Skip to content
Home » Blog » قسط 1: میلان کی جانب

قسط 1: میلان کی جانب

  • by

کومو لیک اور برنینا ایکسپریس
اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کا سفرنامہ

شارق علی
ویلیوورسٹی

جہاز آہستہ آہستہ رن وے پر ٹیکسی کر رہا تھا۔ مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے اور سیٹ بیلٹس باندھ لی گئی تھیں۔ کیبن کریو حفاظتی ہدایات مکمل کر چکا تھا۔ اسی دوران پائلٹ کی پُراعتماد آواز اسپیکروں پر گونجی:
“خواتین و حضرات! ہم چند ہی لمحوں میں لندن کے اسٹینسٹڈ ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والے ہیں۔ ہماری پرواز کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ چالیس منٹ ہوگا۔ موسم سازگار ہے، اور ہم اٹلی کے شہر میلان کے مالپینسا ایئرپورٹ پر مقررہ وقت پر لینڈ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔”

مونا اور میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ رن وے کی عمارتیں، زمینی عملے کی مصروف سرگرمیاں اور دوسرے طیارے آہستہ آہستہ پیچھے سرکتے جا رہے تھے۔ دل میں وہی مانوس سی سیاحتی خوشی جاگ رہی تھی جو ہر نئے سفر کے آغاز پر انسان کو اندر سے ہلکا، تازہ اور پُرامید کر دیتی ہے۔

اٹلی کا یہ ہمارا تیسرا سفر تھا۔ اس سے پہلے روم اور وینس کو تفصیل سے دیکھنے کا موقع مل چکا تھا، اور اس بار ہماری منزل اٹلی کا معاشی، ثقافتی اور فیشن کا اہم مرکز، میلان تھا۔

لیکن اس سفر کی اصل کشش صرف میلان نہیں تھی۔

اس بار ہمارا ارادہ شمالی اٹلی کے ان دلکش قصبوں اور شہروں کی سیر کا تھا جو جھیل کومو کے گرد موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں دنیا کے خوبصورت ترین ریلوے سفروں میں شمار ہونے والی برنینا ایکسپریس کے ذریعے اٹلی سے سوئٹزرلینڈ کے برف پوش پہاڑوں تک جانا تھا۔

اٹلی یورپ کے جنوب میں واقع ایک منفرد ملک ہے، جس کا نقشہ ایک لمبے بوٹ سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کی سرحدیں فرانس، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور سلووینیا سے ملتی ہیں، جبکہ تین اطراف سے بحیرۂ روم کا نیلگوں پانی اسے گھیرے ہوئے ہے۔ تقریباً ساٹھ ملین آبادی والا یہ ملک صرف اپنے شاندار ماضی کی وجہ سے مشہور نہیں بلکہ آج بھی فنونِ لطیفہ، موسیقی، فیشن، اعلیٰ معیار کی انجینئرنگ، کھیلوں اور دنیا کے مقبول ترین کھانوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل مقامات کی تعداد کے اعتبار سے اٹلی دنیا کے سرفہرست ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں تاریخ صرف عجائب گھروں میں محفوظ نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ رومی سلطنت کی یادگاریں، نشاۃِ ثانیہ کے شاہکار، لیونارڈو ڈا ونچی اور مائیکل اینجلو جیسے نابغۂ روزگار فنکار، فیراری اور لیمبورگینی جیسی عالمی شہرت یافتہ گاڑیاں، اور بے شمار تاریخی شہر، یہ سب مل کر اٹلی کو ایک ایسے ملک میں بدل دیتے ہیں جہاں ہر موڑ پر تاریخ، حسن اور تخلیقی صلاحیت ایک دوسرے سے گلے ملتی دکھائی دیتی ہیں۔

جہاز نے رن وے پر رفتار پکڑنی شروع کی۔ چند لمحوں بعد زمین ہم سے دور ہونے لگی، اسٹینسٹڈ ایئرپورٹ کی عمارتیں سکڑتی گئیں، اور ہم بادلوں کے ساتھ محوِ پرواز تھے۔

جہاز بادلوں کے اوپر اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا، اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے چند دن صرف خوبصورت مناظر ہی نہیں بلکہ ایسی یادیں، ایسی ملاقاتیں اور ایسے تجربے بھی عطا کریں گے جو اس سفر کو ہمیشہ کے لیے میرے دل میں محفوظ کر دیں گے۔

مالپینسا ایئرپورٹ پر برطانوی پاسپورٹ کی بدولت ای پاسپورٹ گیٹس سے امیگریشن کی کارروائی نہایت تیزی سے مکمل ہو گئی۔ چند ہی منٹوں میں ہم آمد کے ہال میں کھڑے تھے۔

طویل سفر کے بعد ہلکی سی بھوک محسوس ہو رہی تھی، اس لیے فیصلہ کیا کہ آگے بڑھنے سے پہلے کچھ کھا لیا جائے۔ ایئرپورٹ ہی پر موجود پریٹ اے مانجے کے ریستوران میں جا بیٹھے۔
ہم نے ایگ سینڈوچ، سلاد اور گرین ٹی کا سادہ سا لنچ کیا۔ تازہ تیار کیے گئے سینڈوچ اور پُرسکون ماحول نے سفر کی تھکن کافی حد تک کم کر دی۔

پریٹ اے مانجے کی بنیاد 1986ء میں لندن میں رکھی گئی تھی، اور آج یہ دنیا کے متعدد بڑے شہروں اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر مسافروں کی پسندیدہ ریستورانی چین بن چکی ہے۔ اس کی خاص پہچان تازہ تیار کی جانے والی خوراک ہے، جسے عام فاسٹ فوڈ کے مقابلے میں نسبتاً صحت مند سمجھا جاتا ہے۔
اسی دوران ہماری نظر برابر والی میز پر بیٹھی ایک دلچسپ فیملی پر جا ٹھہری۔

تقریباً ستر برس کے ایک بزرگ نہایت محبت سے تین چار سال کے ایک ننھے بچے سے اطالوی زبان میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان کے سامنے ایک نوجوان اطالوی بیٹھا تھا، غالباً بچے کا والد۔
بزرگ کے چہرے کے نقوش دیکھ کر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید ان کا تعلق کبھی برصغیر، ممکنہ طور پر کراچی یا شمالی ہندوستان کے کسی علاقے سے رہا ہو۔ بچے کے چہرے پر ایشیائی اور اطالوی خدوخال ایک ساتھ جھلک رہے تھے، جیسے دو تہذیبیں ایک ہی مسکراہٹ میں سمٹ آئی ہوں۔

چند لمحوں کے لیے میرے ذہن نے ایک پوری کہانی تخلیق کر لی۔

شاید کئی دہائیاں پہلے ایک نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں برصغیر سے اٹلی آیا ہوگا۔ برسوں محنت کی ہوگی، زندگی بسائی ہوگی، پھر اس کی بیٹی نے ایک اطالوی نوجوان سے شادی کر لی ہوگی، اور آج اس کے سامنے بیٹھا یہ ننھا بچہ دو تہذیبوں، دو زبانوں اور دو تاریخوں کا خوبصورت امتزاج بن چکا ہوگا۔
یہ سب محض میرے تخیل کی اڑان تھی۔

لنچ کے بعد ہم ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف بڑھے۔ وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ کرایہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ بتایا جا رہا تھا، بلکہ گوگل میپس پر نظر آنے والے تخمینے سے بھی خاصا زیادہ۔
ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فیصلہ کیا کہ کیوں نہ میلان کا پہلا تجربہ مقامی ٹرین کے ذریعے کیا جائے۔

ایئرپورٹ اسٹیشن سے ٹکٹ خریدا تو معلوم ہوا کہ راستے میں ایک مرتبہ ٹرین تبدیل کرنا ہوگی۔
مالپینسا اٹلی کے مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور میلان شہر سے تقریباً پچاس کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ اگرچہ میلان کا قدیم شہری ہوائی اڈہ لیناتے ہے، لیکن دنیا بھر سے آنے والے زیادہ تر بین الاقوامی مسافر مالپینسا ہی کے ذریعے اٹلی میں داخل ہوتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں سیاح اپنے اطالوی سفر کا آغاز اسی ہوائی اڈے سے کرتے ہیں۔

اب ہماری اگلی منزل تھی، ڈومینا میلانو فیئرا ہوٹل۔

ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ ٹرین کے ذریعے ہوٹل تک پہنچا جائے۔ چنانچہ ہم ٹرین میں سوار ہوئے اور سرونّو (Saronno) اسٹیشن پہنچے، جہاں ہمیں دوسری ٹرین تبدیل کرنا تھی۔

سرونّو اسٹیشن پر صورتِ حال ہماری توقع سے کچھ مختلف نکلی۔ پلیٹ فارموں پر زیادہ تر ہدایات اطالوی زبان میں درج تھیں۔ طویل سفر کی تھکن، ساتھ موجود سامان اور اجنبی ماحول نے ہماری الجھن میں مزید اضافہ کر دیا۔

چند لمحوں تک ہم نقشہ، سائن بورڈ اور پلیٹ فارم نمبروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اس مرحلے پر مزید وقت ضائع کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ آخرکار ہم نے فیصلہ کیا کہ باقی سفر ٹیکسی کے ذریعے طے کیا جائے۔

ہم ٹیکسی اسٹینڈ پر موجود سرکاری ٹیکسی میں سوار ہوئے، سامان ڈِگی میں رکھا، اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد ڈومینا میلانو فیئرا ہوٹل کے مرکزی دروازے پر پہنچ گئے۔

پہلی ہی نظر میں ہوٹل نے اچھا تاثر دیا۔ عمارت کشادہ، جدید طرزِ تعمیر کی حامل اور ہر طرح کی سہولت سے آراستہ تھی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس وقت وہاں مہمان بہت کم تھے۔ شاید سیاحتی موسم ابھی اپنے عروج پر نہیں پہنچا تھا، یا پھر ہوٹل شہر کے نسبتاً پُرسکون حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے وہاں غیر معمولی ہجوم نہیں تھا۔

بہرحال، اس کا ایک خوشگوار فائدہ ہمیں ضرور ملا۔ پورے قیام کے دوران ہوٹل کا عملہ نہایت خوش اخلاقی، خندہ پیشانی اور توجہ کے ساتھ ہماری خدمت کرتا رہا۔

ہمیں دوسری منزل پر کمرہ نمبر 212 دیا گیا۔ کمرے میں داخل ہوئے تو ہر چیز انتہائی صاف ستھری، سلیقے سے ترتیب دی ہوئی اور آرام دہ محسوس ہوئی۔ پردہ ہٹا کر کھڑکی سے باہر دیکھا تو دور تک پھیلا ہوا منظر نظر آیا۔ قریب ہی ایک مصروف ہائی وے گزرتی تھی، جس پر گاڑیاں مسلسل رواں تھیں، مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کمرے کے اندر مکمل سکون تھا۔ جدید تعمیر اور بہترین ساؤنڈ پروفنگ نے باہر کی دنیا کے شور کو گویا کھڑکی کے اُس پار ہی روک دیا تھا۔

ہم نے سامان ترتیب سے رکھا، کچھ دیر آرام کیا اور پھر سوچا کہ آئندہ چند دنوں کی ضروری اشیاء ابھی خرید لی جائیں۔

ہوٹل کے بالکل قریب ایک بڑا سپر مارکیٹ تھا، جس کا نام فیمیلیا تھا۔ یہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کا ایک عمدہ اسٹور تھا، جہاں مقامی لوگ اپنی خریداری کے لیے آتے تھے۔

ہم نے بھی آئندہ ایک ہفتے کی ضرورت کی کئی چیزیں خرید لیں؛ بسکٹ، اپنی پسند کے پھل، چیری، سیب، کیوی فروٹ، کیلے، مختلف مشروبات، پانی کی بوتلیں اور چند دوسری ہلکی پھلکی اشیاء۔ مجھے براؤن بریڈ خاص طور پر پسند ہے، اور چونکہ ہر جگہ اچھی ملٹی گرین براؤن بریڈ آسانی سے نہیں ملتی، اس لیے میں عموماً سفر کے دوران اسے ساتھ رکھتا ہوں۔

اب ہمارے کمرے میں اگلے چند دنوں کے لیے ایک مختصر سا سفری ذخیرہ تیار تھا اور بار بار خریداری کی ضرورت نہ رہی تھی۔

اب شام ڈھلنے کو تھی اور ہم اگلے دن کے ایڈونچر کے لیے تازہ دم ہونا چاہتے تھے اس لیے دن کا اختتام کیا اور سونے کے لیے لیٹ گئے۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *