Skip to content
Home » Blog » غیر اہم مصروفیات کا جال

غیر اہم مصروفیات کا جال

  • by

غیر اہم مصروفیات کا جال

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ زندگی میں کچھ بامعنی کرنا چاہتے ہیں. مثلاً کوی کتاب لکھنا، نئی مہارت سیکھنا، بہتر صحت حاصل کرنا، یا اپنی اقدار اور اپنے خوابوں کے مطابق کوی اہم کام کرنا۔ مگر دن کے اختتام پر انہیں احساس ہوتا ہے کہ وقت غیر ضروری واٹس ایپ گفتگو، سوشل میڈیا پر سیاسی و مذہبی بحثوں، اور فوری جذباتی ردِعمل میں گزر گیا۔ وہ مصروف بہت ہوتے ہیں، مگر مؤثر نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا دماغ فوری خوشی (instant gratification) کی طرف بہت جلد مائل ہو جاتا ہے۔ کوی notification، کوی بحث، کوی مختصر ویڈیو، یا کسی پوسٹ پر فوری ردعمل، یہ سب انھیں وقتی ذہنی لذت دیتے ہیں۔ لیکن اصل ترقی اکثر delayed gratification مانگتی ہے۔ یعنی آج کی چھوٹی خوشی قربان کر کے مستقبل کے بڑے فائدے کے لیے جدوجہد کرنا۔

اسی تصور کو 1960s میں ماہرِ نفسیات Walter Mischel نے مشہور Marshmallow Experiment کے ذریعے واضح کیا۔

بچوں کے سامنے ایک marshmallow رکھا گیا اور کہا گیا کہ اگر وہ چند منٹ انتظار کر لیں تو انہیں ایک اضافی marshmallow ملے گا۔ بعد کی تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو بچے انتظار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، ان میں self-control اور long-term planning نسبتاً بہتر تھی۔ اگرچہ بعد کی studies نے یہ بھی واضح کیا کہ خاندانی اور سماجی حالات بھی بہت اہم ہوتے ہیں، لیکن self-discipline کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہی۔

نیورو سائنس کے مطابق فوری خوشی دماغ کے dopamine reward system کو activate کرتی ہے، جبکہ طویل المدتی اہداف کے لیے prefrontal cortex کی disciplined decision-making ضروری ہوتی ہے۔

روزانہ خود سے ایک سوال پوچھیں:
کیا میری توانائی میرے ارد گرد کے عارضی شور میں ضائع ہو رہی ہے یا میری اقدار کے مطابق مستقبل کی تعمیر میں؟

ہر بحث میں شامل ہونا ضروری نہیں۔
کبھی کبھی فون بند کر کے اپنے اصل اور اہم کام پر واپس آ جانا ہی اصل ذہانت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *