ذہانت کا ارتقاء
کہانی نمبر 2, خلیوں کا معلوماتی جال
شارق علی
ویلیوورسٹی
پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ زندگی کی ابتدائی شکلیں، یعنی بیکٹیریا اور دوسرے یک خلوی جاندار، اپنے ماحول کو محسوس کر سکتے تھے۔ وہ خوراک کی طرف بڑھتے اور نقصان دہ چیزوں سے دور ہٹ جاتے تھے۔
پھر ذہانت کے ارتقاء کا سفر ایک قدم اور آگے بڑھا۔
اب ایک حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی۔ بعض خلیوں نے اکیلے زندگی گزارنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا شروع کر دیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ملٹی سیلولر یا کثیر خلوی جاندار وجود میں آئے۔
اس تبدیلی کو سادہ سی مثال سے سمجھیے۔ ایک فرد اکیلا ہو تو چھوٹا موٹا کام یا کارنامہ انجام دے سکتا ہے، لیکن جب بہت سے لوگ مل کر ایک ٹیم بنا لیتے ہیں تو وہ کہیں زیادہ بڑے، پیچیدہ اور بھرپور کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔ بالکل یہی بات خلیوں کے ساتھ بھی ہوئی۔
ابتدائی کثیر خلوی جانداروں میں مختلف خلیوں نے مختلف ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ کچھ خوراک حاصل کرنے میں ماہر ہو گئے، کچھ جسم کو سہارا دینے لگے، اور کچھ بیرونی ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کرنے لگے۔
اس دور کے جانداروں کی ایک دلچسپ مثال سمندری اسفنج (Sea Sponge) ہے۔ اسفنج آج بھی سمندروں میں پایا جاتا ہے اور اسے جانوروں کی قدیم ترین اقسام میں شمار کیا جاتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے پاس نہ دماغ ہے، نہ دل اور نہ ہی اعصابی نظام، لیکن اس کے لاکھوں خلیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ کچھ خلیے پانی کو جسم کے اندر کھینچتے ہیں، کچھ خوراک کو چھانتے ہیں اور کچھ فضلات کو باہر نکالتے ہیں۔ گویا ہر خلیہ اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہوتا ہے اور پورا جاندار ایک منظم معاشرے کی طرح کام کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرحلے پر ابھی تک نہ کوئی دماغ تھا اور نہ ہی اعصابی نظام۔ اس کے باوجود خلیے ایک دوسرے سے رابطہ کر رہے تھے۔ وہ کیمیائی سگنلز کے ذریعے پیغامات بھیجتے اور وصول کرتے تھے۔ اگر جسم کے کسی حصے کو ماحول میں تبدیلی محسوس ہوتی تو یہ اطلاع آہستہ آہستہ دوسرے خلیوں تک پہنچ جاتی۔
اس کی ایک اور مثال سلیم مولڈ (Slime Mold) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ مکمل جانور نہیں، لیکن جب خوراک کم ہو جاتی ہے تو ہزاروں انفرادی خلیے اکٹھے ہو کر ایک واحد جسم کی طرح حرکت کرنے لگتے ہیں۔ گویا بہت سے چھوٹے خلیے مل کر ایک بڑا فیصلہ کر رہے ہوں۔
آج بھی ہمارے جسم کے بے شمار خلیے مسلسل ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ہارمونز اور دوسرے کیمیائی پیغامات اس کی بہترین مثال ہیں۔ جب ہم دوڑتے ہیں، خوف محسوس کرتے ہیں یا بھوک لگتی ہے تو جسم کے مختلف حصوں کے درمیان معلومات کا ایک وسیع جال متحرک ہو جاتا ہے۔
یوں ارتقاء نے پہلی مرتبہ “اجتماعی ذہانت” (Collective Intelligence) کو جنم دیا۔ اب ذہانت صرف ایک خلیے کی خصوصیت نہیں رہی تھی بلکہ خلیوں کے پورے معاشرے کی مشترکہ صلاحیت بن چکی تھی۔
لیکن جیسے جیسے جسم بڑے اور پیچیدہ ہوتے گئے، ایک نئی مشکل پیدا ہوئی۔ اگر خطرہ جسم کے ایک حصے میں ظاہر ہو تو اس کی خبر پورے جسم تک فوراً کیسے پہنچے؟
کیمیائی پیغامات اپنا کام تو کر رہے تھے، مگر وہ نسبتاً سست تھے۔ ارتقاء کو اب ایک ایسے نظام کی ضرورت تھی جو بجلی کی رفتار سے اطلاعات پہنچا سکے۔
اسی ضرورت نے ارتقاء کو اگلا عظیم قدم اٹھانے پر مجبور کیا: اعصابی نظام (Nervous System) کا ظہور۔
ذہانت کے ارتقاء کے اس دلچسپ سفر میں ہمارے ساتھ رہیے
