وادی، پل اور جگمگاتا ساحل ,ایڈریاٹک کنارے
گیارہویں اور آخری قسط
شارق علی
ویلیوورسٹی
کراوتسا نیشنل پارک سے نکل کر اب ہماری کوچ ڈبروونک کی جانب روانہ تھی۔ چھوٹی پہاڑیوں کے چکر دار راستوں سے گزرتے ہوئے ہم دریائے Trebižat کی ایک وسیع و عریض وادی میں داخل ہو چکے تھے۔ کوئی چالیس پچاس ہاکی گراؤنڈز کے مساوی بالکل ہموار میدانی وادی، جس کے بیچوں بیچ ایک دریا بہہ رہا تھا۔ اردگرد پہاڑیوں میں گھری ہونے کے باوجود یہ وادی حیرت انگیز طور پر ہموار تھی، جیسے قدرت نے سرسبز فصلوں کا قالین بچھا دیا ہو۔ دریا سیدھی لکیر میں بہتا ہوا فصلوں کے درمیان سے گزر رہا تھا اور اس کے کناروں پر قدآور درخت خاموش نگہبانوں کی طرح کھڑے تھے۔ ہلکی اونچی پہاڑیاں اس فلیٹ لینڈ کو گود میں لیے ہوئے تھیں۔
بہار اپنے عروج پر تھی؛ فصلیں ہری بھری اور کٹنے کو تیار، درخت لہلہاتے ہوئے، اور بارش کے بعد کی نمی فضا میں تازگی گھول رہی تھی۔ جب وادی کی مسافت ختم ہوئی اور کوچ دوبارہ پہاڑی اونچائی پر چڑھی تو میں نے کھڑکی سے مڑ کر رخصت ہوتی ہوئی وادی کو دیکھا۔ نیچے دور تک پھیلا یہ منظر ایک مکمل احساس تھا۔
روحانی سکون، قدرتی زرخیزی اور خاموش حسن کا امتزاج۔
بوسنیا کے دریاؤں میں نیرتوہ اور بونا نہ صرف زمین کو سیراب کرتے ہیں بلکہ ان کے کناروں پر بسنے والی دیقانی زندگی اس خطے کی اصل پہچان ہے۔ نیرتوہ دریا پہاڑوں اور قصبوں کے درمیان بہتا ہوا کھیتوں کو زندگی بخشتا ہے۔ موستار کے آس پاس اس کے کناروں پر کسان صبح سویرے کام میں جُت جاتے ہیں—مکئی، سبزیاں، انگور اور کہیں کہیں تمباکو کی کاشت۔ سادہ گھروں، چھوٹے باغیچوں اور مویشیوں کے ساتھ ایک خود کفیل مگر خاموش زندگی رواں دواں رہتی ہے۔
بونا دریا، جو بلاگائے کے قریب پہاڑ کے دامن سے اچانک پھوٹ نکلتا ہے، حجم میں چھوٹا مگر حسن میں بھرپور ہے۔ شفاف بہتا پانی، دریا کنارے چند کیفے، لکڑی کی کشتیاں اور آس پاس کی پرسکون انسانی موجودگی مل کر ایک ایسی دنیا بناتے ہیں جہاں وقت جیسے ذرا آہستہ چلنے لگتا ہے۔
دریاؤں کے کنارے بسنے والی زندگی شاید ہر جگہ ایک جیسی ہوتی ہے۔ سادہ، محنتی اور زمین سے جڑی ہوئی۔ یہاں وقت موسموں کے احساس سے ناپا جاتا ہے، اور زندگی شور سے نہیں، بہاؤ سے چلتی ہے۔
پھر ہماری کوچ بوسنیا کروشیا بارڈر پر جا کر رک گئی۔ گائیڈ ہم سب کے پاسپورٹ ایک ڈبے میں لیے چوکی کی عمارت میں داخل ہوئی۔ چند منٹوں میں مہر لگ گئی اور ہم دوبارہ کرویشیا کی حدود میں داخل ہو گئے۔
کوچ اب Dubrovnik کی سمت بڑھ رہی تھی اور منظر آہستہ آہستہ ایڈریاٹک ساحل کے قریب پہنچنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد ہماری کوچ پیلیشاتس برج پر سفر کرنے لگی۔ پہلے اسے دور سے دیکھا، پھر جب اس پر پہنچے تو جدید انجینئرنگ کا یہ شاہکار اپنی پوری عظمت کے ساتھ سامنے تھا۔
ایڈریاٹک سمندر کی نیلگوں وسعت پر معلق یہ پل محض ایک راستہ نہیں، بلکہ کرویشیا کے لیے آزادیٔ سفر کی علامت ہے۔ نیچے خاموش سمندر، دور پہاڑوں کی نیلی لکیر اور ڈھلتی روشنی—سب مل کر ایک عجیب سی سرشاری پیدا کر رہے تھے۔
ڈبروونک پہنچے تو رات کی گہماگہمی عروج پر تھی۔ کوچ مختلف راستوں سے گزرتی، سیاحوں کو ان کے ہوٹلوں پر اتارتی، ہماری اکوموڈیشن کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ساحل پر کھڑے کروز شپس کے ڈائننگ ہال جگمگا رہے تھے، نجی کشتیاں سمندر میں رواں تھیں، اور روشنیوں میں نہایا ہوا ساحل ایک زندہ تصویر بن چکا تھا۔
کچھ ہی دیر میں کوچ ہمیں اتار کر رخصت ہو جائے گی۔
یہ ایڈریاٹک کنارے ہماری آخری رات ہے۔
کل واپسی ہے،
مگر وادیاں، دریا، پل اور ساحل
اب ہمارے ساتھ سفر کریں گے۔
اختتام
