ ٹپ ٹو… لولو بابا…”
اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دوسرا بچہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ کھیل ابھی جاری ہے۔
یہاں معنی نہیں، تعلق بول رہا ہوتا ہے۔

یہ صرف اردو کی روایت نہیں۔

انگریزی میں Abracadabra، Hocus Pocus، Bibbidi-Bobbidi-Boo اور مشہور طویل لفظ Supercalifragilisticexpialidocious بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کا مقصد معلومات دینا نہیں بلکہ حیرت، موسیقیت، مزاح اور کھیل کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے۔

لسانیات کے ماہرین کے مطابق ایسے بے معنی الفاظ بچوں کی زبان سیکھنے، یادداشت، ردھم اور تخیل کو فروغ دیتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کی تقریباً ہر زبان میں ان کی مثالیں ملتی ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بے معنی الفاظ، معنی خیز الفاظ سے بھی زیادہ طویل عمر پاتے ہیں۔

صدیوں بعد بھی لوگ “اکڑ بکڑ بمبے بو” گنگناتے ہیں، جبکہ اسی دور کے ہزاروں سنجیدہ الفاظ تاریخ کے غبار میں کھو چکے ہوتے ہیں۔

“واستے گونے ہوئیا” کی مقبولیت کا راز بھی شاید یہی ہے۔
لوگ اس کا مطلب نہیں ڈھونڈ رہے تھے؛ وہ دراصل یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ آخر ایک بے معنی سا جملہ لاکھوں چہروں پر مسکراہٹ کیسے بکھیر گیا۔

زبان صرف معلومات پہنچانے کا ذریعہ نہیں ہوتی۔

وہ ردھم بھی ہے، موسیقی بھی، ثقافت بھی، کھیل بھی…

اور کبھی کبھی محض ایک بے ساختہ قہقہہ بھی۔

شاید انسان ہی کائنات کی وہ واحد مخلوق ہے جو بے معنی آوازوں میں بھی معنی، تعلق، یادیں اور خوشی تلاش کر لیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *