Skip to content
Home » Blog » وقت: بہتا دریا یا مُڑتا راستہ؟

وقت: بہتا دریا یا مُڑتا راستہ؟

  • by

وقت: بہتا دریا یا مُڑتا راستہ؟

شارق علی
ویلیوورسٹی

آپ دریا کے کنارے کھڑے ہیں۔ پانی مسلسل بہہ رہا ہے. نہ رک رہا ہے، نہ پلٹ رہا ہے۔

صدیوں تک انسان نے وقت کو اسی طرح سمجھا۔

ایک سیدھی لکیر…
ایک تیر…
جو ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف جا رہا ہے اور کبھی واپس نہیں آتا۔
یہی وہ تصور تھا جسے ہم “Arrow of Time” کہتے ہیں۔

لیکن پھر سائنس نے ایک خاموش انقلاب برپا کیا۔

Albert Einstein
نے وضاحت کی کہ
“وقت کوئی الگ تھلگ چیز نہیں… یہ تو کائنات کے تانے بانے کا حصہ ہے۔”

اس نظریے کو ہم Theory of Relativity کہتے ہیں۔

اب ذرا ایک اور منظر سوچیے…

کائنات کو ایک نرم کپڑے (fabric) کی طرح تصور کیجیے جسے ہم Space-Time Fabric کہتے ہیں۔

اس کپڑے پر اگر آپ ایک بھاری گیند رکھ دیں، تو وہ نیچے کو جھک جائے گا۔

بالکل اسی طرح، بڑے سیارے اور ستارے وقت اور جگہ کو “موڑ” دیتے ہیں۔

یعنی…
وقت سیدھا نہیں چلتا،
وہ مُڑتا بھی ہے۔

تو کیا ہم وقت میں سفر کر سکتے ہیں؟
سادہ سا جواب:
ہاں… مگر صرف آگے کی طرف۔
جب کوئی چیز بہت تیزی سے حرکت کرتی ہے، روشنی کی رفتار کے قریب، تو اس کے لیے وقت سست ہو جاتا ہے۔
یعنی اگر آپ خلا میں تیز رفتار سفر کریں…
اور واپس آئیں…
تو زمین پر زیادہ وقت گزر چکا ہوگا۔

یہی سادہ سا تصور “Time Travel to the Future” ہے۔
لیکن اصل راز ابھی باقی ہے…

ہم وقت کو محسوس کیسے کرتے ہیں؟

یہاں سائنس خاموش ہو جاتی ہے…
اور فلسفہ بولنے لگتا ہے۔

کیا وقت واقعی بہہ رہا ہے؟
یا ہم خود اس میں بہہ رہے ہیں؟

کچھ سائنسدان کہتے ہیں:
ماضی، حال اور مستقبل سب ایک ساتھ موجود ہیں۔ ہم صرف ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک “حرکت” کا تجربہ کر رہے ہیں۔
آخر میں ایک سوال اپ کے سوچنے کے لیے…

اگر وقت واقعی ایک dimension ہے،
تو کیا ہماری زندگی ایک پہلے سے لکھی ہوئی کہانی ہے؟
یا ہم خود اس کہانی کو لکھ رہے ہیں؟
شاید…
وقت کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ
ہم اسے جتنا سمجھنا چاہتے ہیں،
وہ اتنا ہی پراسرار ہو جاتا ہے۔

اس تحریر کا اختتام ایک اور سوال پر “کیا وقت واقعی موجود ہے یا یہ صرف انسانی ذہن کا illusion ہے؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *