فوستین بارگین، فوری فائدہ، دیرپا نقصان
شارق علی
ویلیوورسٹی
انسانی زندگی میں ایک بار بار دہرایا جانے والا ایک خطرناک رویہ فوستین بارگین کہلاتا ہے۔ اس اصطلاح کی جڑیں یورپی ادب میں پیوست ہیں اور اس کا تعلق افسانوی کردار فاؤسٹ سے ہے، جسے جرمن ادیب Johann Wolfgang von Goethe نے اپنے شہرۂ آفاق ڈرامے Faust میں امر کر دیا۔ کہانی کے مطابق فاؤسٹ علم، طاقت اور لذت کی شدید خواہش میں ایک ایسا سودا کر لیتا ہے جس میں اسے فوری فائدہ تو حاصل ہو جاتا ہے، مگر اس کی قیمت وہ اپنی روح، اخلاق اور اندرونی سکون کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ یہی تصور آگے چل کر ایک طاقتور استعارہ بن گیا: فوری فائدہ، دیرپا نقصان۔
یہ رویہ ہمیں روزمرہ زندگی میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ کوئی طالب علم نقل کے ذریعے وقتی کامیابی حاصل کر لیتا ہے، مگر سیکھنے کی اصل صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ کوئی پیشہ ور فرد اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کر کے تیزی سے ترقی کر لیتا ہے، لیکن اعتماد اور اندرونی سکون کھو بیٹھتا ہے۔ کوئی شخص صحت اور رشتوں کو قربان کر کے بظاہر کامیابی تو حاصل کر لیتا ہے، مگر کچھ ہی عرصے بعد تنہائی اور بیماری اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ یہ سب مثالیں شورٹ سائٹڈنس، یعنی دوراندیشی کے فقدان، کی عکاس ہیں۔
یہی غلطی صرف افراد ہی نہیں کرتے، بلکہ اقوام اور سلطنتیں بھی اس کا شکار رہی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ سلطنتیں جنہوں نے صرف ایک نسل، ایک زبان یا ایک طبقے کو برتر سمجھا، انہوں نے وقتی طاقت تو حاصل کر لی، مگر ناانصافی، نفرت اور بغاوت کے بیج بھی بو دیے۔ نتیجتاً وہ عظیم سلطنتیں اندر سے کھوکھلی ہو گئیں اور بالآخر زوال کا شکار ہوئیں۔ طاقت کے یہ فوستین سودے، انسانیت کے اجتماعی نقصان پر منتج ہوئے۔
آج کی جدید دنیا میں یہی خطرہ ایک نئے روپ میں ہمارے سامنے ہے، خصوصاً ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں۔ اگر ترقی کا مقصد صرف منافع، کنٹرول اور طاقت ہو، اور انسانیت کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، تو ہم ایک عالمی فوستین بارگین کر بیٹھیں گے۔
اصل راستہ فوستین بارگین سے آگے نکلنے میں ہے. ایک ایسے ہمہ گیر انسانی نقطۂ نظر کی طرف، جہاں فیصلے طویل المدت ہوں، ترقی سب کے لیے ہو، اور انسانیت کو ہر فائدے پر فوقیت دی جائے۔ کیونکہ وہ کامیابی جو انسان کو نقصان پہنچائے، درحقیقت کامیابی نہیں، بلکہ زوال کی ایک خاموش شکل ہوتی ہے۔
