اوڈیسی اور یولیسز
شارق علی
ویلیوورسٹی
ایک ہیرو سمندر میں بھٹکا، دوسرا شہر کی گلیوں میں۔
دونوں دراصل خود اپنی تلاش میں تھے۔
کہانی میں سب ہی کچھ تو موجود ہے۔
ادب، تاریخ، انسانی نفسیات، اور قدیم و جدید زندگی کا اضطراب۔
تقریباً تین ہزار سال پہلے Homer نے The Odyssey تخلیق کی، جو غالباً آٹھویں صدی قبل مسیح میں لکھی گئی۔
اس ایپک میں Odysseus نامی ایک جنگجو کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ Trojan War ختم ہو چکی تھی، مگر اس کردار کے لیے اصل جنگ اب شروع ہوئی تھی۔ گھر واپس پہنچنے کی جنگ۔
اس کے راستے میں ایک آنکھ والا دیو Polyphemus آیا، جادوگرنی Circe آئی، سمندر کے مہلک خطرات آئے، اور سمندر کے دیوتا Poseidon کی ناراضگی بھی۔
وہ دس سال تک سمندروں میں بھٹکتا رہا تاکہ اپنے جزیرے Ithaca واپس پہنچ سکے، جہاں اس کی وفاشعار بیوی Penelope اس کا انتظار کر رہی تھی۔
یہ صرف مہم جوئی کی کہانی نہیں تھی۔
یہ گھر لوٹنے کی آرزو، وفاداری، صبر، آزمائش اور انسانی برداشت کی کہانی تھی۔
صدیوں بعد James Joyce نے اسی داستان کو ایک حیران کن جدید شکل دی۔
اس نے Ulysses لکھی، جو 1922 میں شائع ہوئی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پوری کہانی صرف ایک دن کا احوال ہیں۔ یہ واقعات، 16 جون 1904، کے دوران Dublin میں پیش آتے ہیں۔
اس کہانی میں نہ کوئی دیو تھا، نہ سمندری طوفان۔ صرف ایک عام آدمی تھا۔ Leopold Bloom۔
وہ ڈبلن کی گلیوں میں گھومتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، کھانا کھاتا ہے، اپنی ازدواجی زندگی، یادوں، خواہشات اور تنہائی سے نبرد آزما رہتا ہے۔
ظاہری طور پر کچھ بھی غیر معمولی نہیں ہوتا۔
مگر James Joyce کا کمال یہ تھا کہ اس نے اسٹریم آف کونشسں نیس تحریری انداز میں یہ دکھایا کہ جدید انسان کے اندر بھی اتنے ہی طوفان برپا ہوتے ہیں جتنے کبھی سمندروں میں ہوا کرتے تھے۔
اصل فرق کیا ہے؟
Odysseus
بیرونی مصیبتوں اور بلاؤں سے لڑ رہا تھا۔
Leopold Bloom اندرونی بے معنویت، تنہائی، شناخت کے بحران اور جدید زندگی کے انتشار سے لڑ رہا تھا۔
قدیم ہیرو کا سوال تھا۔ میں گھر کیسے پہنچوں؟
جدید انسان کا سوال ہے۔ میں خود شناسی تک کیسے پہنچوں؟
آج ہم میں سے بہت سے لوگ سمندروں میں نہیں بھٹکتے۔
لیکن ہر روز بھٹکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے شور میں،
recognition anxiety میں،
comparison culture میں،
loneliness میں،
اور مقصد کی مسلسل تلاش میں۔
ہمارے monsters بدل گئے ہیں، مگر سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
شاید اسی لیے The Odyssey اور Ulysses آج بھی زندہ ہیں۔
ایک کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کے طوفانوں سے کیسے لڑنا ہے۔
دوسری ہمیں بتاتی ہے کہ اپنے اندر کے شور کو کیسے سمجھنا ہے۔
اور شاید انسان کی سب سے بڑی اوڈیسی آج بھی یہی ہے۔ دنیا فتح کرنے کے بعد خود اپنے اندر واپسی کا سفر
