Skip to content
Home » Blog » صحرا اور اونٹ، دسویں قسط

صحرا اور اونٹ، دسویں قسط

  • by

صحرا اور اونٹ، دسویں قسط

مراکش کے رنگ

شارق علی
ویلیوورسٹی

املل کی ٹھنڈی وادیوں سے واپسی کا سفر شروع ہوا تو پہاڑ آہستہ آہستہ پیچھے کی سمت سفر کرنے لگے۔ سبز ڈھلوانیں مٹیالے رنگوں میں ڈھلنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد کا جغرافیہ ایک خاموش، وسیع میدانی صحرا میں تبدیل ہو گیا۔

ہماری کوچ مرکزی سڑک چھوڑ کر ایک چھوٹی سی پگڈنڈی نما سڑک پر آگے بڑھی تو کچھ دیر بعد صحرا میں ایستادہ ایک بڑا سا خیمہ نظر آیا۔

اس ٹینٹ نما خیمے کے ساتھ ہی اونٹوں کی ایک دوسرے سے بندھی لمبی قطار کھڑی ہمارا انتظار کر رہی تھی، جیسے کوئی قدیم قافلہ روانگی کے لیے تیار ہو۔ صدیوں پرانی کسی کہانی کا ایک جیتا جاگتا منظر۔

کوچ رکی تو چند مقامی منتظمین گرمجوشی سے سیاحوں کے استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ ان بدو نقوش والے لوگوں کے چہرے دھوپ سے سنولے ہوئے تھے، قد نسبتاً چھوٹا، مقامی روایتی لباس پہنے، اور آنکھوں میں خوش آمدید کہنے کی خاص چمک لیے ہوئے۔ مراکشی سادگی، وقار اور مہمان نوازی کا حسین امتزاج۔

انہوں نے خیموں میں ہمارے مغربی لباس کے اوپر ہی مراکشی انداز کے روایتی جبّے (Djellaba) اوڑھا دیے۔ ہلکے، ڈھیلے، اور صحرا کی ہوا اور موسم کے لیے موزوں لباس۔ یہ جبّے صدیوں سے یہاں کی ثقافت کا حصہ ہیں۔

پھر کیمل رائڈ کا آغاز ہوا۔ ہمیں باری باری اونٹوں پر بٹھایا گیا۔ کسی پر دو افراد، کسی پر تین، اور کہیں ایک۔

روانگی کا اشارہ ہوا تو بیٹھے ہوئے اونٹ آہستہ آہستہ اٹھنے لگے، پہلے پچھلی ٹانگیں، پھر اگلی اور ایک ہلکا سا مخصوص جھٹکا۔ ہم گویا کسی صحرائی جہاز میں سوار ماضی کے سفر کے لیے تیار تھے، وقت نے ہمیں جیسے پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہو۔

یہ اونٹ محض جانور نہیں بلکہ ان بدوؤں کی صحرائی زندگی کے خاموش ساتھی ہیں۔ یہ خوب تربیت یافتہ تھے، ایک قطار میں بندھے، اور اپنے رہنما کے اشاروں پر چلنے والے۔ کچھ کے اگلے پاؤں ہلکے سے بندھے ہوئے تھے، شاید اس لیے کہ وہ بے قابو نہ ہوں، مگر ان کی چال میں ایک عجیب سا سکون اور وقار تھا۔

جیسے ہی قافلہ صحرا میں آگے بڑھا، سورج کی روشنی اور ریت کا سنہری کھیل شروع ہوا، اور مجھے فطرت کا ایک منفرد روپ اپنے بہت قریب محسوس ہونے لگا۔

مراکش کے صحرا میں بدوین کلچر صدیوں پر محیط ایک زندہ روایت ہے۔ یہاں اونٹ صرف سواری نہیں بلکہ زندگی کا لازمی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ سفر، تجارت اور لق و دق صحرا میں انسانی بقا کا ایک بنیادی وسیلہ۔

مراکشی صحرا میں کیمل رائڈ ایک چشم کشا تجربہ تھا۔ گائیڈ نے بتایا کہ یہ اونٹ ایک کوہان والے ڈرامیڈری اونٹ ہیں، جو Camel کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کوہان میں پانی نہیں بلکہ چربی محفوظ ہوتی ہے جو توانائی میں تبدیل ہوتی ہے۔ یہ کئی دن بغیر پانی کے گزار سکتے ہیں، ان کے پاؤں نرم اور چوڑے ہوتے ہیں تاکہ ریت میں نہ دھنسیں، اور لمبی پلکیں اور بند ہونے والے نتھنے انہیں ریت کے طوفان میں بھی محفوظ رکھتے ہیں، یوں یہ واقعی صحرا کے بہترین مسافر ہیں۔

یہ اونٹ عموماً 40 سے 50 سال تک زندہ رہتے ہیں۔ ان کا بچہ ابتدا میں صرف ماں کا دودھ پیتا ہے، پھر چند ماہ بعد آہستہ آہستہ گھاس اور جھاڑیوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی تربیت بچپن ہی سے شروع کر دی جاتی ہے تاکہ وہ انسان کے ساتھ مانوس ہو جائیں۔ صحرائی بدو ان کے ساتھ نرمی، صبر اور تسلسل کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں، کیونکہ ایک تربیت یافتہ اونٹ ہی لمبے سفر کا قابلِ اعتماد ساتھی بنتا ہے۔
یہ مراکشی بدوین لوگ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ، سادہ مگر باوقار زندگی گزارتے ہیں، اور آج کے دور میں سیاحوں کو اپنے کلچر میں خوش دلی سے شامل کرتے ہیں۔ کیمل رائڈ دراصل اسی قدیم کارواں روایت کی ایک جھلک ہے، جہاں اونٹ قطار میں بندھے، مکمل تربیت یافتہ اور اپنے رہنما کے اشاروں پر خاموشی سے چلتے چلے جاتے تھے۔ ان کی سواری میں ایک مخصوص توازن اور ردھم ہوتا ہے۔ بدوین گائیڈز نہ صرف اس پورے نظام کو مہارت سے سنبھالتے ہیں بلکہ اپنی مہمان نوازی، روایتی لباس (Djellaba) اور مراکشی چائے کی پیشکش کے ذریعے اس تجربے کو ایک ثقافتی یادگار میں بدل دیتے ہیں—جہاں سیاح صرف سفر نہیں کرتے بلکہ ایک قدیم تہذیب کو محسوس کرتے ہیں۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *