وقت، تقدیر اور اختیار، کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
شارق علی
ویلیوورسٹی
رات کے وقت ایک قاری اپنے کمرے میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا ہے۔
کتاب کا ہر صفحہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے۔ آغاز بھی موجود ہے اور اختتام بھی۔ مگر جب وہ صفحہ پلٹتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہانی اسی لمحے جنم لے رہی ہو۔ آگے بڑھ رہی ہو۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے؟
جب Albert Einstein نے وقت کو محض گھڑی کی سوئیوں کی حرکت نہیں بلکہ ایک dimension کے طور پر سمجھایا تو ایک حیران کن سوال پیدا ہوا۔
اگر ماضی، حال اور مستقبل کسی نہ کسی شکل میں ایک ساتھ موجود ہیں تو کیا ہمارا مستقبل پہلے ہی لکھا جا چکا ہے؟
یہاں دو بڑے نظریات سامنے آتے ہیں۔
پہلا نظریہ Determinism ہے، جس کے مطابق کائنات کا ہر واقعہ کسی نہ کسی سبب سے جڑا ہے۔ اگر انسان فطرت کے تمام قوانین جان لے تو شاید مستقبل کا حساب بھی لگا سکے۔
اس سوچ کے مطابق آپ کے اگلے فیصلے تک کی بنیاد پہلے سے موجود ہے۔
دوسرا نظریہ Free Will ہے۔ یہ کہتا ہے کہ انسان محض ایک مشین نہیں۔ بلکہ وہ انتخاب کرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے، سیکھتا ہے اور اپنی کہانی خود لکھتا ہے۔
جدید سائنس اور فلسفہ اب ایک تیسرا زاویہ بھی پیش کرتے ہیں۔ شاید زندگی ایک نقشے کی مانند ہے جہاں کئی راستے موجود ہیں، مگر کون سا راستہ اختیار کرنا ہے، یہ انتخاب انسان کے ہاتھ میں ہے۔
شاید ہم مکمل طور پر آزاد بھی نہیں اور مکمل طور پر مجبور بھی نہیں۔
کائنات کے اصول طے شدہ ہیں… مگر چالیں ہمیں خود چلنی ہیں۔
اور شاید زندگی کی خوبصورتی بھی اسی ادھورے راز میں چھپی ہوی ہے
