Skip to content
Home » Blog » چمگادڑ کی آواز سے بنی دنیا

چمگادڑ کی آواز سے بنی دنیا

چمگادڑ کی آواز سے بنی دنیا

شارق علی
ویلیوورسٹی

چمگادڑیں اندھیرے میں دیکھنے کا ایک حیرت انگیز فن جانتی ہیں۔
ذرا تصور کیجیے:
رات مکمل خاموش ہے، روشنی کا نام و نشان تک موجود نہیں، مگر اسی گھپ اندھیرے میں ایک ننھی سی چمگادڑ پورے اعتماد کے ساتھ فضا میں اُڑ رہی ہے۔ نہ وہ کسی چیز سے ٹکراتی ہے، نہ راستہ بھٹکتی ہے، اور نہ ہی شکار کرنے میں غلطی کرتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ اس اندھیرے میں دیکھ کیسے رہی ہے؟
جواب نہایت حیرت انگیز ہے:
چمگادڑ آنکھوں سے نہیں، آواز کی مدد سے دیکھتی ہے۔
چمگادڑ ایک قدرتی سونار سسٹم استعمال کرتی ہے جسے سائنسی زبان میں Echolocation کہا جاتا ہے۔ یہ وہی اصول ہے جس پر آبدوزیں سمندر کی گہرائیوں میں راستہ تلاش کرتی ہیں، مگر چمگادڑ یہ کام لاکھوں برسوں سے بغیر کسی مشین کے انجام دے رہی ہے۔
چمگادڑ اپنے منہ یا ناک سے نہایت باریک اور تیز آوازیں خارج کرتی ہے۔ یہ آوازیں اتنی زیادہ فریکوئنسی کی ہوتی ہیں کہ انسان انہیں سن ہی نہیں سکتا۔ جب یہ آوازیں فضا میں موجود کسی شے، مثلاً کیڑے، درخت کی شاخ یا دیوار، سے ٹکراتی ہیں تو واپس لوٹ آتی ہیں۔
یہی بازگشت (Echo) چمگادڑ کے دماغ میں اس کے اردگرد کے ماحول کا ایک مکمل نقشہ تشکیل دے دیتی ہے۔ اس نقشے میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ کوئی چیز کہاں موجود ہے، بلکہ یہ معلومات بھی شامل ہوتی ہیں کہ وہ چیز:
کتنی دور ہے،
حرکت کر رہی ہے یا ساکن ہے،
نرم ہے یا سخت،
چھوٹی ہے یا بڑی۔
یوں سمجھ لیجیے کہ چمگادڑ کے دماغ میں ہر لمحہ آواز سے بنی ہوئی ایک فلم چل رہی ہوتی ہے۔
جیسے جیسے شکار قریب آتا ہے، چمگادڑ اپنی آوازوں کی رفتار بڑھا دیتی ہے۔ ابتدا میں آوازیں “پنگ… پنگ…” جیسی ہوتی ہیں، اور پھر اچانک “پررررر” میں بدل جاتی ہیں۔ اس آخری مرحلے کو Terminal Buzz کہا جاتا ہے، یعنی شکار پر آخری حملے سے ٹھیک پہلے کا لمحہ۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بعض چمگادڑیں انسانی بال جتنی باریک چیز کو بھی اپنی آواز کے ذریعے محسوس اور لوکیٹ کر سکتی ہیں۔ اندھیرا ہو، دھند ہو یا پیچیدہ ماحول—کچھ بھی ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتا۔
یہ قدرت کا ایک خاموش شاہکار ہے جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقت کو سمجھنے کے لیے آنکھوں کا ہونا ضروری نہیں؛
سمجھنے والا دماغ کافی ہوتا ہے۔
شاید اسی لیے چمگادڑ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
دنیا کو دیکھنے کے لیے روشنی کم، اور حسِ ادراک زیادہ درکار ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *