پسماندہ علاقے اور تعلیمی نظام
شارق علی
ویلیوورسٹی
ہم عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ اچھا تعلیمی نظام وہی ہے جو ہر جگہ ایک جیسا ہو۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک ایسا نصاب جو بڑے شہر کے بچے کے لیے موزوں ہو، ضروری نہیں کہ وہ پہاڑوں، صحراؤں یا دور افتادہ دیہات کے بچوں کے لیے بھی اتنا ہی مؤثر ہو۔
تعلیم کا مقصد صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ اپنے ماحول کو سمجھنا اور اسے بہتر بنانا ہے۔ اگر کسی بچے کی زندگی برفانی پہاڑوں، کھیتوں، دریاؤں یا مویشیوں کے درمیان گزرتی ہے تو اس کی تعلیم بھی انہی حقیقتوں سے جڑی ہونی چاہیے۔ جب تعلیم بچے کی زبان، ثقافت اور روزمرہ تجربات سے ہم آہنگ ہوتی ہے تو سیکھنے کا عمل آسان بھی ہو جاتا ہے اور بامعنی بھی۔
ایسا تعلیمی نظام طلبہ کو محض امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں بلکہ مسائل حل کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ وہ پانی کی قلت، توانائی، زراعت، ماحولیات اور مقامی معیشت جیسے حقیقی مسائل پر کام کرتے ہیں۔ اسی عمل میں سائنس، ریاضی، زبان، قیادت، ٹیم ورک اور ذمہ داری بھی سیکھتے ہیں۔
پاکستان کے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، چترال، آزاد کشمیر، بلوچستان اور دیگر دور افتادہ خطوں میں بھی اس طرزِ تعلیم کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ اگر ہم مقامی ضرورتوں کو تعلیم کا حصہ بنا دیں تو ہمارے اسکول صرف ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں رہیں گے بلکہ اپنے علاقوں کی ترقی کے مراکز بن سکتے ہیں۔
شاید وقت آگیا ہے کہ ہم یہ سوال دوبارہ پوچھیں۔ کیا ہم بچوں کو صرف امتحان میں کامیاب کرنا چاہتے ہیں، یا انہیں اپنی زندگی، اپنے معاشرے اور اپنے مستقبل کا معمار بنانا چاہتے ہیں؟
حقیقی تعلیم وہی ہے جو انسان کو اپنے ماحول سے جوڑے اور اسے مسائل کا حصہ نہیں بلکہ ان کا حل بننے کی صلاحیت عطا کرے۔
