Skip to content
Home » Blog » لیک کومو, دوسری قسط

لیک کومو, دوسری قسط

  • by

کومو لیک اور برنینا ایکسپریس
لیک کومو, دوسری قسط

شارق علی
ویلیو ورسٹی

صبح ابھی پوری طرح بیدار بھی نہ ہوئی تھی کہ الارم کی آواز پر ہماری آنکھ کھل گئی۔ ہوٹل کے کمرے ہی میں مختصر سا ناشتہ کیا۔ چائے اور کافی بنانے کا انتظام موجود تھا، جبکہ چند ضروری اشیائے خوردونوش ہم گزشتہ شام ہی قریبی اسٹور سے خرید لائے تھے۔ یوں کسی جلد بازی کے بغیر ہم سفر کے لیے تیار ہو گئے۔

ٹھیک سات بجے ہماری پہلے سے بک کی ہوئی ٹیکسی ہوٹل کے مرکزی دروازے پر ہمارا انتظار کر رہی تھی۔

استقبالیہ سے نکل کر ہم اس میں سوار ہوئے تو میلان کی خاموش صبح آہستہ آہستہ اپنے راز کھولنے لگی۔
اتوار کا دن تھا۔ سڑکیں غیر معمولی طور پر پُرسکون تھیں۔ کہیں کہیں چند گاڑیاں دکھائی دیتیں اور نرم سنہری دھوپ آہستہ آہستہ شہر کی عمارتوں پر اتر رہی تھی۔

تقریباً بیس منٹ بعد ٹیکسی ہمیں میلانو سینٹرالے کے عقب میں واقع ایک وسیع و عریض چوک میں اتار کر روانہ ہو گئی۔

یہ ایک کشادہ میدان نما چوک تھا، جس کے وسط اور اطراف میں خوبصورت یادگاریں اور سنگی چبوترے تعمیر کیے گئے تھے۔ اردگرد سیاحوں اور مقامی لوگوں کی آمدورفت بڑھنے لگی تھی۔
چوک کے سامنے سڑک کے کنارے مختلف رنگوں کی سیاحتی کوچیں اپنی اپنی منزلوں کے نام آویزاں کیے مسافروں کی منتظر کھڑی تھیں۔ کوئی جھیلوں کی جانب روانہ ہونے والی تھی، کوئی الپس کے پہاڑوں کی طرف، اور کوئی اٹلی کے کسی تاریخی شہر کا رخ کرنے والی تھی۔
ہمارا طے شدہ ملاقات کا مقام بھی یہی تھا۔

ہم وقت سے کچھ پہلے پہنچ گئے تھے، اس لیے سکون سے اردگرد کے مناظر دیکھتے رہے۔ تھوڑی ہی دیر میں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مسافر ایک ایک کر کے جمع ہونا شروع ہو گئے۔ تقریباً ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل فون یا کیمرہ، پانی کی بوتل اور ہلکا پھلکا سفری سامان تھا، جبکہ چہروں پر نئے سفر کی بےچینی اور اشتیاق صاف جھلک رہا تھا۔
اسی دوران ایک جانب سے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہماری ٹور گائیڈ نمودار ہوئیں۔

درمیانی عمر کی ایک دبلی پتلی خاتون، جن کی عمر اندازاً پچپن سے ساٹھ برس کے درمیان ہوگی۔ چلنے میں ہلکا سا لنگ تھا، بازو پر صلیب کا نمایاں ٹیٹو بنا ہوا تھا، اور انگریزی پر خالص اطالوی لہجے کی چھاپ تھی۔

ان کی گفتگو سمجھنے کے لیے پوری توجہ درکار تھی، کیونکہ کئی الفاظ اطالوی آہنگ میں اس قدر ڈھل جاتے کہ پہلی مرتبہ سننے پر ان کا مفہوم سمجھ میں نہ آتا۔

اتنے میں ہماری لگژری کوچ سامنے آ کر رکی۔ اس کے بڑے بڑے شیشے اس انداز سے بنائے گئے تھے کہ سفر کے دوران باہر کے مناظر پوری وسعت کے ساتھ دیکھے جا سکیں۔

ڈرائیور نے مسکراتے ہوئے ہمارا استقبال کیا اور مسافروں کو ترتیب سے سوار کرنا شروع کر دیا۔ چونکہ ہم سب سے پہلے پہنچنے والوں میں تھے، اس لیے اپنی پسند کی نشست منتخب کرنے کا موقع مل گیا۔ ہم نے سامنے سے دوسری قطار کی نشستیں سنبھال لیں، جہاں سے سامنے کی سڑک بھی صاف دکھائی دیتی تھی اور دونوں جانب کے مناظر بھی۔

چند ہی لمحوں بعد کوچ آہستہ آہستہ روانہ ہوئی۔ ابتدا میں اس نے میلان کی چند مصروف شاہراہوں اور چوراہوں سے گزرتے ہوئے شہر کو الوداع کہا، پھر ایک وسیع ہائی وے پر آ گئی۔
شہر کی بلند عمارتیں پیچھے رہتی گئیں اور سامنے پھیلی شاہراہ گویا ایک نئے سفر کا دروازہ کھولنے لگی۔
ہائی وے پر سفر شروع ہوا تو کچھ ہی دیر بعد راستے میں چند چھوٹی جھیلیں دکھائی دیں۔ پہلی نظر میں گمان ہوا کہ شاید لیک کومو کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،

لیکن ہماری گائیڈ نے مسکراتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ قدرتی جھیلیں نہیں بلکہ مصنوعی آبی ذخائر ہیں، جو پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے جیسے مختلف مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان کا مشہور لیک کومو سے کوئی تعلق نہیں۔
آگے بڑھتے ہوئے ہماری کوچ یکے بعد دیگرے کئی سرنگوں میں داخل ہوتی اور چند لمحوں بعد دوبارہ روشن دن کی روشنی میں نکل آتی۔ بعض سرنگیں مختصر تھیں، جبکہ کچھ اتنی طویل کہ یوں محسوس ہوتا جیسے ہم پورے پہاڑ کے اندر خاصی مسافت طے کر رہے ہوں۔

ان سرنگوں سے گزرتے ہوئے بار بار خیال آتا کہ آخر یہ عظیم الشان تعمیرات پہاڑوں کے بےپناہ وزن کو دہائیوں بلکہ صدیوں تک کیسے برداشت کرتی ہوں گی۔ ایسے لمحوں میں انسان کی انجینئرنگ صلاحیت قدرت کی ہیبت کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
شمالی اٹلی جدید ٹنل انجینئرنگ کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ الپس کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں سینکڑوں سرنگیں تعمیر کی گئی ہیں، جنہوں نے ایک زمانے میں ایک دوسرے سے کٹے ہوئے علاقوں کو باہم ملا دیا ہے۔ ان میں سے بہت سی سرنگیں مضبوط چٹانوں کو کاٹ کر بنائی گئی ہیں اور جدید وینٹیلیشن، نکاسیِ آب اور حفاظتی نظام سے آراستہ ہیں۔ اگر یہ سرنگیں نہ ہوتیں تو ان پہاڑی علاقوں کے درمیان سفر کئی گنا زیادہ طویل اور دشوار ہوتا۔

اسی دوران ہماری کوچ ایک نسبتاً طویل سرنگ میں داخل ہوئی۔ چند لمحوں تک کھڑکیوں کے باہر صرف روشنیوں کی قطاریں دکھائی دیتی رہیں۔ پھر اچانک جیسے ہی ہم سرنگ سے باہر نکلے، بائیں جانب ایک ایسا منظر نمودار ہوا کہ پوری کوچ میں بےاختیار ہلکی سی سرگوشی دوڑ گئی۔

نیلگوں اور فیروزی رنگوں میں نہائی ہوئی ایک وسیع و پُرسکون جھیل دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے کناروں سے سرسبز پہاڑ تقریباً سیدھے پانی سے اٹھتے محسوس ہوتے تھے، جبکہ پس منظر میں الپس کے بلند و بالا سلسلے اس منظر کو مزید شاندار بنا رہے تھے۔

ہماری ٹور گائیڈ شاید اسی لمحے کی منتظر تھیں۔ انہوں نے فوراً مائیک سنبھالا اور مسرت بھرے لہجے میں اعلان کیا:
“خواتین و حضرات! آپ کے بائیں ہاتھ دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں سے ایک، لیک کومو، شروع ہو چکی ہے۔”
جھیل کے دونوں کناروں پر درختوں میں گھرے عالی شان ولاز، تاریخی قصبے اور دلکش رہائش گاہیں بکھری ہوئی تھیں۔ کئی صدیوں سے یہ جھیل اپنی غیر معمولی خوبصورتی کے باعث دنیا بھر کے امرا، فنکاروں، ادیبوں اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی رہی ہے۔
اسی دل موہ لینے والے منظر کے ساتھ ہمارا لیک کومو کے کنارے کنارے سفر باقاعدہ شروع ہو گیا۔

ہماری کوچ اب جھیل کے ساتھ ساتھ بل کھاتی سڑک پر آگے بڑھ رہی تھی۔ ایک طرف فیروزی پانی دور تک پھیلا ہوا تھا اور دوسری جانب سرسبز پہاڑ تقریباً سیدھے آسمان کی طرف اٹھتے محسوس ہوتے تھے۔ کہیں چھوٹے چھوٹے گھروں کے درمیان گرجا گھروں کے مینار دکھائی دیتے، کہیں رنگ برنگے ہالیڈے ولاز اور ہوٹلوں کی قطاریں، اور کہیں درختوں میں چھپی ہوئی پرشکوہ حویلیاں، جن کے سامنے سرسبز نجی باغات پھیلے ہوئے تھے۔ ہر چند منٹ بعد منظر بدل جاتا، مگر اس کی خوبصورتی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی۔

لیک کومو اٹلی کی تیسری بڑی جھیل ہے، مگر حسن کے اعتبار سے شاید اسے پہلی صف میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی عام جھیل نہیں بلکہ ہزاروں برس پہلے گلیشیئرز کے تراشے ہوئے ایک عظیم قدرتی شاہکار کا نتیجہ ہے۔

اس کی مشہور الٹی Y نما ساخت اسے دنیا کی منفرد جھیلوں میں شمار کراتی ہے۔ شمال سے آتے ہوئے یہ جھیل دو جنوبی شاخوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ ایک شاخ شہر کومو کی طرف جاتی ہے اور دوسری لیکو کی طرف، جبکہ ان دونوں کے سنگم پر واقع خوبصورت قصبہ بیلاجیو ہے۔

جھیل کا شمالی سرا سوئٹزرلینڈ کی سرحد سے زیادہ دور نہیں، اسی لیے صاف موسم میں الپس کی برف پوش چوٹیاں اس کے پس منظر کو مزید دلکش بنا دیتی ہیں۔ رومی دور سے لے کر آج تک یہ جھیل امرا، فنکاروں، ادیبوں اور دنیا بھر کے سیاحوں کی پسندیدہ پناہ گاہ رہی ہے۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے اس دلکش سفر کے بعد ہماری کوچ جھیل کے کنارے واقع ایک چھوٹے سے قصبے میں جا کر رکی۔

یہاں سے ہمارا اگلا سفر پانی کے راستے طے ہونا تھا۔ ہم سب مسافر ترتیب سے کوچ سے اترے، قطار بنائی اور گھاٹ کی طرف چل پڑے، جہاں ایک بڑی مسافر بردار کشتی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔

یہ عام کشتی نہیں بلکہ دو منزلہ سیاحتی بوٹ تھی۔ اس کی بالائی منزل کھلی ہوئی تھی، جہاں سے چاروں طرف کے مناظر بلا رکاوٹ دیکھے جا سکتے تھے۔ اس وقت دھوپ خاصی تیز ہو چکی تھی، اس لیے ہم نے نچلی منزل کا انتخاب کیا، جو شیشے کی بڑی بڑی کھڑکیوں سے مزین تھی۔ درمیان میں ایک مختصر کیفے بھی موجود تھا، جہاں چائے، کافی اور ہلکی پھلکی اشیائے خوردونوش دستیاب تھیں۔

ہم نے ایک ایک کپ گرین ٹی لی اور کھڑکی کے قریب نشست سنبھال لی۔

ہمارے اردگرد مختلف ملکوں سے آئے ہوئے کئی خاندان بھی بیٹھے تھے۔ بوٹ آہستہ آہستہ پانی پر پھسلنے لگی اور شیشوں کے پار لیک کومو کے مناظر گویا کسی خاموش فلم کی طرح گزرتے چلے گئے۔ پانی پر تیرتی چھوٹی کشتیاں، کناروں سے لپٹے ہوئے سرسبز پہاڑ، اور ان کے درمیان جھانکتے رنگین مکانات، جن کے باغات رنگ برنگے پھولوں سے سجے ہوئے تھے، پورے منظر کو خوابناک بنا رہے تھے۔

کچھ ہی دیر بعد دور سامنے پہاڑی ڈھلوان پر ایک خوبصورت قصبہ ابھرنے لگا۔ پھولوں سے سجی بالکونیاں، جھیل کے کنارے بنی رنگین عمارتیں اور قدیم گرجا گھر کا مینار دور ہی سے پہچانا جا سکتا تھا۔

یہ بیلاجیو (Bellagio) تھا، جسے بجا طور پر “لیک کومو کا موتی” کہا جاتا ہے۔

ہماری اگلی منزل بیلاجیو تھی…
۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *