Skip to content
Home » Blog » شکریہ چودھویں اور آخری قسط

شکریہ چودھویں اور آخری قسط

  • by

شکریہ چودھویں اور آخری قسط

مراکش کے رنگ

شارق علی
ویلیوورسٹی

اگافے صحرا کے ٹور سے واپسی کے بعد جب ہم ہوٹل پہنچے تو رات کے تقریباً دس بج چکے تھے۔ تیز دھوپ میں دن بھر کی مصروفیات کے بعد مجھے پیناڈول کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اگلی صبح کی شیو کے لیے ریزر بھی درکار تھا۔

میں نے ہوٹل کے قریب واقع مرکزی ریلوے اسٹیشن پر کسی دکان سے یہ چیزیں خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا تو مونا بھی چہل قدمی کے لیے تیار ہو گئیں۔
اوپرا پلازا ہوٹل، جہاں ہم مقیم تھے، ایک شاندار چوک میں واقع ہے۔ سامنے نیشنل اوپرا ہاؤس کی وسیع عمارت ہے اور بائیں جانب مراکش کا مرکزی ریلوے اسٹیشن۔ چوک کے چوتھے رخ پر واقع ایک بڑی رہائشی عمارت کی پوری دیوار کو کینوس بنا کر اس پر روایتی لباس پہنے ایک مقامی بربر کی بہت بڑی تصویر بنائی گئی ہے۔ یہ تصویر بربر شناخت پر فخر آمیز رویے کی بھرپور مظہر ہے۔

اس شہر میں آج بھی بربر تہذیب کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔ شمالی افریقہ کے یہ قدیم باشندے خود کو “امازیغ” یعنی “آزاد انسان” کہتے ہیں۔ ان کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔ ان کی زبان تِفیناغ رسم الخط میں لکھی جاتی ہے جو آج بھی سرکاری حیثیت رکھتا ہے۔ صحارا کے سخت اور بے رحم ماحول میں صدیوں تک زندہ رہنے والے یہ لوگ اہم تجارتی راستوں کے نگہبان رہے ہیں۔ مراکش کے روایتی قالینوں، زیورات اور دستکاریوں میں آج بھی ان کی ثقافت کے رنگ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
ہم ہوٹل سے نکلے اور دو منٹ بعد ہی مرکزی ریلوے اسٹیشن میں موجود کھلی دکانوں سے مطلوبہ اشیا خرید چکے تھے۔

اسٹیشن کی عمارت روشن تھی اور گہما گہمی بھی خاصی تھی، اس لیے کچھ دیر چہل قدمی کے ارادے سے ہم کشادہ سڑک کے آراستہ فٹ پاتھ پر چلنے لگے۔ وقفے وقفے سے لگے کھجوروں کے درختوں کے ساتھ خوبصورت لیمپ شیڈز نصب تھے جو رات کے اندھیرے سے گلے مل کر ایک خواب ناک منظر پیش کر رہے تھے۔ اسی فٹ پاتھ کے کنارے جگہ جگہ بینچیں نصب تھیں۔ ایک بینچ پر ایک بوڑھا مسافر اپنے سامان سمیت اطمینان سے بیٹھا ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ اس کی ٹرین روانہ ہونے میں شاید ابھی کچھ وقت باقی تھا۔

رات کافی ہو چکی تھی۔ وہ اکیلا تھا، بوڑھا اور کمزور بھی۔ اس کے پاس سامان بھی تھا۔ اگر یہ کراچی ہوتا تو ایسا ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر اس شہر کے ماحول میں عجب سا امن و سکون تھا۔ اس کے چہرے پر نہ خوف تھا، نہ بے چینی۔
دل میں بے اختیار آرزو جاگی کہ کاش میرا شہر بھی ایسا ہوتا، جہاں ایک کمزور بوڑھا رات کے وقت محفوظ سفر کر سکتا۔

میرا شہر کراچی، جہاں پچھلے سال تقریباً چونسٹھ ہزار سے زائد جرائم کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ابتدائی دو ماہ میں ہزاروں موبائل فون اور موٹر سائیکلیں چوری یا چھینی گئیں، جبکہ مزاحمت کے دوران متعدد شہری ہلاک یا زخمی بھی ہوئے۔

ہم نے لمبا چکر لگانے کے لیے مصروف سڑک عبور کی۔ مراکش کی ٹریفک یورپ کے بعض ممالک جیسی منظم تو نہیں، لیکن مجموعی طور پر خاصی بہتر محسوس ہوئی۔ شہر میں زندگی رواں تھی، مگر ایک ترتیب اور اعتماد بھی نظر آتا تھا۔

کچھ دیر کی چہل قدمی اور مراکش شہر کے رات کے مناظر دیکھنے کے بعد ہم ہوٹل کے کمرے میں واپس آ کر سو گئے۔

اگلا دن ہماری واپسی کا دن تھا۔ ناشتے کے بعد سامان اور تحفوں کی پیکنگ کی گئی۔ بارہ بجے چیک آؤٹ کیا اور سامان ہوٹل میں رکھوا کر ہم جامع الفنا میں لنچ کے لیے روانہ ہوئے۔

جامع الفنا کی رنگین گلیوں اور بازاروں میں گھومنے کے بعد آخری بار مراکشی تازہ انار کا جوس پیا گیا، جو اس سے پہلے بھی تین مرتبہ ہماری توجہ حاصل کر چکا تھا۔ مراکش میوزیم کی تلاش میں اتنا وقت صرف ہو گیا کہ پھر یہ ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔ لنچ کے بعد ہم نے ٹیکسی لی اور اپنے ہوٹل واپس آ گئے، جہاں ایئرپورٹ کے لیے پہلے سے بک کی ہوئی ٹیکسی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ سامان لے کر ہم ایئرپورٹ پہنچ گئے۔

ایئرپورٹ کی شاندار عمارت میں روایتی مراکشی اور اسلامی جیومیٹرک ڈیزائن کو جدید شیشے اور فولاد کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے جوڑا گیا ہے۔
ہوائی اڈے کی چھت اور سامنے کے حصے میں شمسی توانائی کے پینل نصب ہیں جو اس کی بجلی کی ضروریات کا ایک حصہ پورا کرتے ہیں، جبکہ اندر آنے والی قدرتی روشنی کا استعمال بھی بہت مؤثر انداز میں کیا گیا ہے۔

کہتے ہیں کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران یہ ہوائی اڈہ امریکی فضائی نقل و حمل کے اہم اڈوں میں سے ایک تھا، اور آج یہ مراکش کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔

جہاز نے ٹیک آف کیا اور جب وہ بلندی حاصل کر رہا تھا تو میں نے کھڑکی سے نیچے روشنیوں کے دلکش سمندر کو دیکھا۔

سڑکوں کی روشن لکیریں اور ان کے درمیان دور دور تک پھیلی سنہری روشنیاں تاروں کی طرح جھلملا رہی تھیں۔

یہیں کہیں تھے وہ قدیم بازار، تاریخی عمارتیں، صحرا کی خاموش وسعتیں، پہاڑی بستیاں، خوش ذائقہ کھانے اور مہمان نواز لوگ۔
شہر کی روشنیاں دھیرے دھیرے دور ہوتی چلی گئیں۔ میں نے دل ہی دل میں کہا: شکریہ۔
نئے لوگوں، نئی تہذیبوں اور نئے زاویۂ نظر سے آشنائی کا شکریہ۔

مراکش، واقعی خوبصورتی، رنگوں، ثقافت اور تاریخ کی نیرنگیوں سے بھرپور ایک یادگار سرزمین ہے۔

شکریہ مراکش۔

اختتام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *