Skip to content
Home » Blog » چھٹی قسط, اٹلس کی جانب

چھٹی قسط, اٹلس کی جانب

  • by

چھٹی قسط, اٹلس کی جانب

مراکش کے رنگ

شارق علی
ویلیو ورسٹی

الارم کی مدد سے ہم معمول سے کچھ پہلے ہی بیدار ہو گئے۔ کھڑکی کے پردے ہٹائے تو اتنی صبح بھی کچھ لوگ نیچے ہوٹل کے سویمنگ پول میں تیراکی میں مصروف نظر آئے۔

شاور لینے اور تیار ہونے کے بعد ہم نیچے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہم سے پہلے موجود تھے۔ ڈائننگ ہال میں فائیو اسٹار ناشتہ اراستہ تھا۔ سب کچھ حلال۔ خاص طور پر لائیو کوکنگ کاؤنٹر پر من پسند تازہ آملیٹ کی سہولت۔ تازہ پھلوں کی قطار، ہر قسم کی بیکری آئٹمز اور مشروبات—غرض یہ کہ تمام ہی لوازمات موجود تھے۔ سیر ہو کر ناشتہ کیا گیا۔ پہلے سے بک کروائی گئی ٹیکسی میں بیٹھ کر اٹلس ماؤنٹین ٹور پر جانے کے لیے طے شدہ مقررہ مقام پر پہنچے۔

آج ہماری مصروفیت اٹلس پہاڑ کی سیر تھی۔

شمالی افریقہ کے بڑے حصے میں پھیلا ہوا یہ پہاڑی سلسلہ مختلف حصّوں پر مشتمل ہے۔ یہ پہاڑ مراکش کے موسم، زراعت، ثقافت اور بربر آبادی کی زندگی پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ انہیں مراکش کی علامتی ترجمانی سمجھ لیجیے—قدیم، خاموش اور باوقار۔ یہ پہاڑ صدیوں سے بربر قبائل کی ثقافت، رہن سہن اور مزاحمت کے امین رہے ہیں۔ یہاں کی پتھریلی وادیاں، مٹیالے گاؤں، زیتون اور بادام کے درخت مراکش کی اصل روح سے سیاحوں کی ملاقات کروا دیتے ہیں۔ گویا اٹلس پہاڑ مراکش کی تاریخ، ثقافت اور قدرتی شناخت کا زندہ استعارہ ہیں۔

میٹنگ پوائنٹ جامعہ الفنا میں، ہوٹل اراگان کے بالکل سامنے واقع تھا۔ ابھی ٹور شروع ہونے میں پندرہ بیس منٹ باقی تھے۔ مونا کو باہر کھڑا رہنا اچھا نہ لگا، اور ہم وقت گزاری کے لیے ہوٹل کے اندر ایک خالی میز پر جا بیٹھے۔ ہماری یہ انتظارگاہ بجائے خود ایک معروف اور خوش ذوق ریسٹورنٹ نکلی۔ ناشتے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، لیکن بیٹھنے کے جواز کے طور پر چائے اور کافی کا آرڈر دے دیا۔

چند ہی لمحوں بعد ایک نوجوان ویٹر روایتی مراکشی انداز میں سجی ہوئی ٹرالی کے ساتھ نمودار ہوا۔ چمکتے ہوئے گلاس، چاندی کی نقشین کیتلی، اور پھر وہ مخصوص روایتی مراکشی انداز—دو دو گز بلند دھار بنا کر چائے اور کافی کو کپ میں انڈیلنا۔
یہ محض چائے پیش کرنا نہیں تھا؛ کسی سرکس میں پیش کیا جانے والا کرتب زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ اس ماہرانہ مظاہرے کے بعد گرم گرم چائے اور کافی ہمارے سامنے رکھ دی گئی۔

کچھ دیر بعد ہماری ٹور وین ہوٹل کے گیٹ کے عین سامنے آ کر رک گئی۔ ایک درمیانے سائز کی ہائی ایس وین۔ آج اسی میں ہمیں اٹلس ماؤنٹین کی سمت جانا تھا۔ ٹور میں ہمیں سرسبز وادیاں، بربر گاؤں، پہاڑی راستے، روایتی گھروں کا اندرونی ماحول، مقامی چائے کا ذائقہ اور قدرتی مناظر دکھانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ہم بھی مراکش کی ثقافت کی جھلک اپنی اصل شکل میں دیکھنے کے خواہشمند تھے۔

وین کا ڈرائیور نیچے اترا۔ عمر بمشکل چوبیس برس کی ہو گی۔ نام تھا جمال۔ مسکراتے ہوئے اس نے اپنا تعارف کروایا:
“میں آج کے ٹور کے لیے آپ کا ڈرائیور بھی ہوں اور گائیڈ بھی۔”

اسی دوران کچھ مزید سیاح وہاں جمع ہو چکے تھے۔ ہمارا گروپ کُل چھ افراد پر مشتمل تھا۔ ایک ادھیڑ عمر میاں بیوی جن کا تعلق اسپین سے تھا، اور ایک نوجوان جوڑا جو بیلجیم سے آیا تھا۔ یہ دونوں نوجوان—لڑکا اور لڑکی—ابھی طالب علم تھے۔ یوں مختلف ملکوں، زبانوں اور پس منظر سے آئے ہوئے چھ افراد ایک ہی وین میں بیٹھ گئے اور ہنستے مسکراتے ایک ہی سمت کے مسافر بن گئے۔

جمال نے انجن اسٹارٹ کیا اور مہارت سے وین چلانے لگا۔ شہر کی روزمرہ مصروفیات آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف فیڈ آؤٹ ہونے لگیں۔
کچھ عرصے کے سفر کے بعد ہم فلیٹ لینڈ اسکیپ سے نکل کر دھیرے دھیرے پہاڑی اونچائی کے پس منظر میں سفر کرنے لگے۔

ایک ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد مختصر وقفے کے لیے گاڑی ایک چھوٹے سے گاؤں کے کنارے روک دی گئی۔
یہ ایک سیاحتی گاؤں تھا۔ گاڑی سے اتر کر ریستوران کی سمت بڑھے تو گزرگاہ کے دونوں جانب ہینڈی کرافٹس کی دکانیں، مقامی دستکاری، چائے اور ہلکے اسنیکس کے اسٹال، اور ہر طرف سیاحتی رونق نظر آئی۔
میں نے ایک جگہ ذرا رک کر اردگرد نگاہ ڈالی تو منظر مراکش شہر کے مقابلے میں بہت بدلا ہوا محسوس ہوا۔ بل کھاتی، اوپر جاتی ہوئی سڑک، اس کے ساتھ بہتی ایک ندی، اور اردگرد اونچے اٹھتے پہاڑوں کی ابتدائی قطاریں۔

ندی کے کنارے کھیتوں میں کچھ مراکشی نوجوان کھیتی باڑی میں مصروف دکھائی دیے۔ یہ پہلی بار تھا کہ میں نے انہیں کسی اور کام میں مصروف دیکھا تھا، ورنہ زیادہ تر مراکشی نوجوان مجھے سیاحتی معیشت سے جڑے ہوئے کام کرتے نظر آئے—ٹور گائیڈز، ہوسپیٹیلٹی سروسز میں مصروف، یا دستکاری کی دکانوں میں موجود سیلز مین۔

ہمارا گائیڈ جمال تیئیس، چوبیس سال کا نوجوان تھا۔ یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ سیاحتی شعبے میں پچھلے تین چار برس سے کام کر رہا تھا—سیاحتی معیشت کا ایک خاموش کارکن۔

جمال کے پتلے تکونے بربر چہرے پر اٹلس پہاڑوں کی سختی اور صحرا کی دھوپ گھل مل سی گئی تھی۔ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس، یونیورسٹی کا یہ طالب علم، ماہر ڈرائیور اور گائیڈ—ایک خوب صورت کردار۔ گندمی رنگت، گہری آنکھیں اور خاموش پراعتمادی۔

سامنے ندی کے کنارے فصلوں میں کام کرتے ہوئے محنت کش نوجوان شاید تعلیم کے معاملے میں اتنے خوش قسمت نہ تھے۔

جمال اور ان دیہاتی نوجوانوں کی بچپن میں سنی بربر آباؤ اجداد کی عظمت کی کہانیاں اب روزگار کی مصروفیت میں کہیں کھو گئی تھیں، لیکن جمال اب بھی اپنی گائیڈ گفتگو میں بربر تاریخ کے آزاد قبائل کی روایت، زمین سے جڑت اور محنت کی حرمت کا ذکر ضرور کرتا نظر آیا۔

یہ کہانیاں نہ جانے کب تک آج کے مراکشی نوجوانوں کی تیز رفتار زندگی کا ساتھ نبھائیں۔
تعلیم، روزگار، روایت اور جدید معیشت کی بھول بھلیوں میں بھی قدیم شناخت برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف یہ بربر کہانیاں مجھے ماضی کی یادداشت اور مستقبل کی امید کا خاموش اور باوقار سفر محسوس ہوئیں۔
جاری ہے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *