Skip to content
Home » Blog » خود درستگی: ترقی کا راز

خود درستگی: ترقی کا راز

  • by

خود درستگی: ترقی کا راز

شارق علی
ویلیوورسٹی

زندگی میں شاید سب سے قیمتی صلاحیت یہ نہیں کہ ہم کبھی غلطی نہ کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو پہچان سکیں اور انہیں درست کر سکیں۔ یہی خود درستگی (Self-Correction) انسان کی انفرادی اور اجتماعی ترقی کی بنیاد ہے۔

ذرا ایک بچے کو سائیکل چلانا سیکھتے ہوئے دیکھیے۔ شروع میں بڑا بھائی یا کوئی دوست اسے ہینڈل پکڑنا، پیڈل مارنا اور توازن قائم رکھنا سکھاتا ہے۔ چند لمحوں کے لیے وہ سہارا ضرور دیتا ہے، لیکن اصل سیکھنے کا عمل باہر نہیں، بچے کے اپنے دماغ کے اندر جاری ہوتا ہے۔ ہر بار جب سائیکل دائیں طرف زیادہ جھکتی ہے تو دماغ اگلی کوشش میں بائیں طرف معمولی سی اصلاح کرتا ہے۔ پھر دوسری غلطی، پھر ایک اور اصلاح۔ سینکڑوں چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور ان کی خاموش درستی کے بعد ایک دن وہ بچہ بغیر کسی سہارے کے روانی سے سائیکل چلا رہا ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارا دماغ اسی اصول پر کام کرتا ہے۔ جدید علمِ اعصاب کے مطابق دماغ ہر لمحہ اپنے اندازوں کو حقیقت سے ملاتا رہتا ہے اور جہاں فرق محسوس کرتا ہے، وہاں خود کو بہتر بناتا ہے۔ یہی مسلسل اصلاح ہمیں نئی مہارتیں سکھاتی ہے۔

یہی اصول صرف افراد پر نہیں بلکہ معاشروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کامیاب معاشرے وہ ہوتے ہیں جن کے اندر اپنی غلطیوں کو درست کرنے کے مؤثر نظام موجود ہوں۔

جمہوریت کی اصل طاقت بھی صرف ووٹ نہیں بلکہ یہی خود درستگی کا عمل ہے۔ اگر کوئی حکومت غلط فیصلے کرے تو عوام اگلے انتخاب میں اسے بدل سکتے ہیں، پالیسیاں تبدیل ہو سکتی ہیں، عدالتیں فیصلوں کا جائزہ لے سکتی ہیں، میڈیا اور عوام تنقید کر سکتے ہیں، اور یوں پورا نظام اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے برعکس آمریت میں یہی صلاحیت کمزور یا ختم ہو جاتی ہے۔

جب طاقت ایک فرد یا ایک محدود طبقے کے ہاتھ میں مرتکز ہو جائے، ادارے آزاد نہ رہیں، قانون سب پر یکساں لاگو نہ ہو، اور اقتدار چھوڑنے کا کوئی حقیقی راستہ باقی نہ بچے، تو غلطیاں صرف بڑھتی جاتی ہیں۔ اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے، اور پھر معاشرہ آہستہ آہستہ زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

یہ اصول ہماری ذاتی زندگی میں بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جو شخص اپنی غلطی تسلیم نہیں کر سکتا، وہ نئی بات بھی نہیں سیکھ سکتا۔ لیکن جو اپنی رائے، اپنے فیصلوں اور اپنے رویوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتا رہتا ہے، وہ ہر تجربے کے ساتھ پہلے سے بہتر انسان بنتا جاتا ہے۔

ترقی کا راز غلطی سے بچنے میں نہیں، بلکہ غلطی کے بعد خود کو بہتر بنانے میں ہے۔ فطرت بھی اسی اصول پر ارتقا کرتی ہے، انسانی دماغ بھی، اور کامیاب معاشرے بھی۔ شاید اسی لیے خود درستگی صرف ایک اچھی عادت نہیں، بلکہ زندہ اور متحرک نظاموں کی سب سے بنیادی خصوصیت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *