مٹی سے بجلی پیدا کرنے کی حیرت انگیز دریافت
شارق علی
ویلیوورسٹی
مٹی کے استعمال کا سوچیے تو سب سے پہلا خیال پودے اگانے کا آتا ہے۔
مگر حال ہی میں سائنس نے ہمیں ایک حیران کن حقیقت کے بارے میں بتایا ہے۔ مٹی توانائی کا ایک چھپا ہوا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔
درحقیقت، مٹی میں موجود ننھے جاندار، یعنی بیکٹیریا اور مائیکروبس، مسلسل نامیاتی مادے (جیسے پتے، جڑیں اور دیگر قدرتی اجزاء) کو مسلسل توڑتے رہتے ہیں۔ اس عمل کو decomposition کہا جاتا ہے۔ اس دوران یہ جاندار الیکٹران خارج کرتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے بجلی پیدا کرنے کا تصور جنم لیتا ہے۔
سائنسدانوں نے ایسے آلات تیار کیے ہیں جنہیں Microbial Fuel Cells (MFCs) کہا جاتا ہے۔ ان میں ایک خاص نظام ہوتا ہے جس میں مٹی کے اندر موجود بیکٹیریا کے خارج کیے گئے الیکٹرانز کو ایک الیکٹروڈ کے ذریعے جمع کیا جاتا ہے، اور پھر انہیں ایک سرکٹ کے ذریعے گزار کر برقی توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اگرچہ اس وقت اس ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی بجلی بہت کم ہوتی ہے، مگر یہ انتہائی مؤثر اور ماحول دوست طریقہ ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بجلی کی سہولت محدود ہو، یہ چھوٹے سینسرز، موسمیاتی آلات یا زرعی نگرانی کے نظام کو چلانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عمل مکمل طور پر قدرتی ہے۔ اس میں نہ کوئی ایندھن جلتا ہے، نہ آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ زمین کے اندر جاری ایک خاموش حیاتیاتی عمل کو استعمال کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ زمین صرف ہمیں سہارا ہی نہیں دیتی، بلکہ اپنے اندر ایک ایسی توانائی بھی رکھتی ہے جسے ہم ابھی سمجھنا شروع کر رہے ہیں۔
